امریکہ نے خشو گی قتل کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی، 76سعودی شہریوں پر ویزا کی پابندی عائد، بائیڈن کا شاہ سلمان سے رابطہ 

امریکہ نے خشو گی قتل کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی، 76سعودی شہریوں پر ویزا کی ...

  

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) امریکا نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی قتل رپورٹ جاری کرنے کے بعد سعودی شہریوں پر پابندی لگادی۔امریکا کی جانب سے جاری خفیہ رپورٹ 2 سال پرانی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کو پکڑنے یا قتل کرنے کیلئے ترکی کے شہر استنبول میں آپریشن کی منظوری دی۔اب اس رپورٹ کے بعد امریکا نے سعودی شہریوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا نے 76 سعودی شہریوں پر ویزہ کی پابندیاں عائد کردی ہیں تاہم فوری طور پر پابندی کا شکار افراد اور پابندیوں سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس سے قبل امریکی صدر  جوبائیڈن نے معمول سے زیادہ تاخیر کے بعد بالآخر سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرلی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس کی جو تفصیل جاری کی ہے اس میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کا ذکر نہیں تھا۔۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے دیرینہ حلیف سعودی عرب سے روایتی تعلقات کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کے پریس ترجمان الگ الگ بریفنگ میں صدر اور وزیر خارجہ کی طرف سے واضح کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی انیٹلی جنس کی تفتیش پر مکمل اعتماد ہے۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ رپورٹ کو درست قرار دیتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کو قتل کا مجرم گردانتی  ہے۔ ایک امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ کے کالم نگار اور امریکہ میں مقیم سعودی نژاد صحافی جمال خشوگی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں 2اکتوبر 2008 ء کو اس وقت قتل کردیا گیا تھا جب وہ اپنی شادی کیلئے دستاویزات کے حصول کیلئے وہاں گیا تھا۔ ولی عہد محمد سلمان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی کہ اسے قتل کرنے والی ٹیم کے وہ انچارج تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے قتل نہیں کرایا بلکہ تفتیش کیلئے جانے والی ٹیم نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے یہ جرم کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے سرکاری بیان میں امریکہ اور سعودی عرب کے سربراہوں کے درمیان بات چیت میں صرف رسمی سفارتی معاملات کا معمول کے مطابق اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں سربراہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طویل مدت کی شراکت داری کو برقرار رکھنے کا عہد کیا گیا اور انہوں نے علاقائی سلامتی پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں یمن میں جنگ کے خاتمے کے بارے میں اقوام متحدہ اور امریکہ کی نئی پالیسی بھی شامل تھی۔ امریکہ نے سعودی عرب کو یقین دلایا کہ وہ اس کی سرزمین کو ایران سے منسلک گروہوں کی دہشت گردی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ صدر بائیڈن نے مثبت انداز میں نوٹ کیا کہ سعودی عرب نے سعودی امریکن سوشل ورکرز کو رہا کردیا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -