پنجاب میں پی پی،(ن) لیگ کے درمیان مک مکا ہوا، سینیٹ الیکشن کی منڈی پنجاب سے اسلام آباد منتقل ہو گئی: فردوس عاشق

  پنجاب میں پی پی،(ن) لیگ کے درمیان مک مکا ہوا، سینیٹ الیکشن کی منڈی پنجاب سے ...

  

 لاہور(این این آئی)پنجاب میں سینٹ الیکشن پر پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان مک مکا ہوا ہے۔  پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے الیکشن شیڈول کے مطابق عملدرآمد کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تاہم بلدیاتی انتخابات کو لین دین کے کلچر سے بچانے کے لئے اوپن بیلٹنگ اور دیگر اصلاحات زیرغور ہیں۔ سینٹ الیکشن میں چھترا منڈی پنجاب سے بند ہو کر اسلام آباد منتقل ہو گئی ہے۔ بلاول اور جعلی راجکماری کے ہاتھوں وہاں اس چھترامنڈی کا افتتاح ہو چکا ہے جہاں دونوں پارٹیاں آپس میں ایڈجسٹمنٹ کر رہی ہیں۔ لاہور میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے  سے پاکستان کی معیشت میں 1300 ارب  شامل ہوں گے  جبکہ حکومت کو 250 ارب روپے ٹیکس ملے گا۔لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ شروع کیا ہے۔یہ بات معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے ایوان وزیراعلیٰ میں میڈیا کو وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اپوزیشن والے کرپشن کے کنویں کے مینڈک ہیں۔ انہیں سیاست میں کرپشن کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔یہ لوگ اقتدار میں آنے کیلئے کرپشن سے کمایا ہوا مال لگاتے ہیں اور پھر اقتدار میں آکر مزید کرپشن کرتے ہیں۔ اقتدار پر قبضے کیلئے دو جماعتوں نے میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلا۔۔ مگر عوام نے اقتدار کی کرسی پر عمران خان کو موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت سے نکلنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان حالات کے مطابق معاشی نظام میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائے گئے میکنزم پر موثر طریقے سے عملدرآمد پر زور دیا ہے۔صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ن لیگ نے آج تک کوئی سچ نہیں بولا۔ ن لیگی رہنماؤں نے جھوٹ کی فیکٹریاں لگائی ہوئی ہیں جہاں جھوٹ سازی سے نسخے تیار کر کے ان کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کے پاس ووٹ نہیں وہ نوٹوں کا استعمال کر کے اپنا بدبودار بیانیہ لے کر سینٹ کے دروازے پرکھڑے لوگوں کو اندر بھیجنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین اسلام آباد میں محبت اور پیار کی جپھیاں چلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف موجود لوگ نوٹوں کی گٹھیاں چلا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا پہلے دن سے موقف ہے کہ صاف شفاف الیکشن اس ملک کی بنیادی ضرورت ہے مگر جب اس حوالے سے الیکشن اصلاحات کا وقت آیا تو اپوزیشن نے نیب سے بارگیننگ کی شقیں شامل کرا دیں۔ لیکن عمران خان نے گیدڑوں کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن کے بعد یقینا سینٹ میں پی ٹی آئی کو اکثریت مل جائے گی جس کے بل بوتے پر ہماری جماعت ووٹ کے تقدس کی بحالی یقینی بنانے کے لئے قانون سازی کرے گی۔ تاہم اپوزیشن نے تعاون نہ کیا تو انتخابی اصلاحات کا خواب پورا نہیں ہو گا۔

فردوس عاشق

مزید :

صفحہ اول -