’جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے باوجود محمد بن سلمان کے خلاف جوبائیڈن کارروائی کی ہمت نہیں کریں گے‘ تہلکہ خیز دعویٰ

’جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے باوجود محمد بن سلمان کے خلاف ...
’جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے باوجود محمد بن سلمان کے خلاف جوبائیڈن کارروائی کی ہمت نہیں کریں گے‘ تہلکہ خیز دعویٰ

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) نئی امریکی حکومت کی طرف سے عندیہ دیا گیا تھا کہ وہ ترکی میں واقع سعودی سفارتخانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو قرار دے گی اور ان کا نام انٹیلی جنس رپورٹ میں جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دینے والے شخص کے طور پر درج کرے گی لیکن اب نیویارک ٹائمز سے وابستہ سینئر صحافی ڈیوڈ ای سینگر نے ایسا دعویٰ کر دیا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن ایک بار پھر مایوس ہو جائیں گے۔

 نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں ڈیوڈ ای سینگر نے لکھا ہے کہ صدر جوبائیڈن بھی اپنے پیشرو ڈونلڈٹرمپ کی طرف دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ آنے کے خوف سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔

ڈیوڈ ای سینگر نے جوبائیڈن انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”صدر جوبائیڈن نے فیصلہ کر لیا ہے کہ امریکہ کو چونکہ براہ راست شہزادہ ولی عہد کو سزا دینے کی بہت بڑی سفارتی قیمت چکانی پڑے گی لہٰذا وہ ان کے خلاف جمال خاشقجی قتل کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔حالانکہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں مبینہ طور پر یہ بتایا جا چکا ہے کہ شہزادہ محمد نے براہ راست جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دی تھی، جس کے بعد جمال خاشقجی کو سفارتخانے میں قتل کرکے ان کے جسم کے ٹکڑے کرکے ٹھکانے لگا دیئے گئے اور آج تک ان کی لاش بھی برآمد نہیں ہو سکی۔“

ڈیوڈ ای سینگر لکھتے ہیں کہ ”اپنی صدارتی مہم کے دوران جوبائیڈن نے سعودی عرب کو ایسی مسترد شدہ ریاست  قرار دیاجس میں کسی غلطی پر پچھتاوے اور ازالے کی کوئی سماجی روایت نہیں پائی جاتی۔جوبائیڈن کے صدر بننے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کو امید بندھی تھی کہ اب جمال خاشقجی قتل کیس میں کوئی پیشرفت ہو گی لیکن جوبائیڈن انتظامیہ کے اس فیصلے نے بھی ان کارکنوں کو مایوس کر دیا ۔ صدر جوبائیڈن نے شہزادہ محمد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ اپنی نئی نیشنل سکیورٹی ٹیم کے مشورے پر کیا۔نیشنل سکیورٹی ٹیم نے صدر جوبائیڈن کو بتایا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے یا ان کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے کہ ان کے خلاف کارروائی بھی ہو جائے اور امریکہ کے کلیدی عرب اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی متاثر نہ ہوں۔سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور ایران کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے، اگر امریکہ سعودی ولی عہد کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو سعودی عرب اس کردار سے پیچھے ہٹ سکتا ہے جو کہ اس کارروائی کی بہت بھاری قیمت ہو گی۔“

مزید :

بین الاقوامی -