’مجھے نہیں پتہ کہ امن کیسے ہوگا لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ امن ہونا چاہیے، کشمیریوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ۔۔۔‘ ابھی نندن کا 2 سال بعدوہ ویڈیو بیان سامنے آگیا جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا تھا

’مجھے نہیں پتہ کہ امن کیسے ہوگا لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ امن ہونا چاہیے، ...
’مجھے نہیں پتہ کہ امن کیسے ہوگا لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ امن ہونا چاہیے، کشمیریوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ۔۔۔‘ ابھی نندن کا 2 سال بعدوہ ویڈیو بیان سامنے آگیا جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا تھا
سورس:   Screen Grab

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں 27 فروری 2019 کو پکڑے گئے بھارتی فضائیہ کے آفیسر ونگ کمانڈر ابھی نندن کا نیا بیان سامنے آگیا ہے۔ اس بیان میں ابھی نندن نے امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاک فوج بہت ہی پروفیشنل ہے جس کے حسنِ سلوک نے اسے بہت متاثر کیا ہے۔

ابھی نندن کا آج جو بیان سامنے آیا ہے وہ گزشتہ دو سال سے منظر عام پر نہیں آیا تھا۔ اس بیان میں ابھی نندن کو تفصیل کے ساتھ  پاک بھارت تعلقات ، مسئلہ کشمیر اور امن کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔  ابھی نندن نے کہا ’پیرا شوٹ سے نیچے آتے ہوئے دونوں ملک دیکھے،  اوپر سے مجھے دونوں ملکوں میں فرق کا پتہ نہیں چلا، دونوں ایک جیسے ہی خوبصورت ہیں، جب نیچے گرا تو پتہ ہی نہیں چلا کہ میں پاکستان میں ہوں یا اپنے دیس بھارت میں ہوں،کیونکہ  دونوں ملک اور دونوں  ملکوں کے لوگ ایک جیسے ہی لگے۔‘

ابھی نندن کے مطابق جب وہ پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر لینڈ ہوا تو اسے کافی گہری چوٹ لگی تھی اور وہ ہل نہیں پا رہا تھا، پہلے اس نے  یہ جاننے کی کوشش کی کہ  وہ کس ملک میں ہے ،’پھر پتہ چلا کہ اپنے ملک میں نہیں ہوں تو بھاگنے کی کوشش کی جس کے بعد کچھ لوگ میرے پیچھے آئے جو بہت ہی پرجوش تھے اور وہ چاہتے تھے کہ وہ مجھے پکڑ لیں۔ اسی وقت پاکستانی آرمی کے دو جوان آئے  اور انہوں نے مجھے پکڑ کر لوگوں سے بچایا، ان میں ایک پاکستان آرمی کے کپتان تھے، وہ مجھے اپنی یونٹ تک لے کر گئے جہاں ابتدائی طبی امداد  دی گئی اور پھر ہسپتال لے جایا گیا جہاں مزید معائنہ اور طبی امداد مہیا  کی گئی، تب سے میری  خوب خاطر مدارت کی گئی ۔‘

ابھی نندن کا کہنا تھا ’کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے وہ نہ مجھے پتہ ہے اور نہ ہی آپ کو پتہ ہے، ہمیں اس بارے میں امن کے ساتھ سوچنا چاہیے، پاک فوج بہت ہی زبردست اور پروفیشنل ہے، میں پاکستانی فوج کے رویے سے بہت متاثر ہوا ہوں، لڑائی تب ہوتی ہے جب امن نہیں ہوتا، مجھے یہ نہیں پتہ کہ امن کیسے لایا جائے لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ امن ہونا چاہیے، مجھے کسی قسم کی کشیدگی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، میں یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے دونوں دیسوں میں امن رہے اور ہم امن میں رہ سکتے ہیں۔‘

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -دفاع وطن -