کوہاٹ،شکردہ میں کھلی کچہری،مسائل کے انبار 

کوہاٹ،شکردہ میں کھلی کچہری،مسائل کے انبار 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کوھاٹ (سٹاف رپورٹر) شکردرہ کھلی کچہری میں ضلعی آفیسر محکمہ تعلیم کی سچی اور کھری باتیں‘ سابقہ وزیر قانون برہم ہو گئے شہریار آفریدی نے معاملہ سلجھا دیا تفصیلات کے مطابق شکردرہ کھلی کچہری میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے سوال کیا کہ کلاس فور کی بھرتیوں میں میرا کوئی کوٹہ کہاں جاتا ہے جس پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے کہا کہ کلاس فور کی بھرتیوں میں ایم این اے کا کوئی کوٹہ نہیں ہوتا البتہ پالیسی کے مطابق ایم پی ایز سے مشاورت کی جاتی ہے انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں کلاس فور کی بھرتیوں میں تمام قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے دوران سروس فوت ہونے والے ملازمین یا میڈیکل گراؤنڈ پر ریٹائر ہونے والے ملازمین کے بچوں کو کوٹے کے مطابق بھرتی کیا گیا ہے اقلیت سے تعلق رکھنے والے ملازمین اپنے کوٹے پر جبکہ معذور افراد کو ان کے کوٹے کے مطابق بھرتی کیا گیا ان کوٹوں میں سابقہ وزیر قانون امتیاز قریشی کا بھانجا یا بھانجی بھی شامل ہے ضلعی آفیسر محکمہ تعلیم کی بات سن کر امتیاز قریشی سخت طیش میں آ گئے اور ایجوکیشن آفیسر سے الجھ گئے کہ مجھے اس بھانجے یا بھتیجے کا نام بتایا جائے کھلی کچہری کا ماحول خراب ہوتے دیکھ کر شہریار آفریدی نے سب کو خاموش کروایا اور کہا کہ سرکاری افسران جو یہاں پر ہماری دعوت پر آئے ہیں وہ ہماری عزت ہیں محکمہ تعلیم کے ضلعی سربراہ نے واضح کیا کہ اگر کسی کو ان بھرتیوں پر کوئی شک یا شبہ ہے تو عدالت کے دروازے کھلے ہیں اگر ہم نے غلط کام کیا ہو گا تو عدالت ہمیں اس کی سزا دے گی اس سے قبل امتیاز قریشی نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کو بتایا کہ رحمان آباد اور شکردرہ کے ہائیر سیکنڈری سکول پرنسپل کے بغیر چل رہے ہیں جبکہ متعدد سکولوں میں اساتذہ کی بھی کمی ہے اس حوالے سے شہریار آفریدی نے اسسٹنٹ کمشنر کوھاٹ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو سوموار کے دن تک انہیں تمام رپورٹ پیش کرے گی شہریار آفریدی نے کلاس فور کی بھرتیوں میں مبینہ طور پر رقم لینے والے حرام خوروں کو سامنے لانے کی تاکید کی۔