لوگ ”دل عطیہ“ کرنے سے گریزاں، مہم کاغذوں تک محدود

لوگ ”دل عطیہ“ کرنے سے گریزاں، مہم کاغذوں تک محدود

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
ملتان(وقائع نگار)کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ ملتان میں دل کی پیوندکاری کا سلسلہ تاحال شروع نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ کارڈیالوجی ہسپتال ملتان کے ڈاکٹروں نے دل کی پیوندکاری کے لئے باقاعدہ ٹریننگ بھی حاصل کی تھی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سات سال گذر جانے کے باوجود بھی کسی ایک فرد نے بھی دل عطیہ نہیں کیا ہے جسکی وجہ سے یہاں دل کی پیوندکاری کا آغاز نہیں ہو سکا ہے اور ناں ہی ہسپتال انتطامیہ کی جانب سے دل عطیہ کرنے کے حوالے سے شہریوں میں آگہی مہم چلائی گئی ہے اس بارے میں سینئیر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں دل کا عطیہ(بقیہ نمبر17صفحہ6پر )
 کیا جاتا ہے لیکن یہاں یہ بات نہیں ہے کیونکہ باہر کے ممالک میں جب کسی بھی شخص کی دماغی موت واقع ہو جاتی ہے تو طبی اعتبار سے وہ نہیں بچ سکتا اور دماغی موت ہونے کی صورت میں دل کچھ دیر کام کرتا ہے اور ایسے وقت میں مریضوں کے لواحقین اپنے مریض کے دل کا عطیہ کر دیتے ہیں اور بعد میں وہ دل کسی دوسرے مریض کو ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے جس سے اسے نئی زندگی ملتی ہے اور یہاں پاکستان میں ایسی صورتحال نہےں ہے دماغی موت ہونے کے باوجود بھی لوگ موجزے کی انتظار میں ہوتے ہیں اور طبی اعتبار سے ایسے مریضوں کا زنددہ بچ جانا ناممکن ہوتا ہے اس لئے پاکستان کے لوگوں کو بھی چاہیے کہ ان کے ایسے مریض جن کی دماغی موت ہو چکی ہو وہ ان کا دل ہسپتال کو اگر عطیہ کریں تو کسی دوسرے مریض کے ٹرانسپلانٹ سے اس کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے[7:19 pm, 26/0