اراضی تنازعہ سے اقوام جندول میں شدید اشتعال

اراضی تنازعہ سے اقوام جندول میں شدید اشتعال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


جندول(نمائندہ پاکستان) جندول تحصیل ثمرباغ گاوں شینہ میں اقوام جندول نے آراضیات تنازعہ نے شدت اختیار کرلیامین شاہراہ ہرقسم ٹریفک کے بند کرکے اسسٹنٹ کمشنر اور جندول انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔۔۔  تفصلات کے مطابق سینکڑوں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقامی قومی مشران عابد خان،شاکر امان خان،اسفندیار خان، ملک حضرت خان،سعید احمد پاچا، روح اللہ شاکر،نگین خان ایڈوکیٹ و دیگر نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کے ایماء پر انتظامیہ کے اہلکار آراضیات کی پیمائش کرکے اقوام جندول کے پدری و جدی جائیداد کو سابق خان جندول کے بچوں کو حوالہ کرنا چاہتے ہیں جو کہ کسی صورت انہیں قابل قبول نہیں۔ قومی مشر مست خیل عابد خان اور اسفندیار خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مذکورہ آراضیات سینکڑوں سالوں سے اقوام شاہی خیل، مست خیل، علی بیخیل و دیگر اقوام کی جائیدادیں تھیں تاہم سابق حکمران دیر نے ان پر جبری قبضہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر سابق نواب دیر کے پاس آراضیات کے اسناد یا بائع نامہ ہو یا ان کے پاس کوئی ٹھوس ملکیتی ثبوت ہو تو قوام جندول کے پاس آکر ثبوت پیش کریں۔ان کا کہنا تھا کہ سابق حکمران دیر ضلع دیر پائین کا رہائشی نہیں تھا بلکہ ضلع دیر بالا سے اس نے جندول کے آراضیات پر قبضہ جمالیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر پہلے فریقین کو طلب کرکے ان سے آراضیات کی حدودات اور اثبات ثبوت طلب کریں اس کے بعد اقدام اٹھائیں۔مقامی عمائدین نے کہا کہ مذکورہ آراضیات اب سابق سٹیٹ ملازمین اور مقامی اقوام کے زیر قبضہ ہیں تاہم حکومت قوم پر ایک خاص شخص کو ترجیح دیکر علاقہ میں خونریزی برپاں کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے دوبارہ انتظامیہ کے اہلکاروں یا پٹواریوں کو بھیجا تو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ داری موجودہ انتظامیہ کے افسران پر ہوگی۔تا اہم اسسٹنٹ کمشنر نے مشران اقوم جندول کو اپنے دفتر بلا کر مسلہ حل کرانے کی یقین دہائی کیں۔