کوہاٹ،محکمہ تعلیم زنانہ کی افسران نے 2011 ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں 

کوہاٹ،محکمہ تعلیم زنانہ کی افسران نے 2011 ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کوھاٹ (سٹاف رپورٹر) محکمہ تعلیم زنانہ کی افسران نے 2011 ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں ایس ڈی ای او زنانہ کی سفارشات پر ڈسٹرکت ایجوکیشن آفیسر نے سرپلس کے نام پر 14 خواتین کو اپنی اپنی یونین کونسلوں سے باہر بھیج دیا تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم زنانہ کی ایس ڈی ای او کی سفارش پر ڈی ای او (فی میل) نے بمطابق آرڈر نمبر1754-54/Rationalization کے تحت 14 پی ایس ٹی ٹیچرز کو سرپلس قرار دیتے ہوئے ایک یونین کونسل سے دوسری یونین کونسل تبدیل کر دیا جو کہ 2011 ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے کیوں کہ پی ایس ٹی ٹیچر کی بھرتی اپنی یونین کونسل میں ہو گی اور اگر Rationalizatoin بھی کی جائے تو اس کو اپنے ہی یونین کونسل کے کسی سکول بھیجا جائے گا مگر اس آرڈر میں امبار بانڈہ جو کاغذئی یونین کونسل ہے اس میں سے ٹیچر کو محمد زئی بھیج دیا گیا اسی طرح بہادر کوٹ سے ایک ٹیچر کو گرلز پرائمری سکول کالج آبادی تبدیل کیا گیا بازید خیل سے کالج آبادی‘ سلیمان تالاب سے بہزادی چکرکوٹ‘ ڈھوک جٹ سیاب سے راز گیر بانڈہ‘ غلام بانڈہ سے توغ بالا نمبر3‘ گمبٹ سے توغ بالا نمبر1 سب سیکشن‘ اورکزئی بانڈہ سے بلی ٹنگ چلو زیارت سے کوٹ‘ زیڑا پڑاؤ سے گل حسن بانڈہ جبکہ میرباش خیل سے گرلز پرائمری سکول KDA نمبر2 تبدیل کیا ہے واضح رہے صوبائی مشیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حلقے سے 11 ٹیچرز کے تبادلے کر دیئے گئے مگر خود نہ تو مشیر ٹیکنالوجی سے مشاورت کی گئی اور نہ ان کی فوکل پرسن سے بات کرنے کی زحمت کی گئی تعلیمی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کوھاٹ‘ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ تعلیم اور مشیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ آرڈر کو فی الفور منسوخ کیا جائے واضح رہے موجودہ ایس ڈی ای او پہلے بھی اسی طرح کی شکایات پر ضلع بدر کی جا چکی ہیں۔