حکومت الیکشن کمیشن کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریگی، وزیراعظم نے منظوری دیدی، ثابت ہو گیا حکمرانوں نے چور ی کی: مریم نواز، نواز شریف

  حکومت الیکشن کمیشن کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریگی، وزیراعظم نے ...

  

 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) حکومت نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ضمنی الیکشن کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے قانونی لائحہ عمل کی منظوری دے دی ہے۔ انتظامی افسروں کیخلاف کارروائی کیخلاف بھی پٹیشن دائر ہوگی۔ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں معاون خصوصی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، علی ظفر ایڈووکیٹ اور علی اسجد ملہی بھی شریک ہوئے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم سے ون آن ون بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈسکہ کے ضمنی انتخاب بارے وزیراعظم کو بریف کیا گیا۔ قانونی ٹیم نے وزیراعظم کو آئندہ لائحہ بارے مشورہ دیا۔قانون ٹیم کی رائے کی روشنی اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد حکومت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چینلج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ میں دو پٹیشنز دائر کی جائیں گی۔ ایک پٹیشن میں الیکشن کمیشن کے دوبارہ انتخاب کو چیلنج کیا جائے گا جبکہ دوسری پٹیشن میں آفیسرز کے خلاف کارروائی کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا جائے گا۔قانونی ٹیم کی جانب سے وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو آفیسرز کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔

حکومت فیصلہ

لندن،اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ تم نے چوری کی ہے۔اپنے بیان میں مریم نواز نے پنجاب حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے فیصلے پر تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ ووٹ چوری میں ملوث افسران کو بچانا ثابت کرتا ہے چوری تمہارے کہنے پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ  دوبارہ الیکشن سے فرار ثابت کرتا ہے کہ تم جانتے ہو عوام تمہاری ضمانتیں ضبط کرائے گی، اللّہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ  ڈسکہ   ضمنی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن   کا  فیصلہ  قانون کی پاسداری ہے،    قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے آئین شکن  عناصر کا قلع قمع کئے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے،یہ تحقیق 18مارچ کو ڈسکہ میں  دوبارہ   انتخابات بھی زیادہ ضروری ہے۔  سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ این اے75ڈسکہ کے ضمنی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ووٹ چوری کے کرداروں کی نشاندہی،سزاؤں کا تعین اور انصاف پر مبنی فیصلہ عین قانون کی پاسداری ہے،الیکشن کمیشن نے جرات و بہادری کے ساتھ بکسہ چوروں کو سزائیں سنائیں،ہمارا مطالبہ ہے کہ قوم جلد از جلد ان سزاؤں پر عملدرآمد ہوتا ہوا دیکھے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا سراغ لگایا جانا چاہئے کہ یہ سازش کس نے کی اور کہاں تیار کی گئی اور کب تیار کی گئی،چیف سیکرٹری پنجاب،آئی جی پنجاب،کمشنر،آر پی او اور پھر ڈپٹی کمشنر،ڈی ایس پی،پریزائیڈنگ افسران اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی فوج ظفرموج کو ایک ہی صف میں کس نے کھڑا کروایا۔انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے اور اس جماعت کی کس نے سرپرستی کی اور ووٹ چوری کی نگرانی کس نے کی،یہ تحقیق 18مارچ کو ڈسکہ میں ہونے والے دوبارہ مکمل ضمنی انتخابات بھی زیادہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کا الیکشن بہت سارے رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے،جس طرح سے یہاں چوری کی گئی2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا یہ کھلا ثبوت ہے،یہ بتاتا ہے کہ دھاندلی ایسے ہوئی تھی۔نوازشریف نے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جب الیکشن کے نتائج آنا بند ہوجائے یا اس میں تاخیر ہونا شروع ہوجائے تو سمجھ لیا جائے کہ آپ کا ووٹ کہیں نہ کہیں چوری ہورہا ہے اور کوئی آپ کے ووٹ کو کسی اور کے بکس میں ڈال رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ان تمام آئین شکن عناصر تک پہنچنا ہے جو قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں،ان عناصر کا قلع قمع کئے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے انشاء اللہ،میرا قوم کے ساتھ یہ وعدہ ہے اور قوم بھی دل سے وعدہ کرے کہ وہ بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے،جب تک ان چوروں کو ملک سے ختم نہیں کردیا جاتا

مریم نواز

مزید :

صفحہ اول -