سپریم کورٹ آف پاکستان کی تین رکنی بینچ  نے غیر قانونی بھرتیوں پر سندھ ہائیکورٹ  کے رجسٹرار سے رپورٹ طلب کرلی

سپریم کورٹ آف پاکستان کی تین رکنی بینچ  نے غیر قانونی بھرتیوں پر سندھ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (خصوصی رپورٹ)سپریم کورٹ آف پاکستان کی تین رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ اور اس کی ماتحت عدلیہ میں تقریباً(3000) سے زائد غیر قانونی  بھرتیوں پر سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار سے رپورٹ طلب کرلی،سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں سینئر وکیل غلام سرور قریشی  نے اپنے وکیل خواجہ شمس لااسلام کے توسط سے پیٹیشن نمبر 6/2020 اورپٹیشنر  محمد عامر نے اپنے وکیل محمد عمر لاکھانی کے توسط سے پیٹیشن نمبر 8/2020 داخل کی تھی پٹیشنز  میں موقف اختیار کیا گیا ہے کے سندھ ہائی کے موجودہ چیف جسٹس احمد علی شیخ نے اپنی تعیناتی کے دوران اپنے من پسند اور  خاص طبقے کے لوگوں کو غیر قانونی طریقوں سے بغیر این ٹی ایس(NTS) بھرتی کیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک اسپیشل بینچ 3 تشکیل دیا تھا جس کی سربراہی مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن، عمرعطا بندیال اور مظہر عالم خان میاں خیل نیکی اور بینچ نے سندھ ہائی کورٹ  سمیت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس،کنزیومر کورٹس، اے ٹی سی  کورٹس، اسپیشل کورٹس، ٹربیونلز  میں بھی  بھرتی ہونے والے تقریباً تین ہزار (3000) غیر قانونی بھرتی ہونے والیکورٹ اسٹاف، ڈھائی سو سول ججز، اے ڈی جیز اور کلیریکل اسٹاف کے غیر قانونی بھرتیوں پر سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے 15 یوم میں مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے۔ذمیدار ذرائع کے مطابق پٹیشنرز کے وکلاء نے عدالت کو سندھ ہائی کورٹ کے سابق رجسٹرار غلام رسول سمّوں کے بارے میں بتایا کے سابق رجسٹرار نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے دو سگے بیٹوں سمیت اپنی سموں برادری  کے درجنوں رشتے داروں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا تھا جس میں بغیر این۔ ٹی۔ایس کے اور اپنی میں پسند IBA Sukkur   کیذریعے بھرتی ہونے والے250 سول ججز اور کلیرکل اسٹاف بھی شامل ہیں۔جس میں 95 فیصد بھرتی ہونے والوں کا تعلق ایک مخصوص طبقے سے ہے جو کے اکثریت میں تعلق لاڑکانہ سے ہے۔سابق رجسٹرار غلام رسول سموں کی غیر قانون بھرتیوں کو چھپانے کے لئے حیدرآباد ٹرانسفر کردیا گیا۔ذمیدار ذرائع?ہتے ہیں کے سابق رجسٹرار نے اپنی پرانی روایت پے چلتے ہوئے حیدرآباد میں اپنے اختیارات  کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ غیر قانونی بھرتیوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ سے 15 دن میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

مزید :

صفحہ آخر -