بعض نجی میڈیکل کالجز نے اپنی سیٹین بولی کیلئے رکھی ہوئی ہیں، پشاور ہائیکورٹ 

بعض نجی میڈیکل کالجز نے اپنی سیٹین بولی کیلئے رکھی ہوئی ہیں، پشاور ہائیکورٹ 

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا ہے کہ ہمیں رپورٹس مل رہی ہیں کہ بعض نجی میڈیکل کالجز نے اپنی سیٹیں بولی کیلئے رکھی ہوئی ہیں اور وہ داخلہ فیس کیساتھ ساتھ ڈونیشن کے نام پربھی پیسے بٹورنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عدالت نے میڈیکل کالجز میں داخلوں سے متعلق دائر رٹ پر ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کوبھی حکم دیا ہے کہ وہ 3مارچ کو عدالت کے سامنے پیش ہوکر نجی میڈیکل کالجوں کی صورتحال سے متعلق آگاہ کرے،پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان پر مشتمل دورکنی بنچ نے لائبہ جاوید وغیرہ کی رٹ درخواستوں پر سماعت کی جس میں وزارت صحت، سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا،پاکستان میڈیکل کمیشن، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی وغیرہ کو فریق بنایاگیا ہے۔دوران سماعت انکے وکیل وسیم الدین خٹک نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل ایم بی بی ایس اوربی ڈی ایس میں داخلہ چاہتے ہیں تاہم حکومت نے ایڈمیشن ریگولیشنز ترمیمی ریگولیشنز2020-21جاری کی جسکے تحت پرائیویٹ میڈیکل ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے انٹرویو کے 20فیصد نمبر رکھے گئے ہیں،انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ اقدام آئین وقانون کیخلاف ہے کیونکہ پبلک میڈیکل ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے انٹرویو کے نمبر نہیں رکھے گئے تاہم ایسا اس لئے کیاجارہا ہے تاکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں منظور نظرافراد کو فائدہ پہنچایاجاسکے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ نہ صرف ماورائے آئین ہے بلکہ بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ خیبرپختونخوا میں صرف 6ڈینٹل اور 10میڈیکل کالجز ہیں جو صوبے کے ایک بڑی آبادی کیلئے پہلے ہی کم ہے جبکہ دوسری طرف دیگر صوبوں کے طلبہ کو بھی یہاں ان کالجز میں داخلے دیئے جارہے ہیں لہذاانہوں نے صوبے کے میڈیکل کالجز کو صرف خیبرپختونخوا کے طالبعلموں تک محدود کرنے اور نجی میڈیکل کالجز کیلئے نئے رولز کو کالعدم قراردینے کی استدعا کی۔دوسری جانب دورکنی فاضل بنچ نے قراردیا ہے کہ رپورٹس مل رہی ہیں کہ کچھ میڈیکل کالجز نے عملا سیٹیں اوپن سیل کیلئے رکھی ہوئی ہیں جس میں خواہشمند حضرات سے لاکھوں روپے لئے جارہے ہیں۔ انہوں نے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت 3مارچ کو وہ خود عدالت میں پیش ہوں تاکہ وہ عدالت کو بتاسکیں کہ میڈیکل کی تعلیمی اداروں میں کیا صورتحال ہے۔ 

مزید :

صفحہ اول -