قومی صحت کارڈ کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا طرہ امتیاز

قومی صحت کارڈ کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا طرہ امتیاز
قومی صحت کارڈ کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا طرہ امتیاز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


چاچا رفیق گزشتہ دنوں پارک میں چلتے چلتے گر گیا سوسا ئٹی  کے لڑکوں نے سہارا دیا اور گاڑی میں بٹھا کر نزدیکی ہسپتال پہنچایا اور ان کے گھر والوں کو اطلاع کردی اسی دوران نجی ہسپتال کی ایمرجنسی میں ان کا علاج شروع ہوا اور مہنگے ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ان کی شریانیں بند ہیں جس کے لیے ان کا بائی پاس کیا جانا ضروری ہے اور اگر بائی پاس نہ کیا گیا تو ان کی جان کو خطرات لاحق ہوجائیں گے ان کے بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور ان کو  سرکاری ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال کی ایمرجنسی کا بل سرکاری ہسپتال میں ہونے والے بائی پاس کے خرچے سے بھی 50 گنا زیادہ تھا اس دوران میں بھی چاچا رفیق کا حال جاننے ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچا اس وقت وہ ہوش میں تھے اور نارمل نظر آرہے تھے انہوں نے میرے ساتھ گفتگو کی اور اپنی اچانک ہونے والی بیماری کا بھی بتایا تو میری بھی اس حوالے سے یہی رائے تھی کہ ان کا بائی پاس جتنی جلد ہو جائے اچھا ہے اسی کشمکش میں میرے دماغ میں خیال آیا اور میں نے ان کے بیٹے جمال سے کہا کہ اپنے والدکاشناختی کارڈ نمبر مجھے بتاؤ اس نے مجھے ڈیٹا فراہم کیا تو میں نے اسے 8500 پر میسج کردیا، جس کا فورا جواب آیارفیق اختر ولد سراج دین بطور خاندان سربراہ بمعہ 2  افرادقومی صحت کارڈ کے لئے اہل ہیں آپ کا علاج قومی شناختی کارڈ پر ہوسکتا ہے میں نے اس پیغام کو پڑھ کر جمال کو سنایا اور کہا لو بھئی تمہارے والد کے بائی پاس کا انتظام ہوگیا ہے میرے ساتھ آؤ میں ہسپتال کے انفارمیشن ڈیسک تک پہنچا اور قومی صحت کارڈ کے حوالے سے ان سے مزید معلومات لیں اس آدھ گھنٹے کی ایکسرسائز کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اسی ہسپتال میں ہی چاچا رفیق کا بائی پاس کرایا جائے، جس کے ایک روز ہ وقفے کے بعد رات کو ان کا بائی پاس آپریشن ہوا اور ان کا ایک بھی پیسہ اس آپریشن پر نہیں لگا تمام تر اخراجات قومی صحت کارڈ کے ذریعے ادا ہوئے اور آج چاچا رفیق اس قابل ہوا ہے کہ اپنے پاؤں پر چل سکے۔


قومی صحت کارڈ حکومت کا عوام کے لئے عطیہ ہے، کیونکہ صحت کا معاملہ اسٹیٹ سبجیکٹ ہے اور حکومت عوام کی صحت کی ذمہ دار ہے۔قومی صحت کارڈ کا دائرہ اب پنجاب بھر میں پھیل چکا ہے اور وزیراعظم عمران خان،وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اس پراجیکٹ کی افا دیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی حیثیت کو صوبے بھر میں نافذ کرنے کے خوایاں ہیں، جس پر روزانہ کی بنیادپر کام جاری ہے اور میں بھی اس ضمن میں اپنے موبائل سے اب تک کئی دوستوں کی رہنمائی کر چکا ہوں جو اس پرجیکٹ سے مستفید ہورہے ہیں، جن میں ایک کیس چاچا رفیق کا بھی تھا۔


صحت کارڈ ریاست مدینہ کی جانب بڑا قدم ہے، صحت کے شعبہ کے لئے اتنی بڑی رقم خرچ کرنا آسان نہیں، ملکی تاریخ میں کسی سربراہ نے عوام کی صحت کے لئے نہیں سوچا، جس کے پاس پیسے ہیں وہ اپنا علاج کروا سکتا ہے، مگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس پراجیکٹ کو عوام تک پہنچانے کا عزم کررکھا ہے، جس کے لئے پی ٹی آئی حکومت کا عزم ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ہیلتھ پر سب سے زیادہ کام کیا جائے تاکہ مارچ تک پنجاب کے سو فیصد لوگوں کو نیا پاکستان قومی صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت میسر ہو جس کے بعد ہیلتھ کی سہولت کے لحاظ سے پنجاب مثالی صوبہ بن جائے گا وزیراعلیٰ عثمان بزدار  کا اپنی تقریروں میں یہ کہنا کہ عوام کے لئے ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولت ریاست مدینہ کے قیام کی طرف پہلا قدم ہے اور شعبہ صحت پر جس طرح ہم نے توجہ دی، ماضی میں ایسے نہیں ہوتا تھا، ٹھیک بات ہے، کیونکہ عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود  ہی تحریک انصاف کا  مشن ہے اور  اس سفر کو چلتا رہنا چاہئے۔ قومی صحت کارڈ سے ہسپتال میں وہ تمام علاج شامل ہیں، جن میں ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو، مگر اب ضرورت اس امر کی ہے اس پروگرام کی افادیت کوبڑھاتے ہوئے پرائیویٹ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں بھی اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے،کیونکہ سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی مریضوں کے لئے فری ہے،مگر پرائیویٹ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں مریضوں کی اچھی خاص رقم علاج کے ضمن میں خرچ ہو جاتی ہے، جس پر حکومت کو اقدامات کرنا چاہئیں تاکہ صحت کی سہولیات ایمر جنسی میں بھی عوام کو بلامعاوضہ مل سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -