قطر اور پاکستان میں ایل این جی کی قیمت میں کمی پر اتفاق

 قطر اور پاکستان میں ایل این جی کی قیمت میں کمی پر اتفاق

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قطر اور پاکستان کے درمیان ایل این جی کی قیمت میں کمی پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔قطری حکومت ایل این جی کی قیمت 11 ڈالر فیMMBTسے کم کرکے9 ڈالر کرنے پر رضامند ہوگئی ہے جس سے پاکستان کو2 ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم کی بچت ہو گی، اس حوالے سے معاہدہ کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا،پاکستان اور قطر کے درمیان 2016 ء میں ایل این جی کی فراہمی کا 15 سالہ معاہدہ ہوا تھا جس کی مالیت 15 ارب ڈالر سے زائد تھی، وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورہ قطر کے دوران امیر قطر سے اس معاہدے پر نظر ثانی کرنیکی درخواست کی تھی جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس معاہدہ پر نظر ثانی کیلئے متحرک رہے اور انہوں نے پس منظر میں رہتے ہوئے اہم ترین کردار ادا کیا۔چیف آف آرمی سٹاف کے کچھ عرصہ قبل دورہ قطر کے دوران امیر قطر سے ملاقات میں قطری حکومت نے ایل این جی کی قیمت پر نظر ثانی پر رضامندی ظاہر کردی تھی جس کے نتیجہ میں معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق قیمتوں میں کمی کے نتیجہ میں پاکستان کو 2 ارب ڈالر کے لگ بھگ بچت ہو گی جو ایک بہت بڑا معاشی فائدہ ہے، سفارتی حلقوں کے مطابق اس نئے معاہدے سے پاکستان اور قطر کے برادرانہ تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہوگی۔

ایل این جی 

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ندیم بابر نے کہا ہے کہ قطر کے ساتھ ایل این جی کادس سال کا معاہدہ کیا گیا ہے معاہدے میں کافی ترامیم کی ہیں قیمت کے حوالے سے 4 سال بعد معاہدے کی تجدید ہوسکتی ہے قطرگیس کمپنی پاکستان کو ایل این جی فراہم کرے گی  اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا جس پر وزیر توانائی عمر ایوب اور قطر کے ہم منصب نے دستخط کیے معاہدے کے تحت قطر گیس کمپنی پاکستان کو ایل این جی فراہم کرے گی، اس ضمن میں قطر پاکستان کو 10 سال کیلئے 3 ملین ٹن ایل این جی فراہم کرے گا قطر کے ساتھ نیا معاہدہ 10.2 فیصد برینٹ پر کیا گیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن حکومت کا معاہدہ 13.37 خام تیل پر کیا گیا۔ندیم بابر نے کہا کہ مہنگی ایل این جی کے معاہدوں کو 31 فیصد سستے معاہدوں سے بدل رہے ہیں، نئے ایل این جی معاہدے سے اقتصادی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، قطر سے معاہدہ 10 سال کیلئے کیا گیا ہے نئے معاہدے کے تحت قیمت پر 4 سال بعد دوبارہ بات چیت کی جا سکتی ہے جبکہ 15 سالہ معاہدے میں قیمت پر دوبارہ بات چیت 10 سال بعد ہوسکتی ہے 

ندیم بابر

مزید :

صفحہ اول -