معاشی بد حالی کا شکار ممالک کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ، آئی ایم ایف، جی 20میں اختلافات

معاشی بد حالی کا شکار ممالک کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ، آئی ایم ایف، جی 20میں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


         واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے بڑی معشیتوں (جی 20) نے معاشی بے یقینی کا شکار ممالک کیلئیے قرض کی ری اسٹرکچرنگ پر کچھ اختلافات رکھے ہیں اور کرپٹو کرنسی پر پابندی کا آپشن ہونا چاہیے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایشیائی ممالک میں سے بھارت اس وقت جی 20 معیشتوں کی صدارت کر رہا ہے جب پڑوسی ممالک بشمول پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ اور عالمی وبا کورونا کی وجہ سے معاشی سست روی پیدا ہونے کے بعد آئی ایم ایف سے فوری قرض لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔دنیا کے سب سے بڑے دو طرفہ قرض دہندہ چین نے روان ہفتے بڑی معیشتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی قرضوں کے مسائل کی وجوہات کا منصفانہ، معروضی اور گہرائی سے تجزیہ کریں کیونکہ قرض دہندگان کی جانب سے سخط شرائط یا نقصان کو قبول کرنے کیلئے شور مچا ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر خزانہ کے بڑی معیشتوں کی صدارت کرنے کے بعد آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ پر کچھ اختلافات اب بھی ہیں مگر تمام نجی اور سرکاری قرض دہندگان کیساتھ غور و فکر سے اب ہمارے پاس عالمی خودمختار قرض دہندگان کا گروپ ہے۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہم نے ایک سیشن مکمل کرلیا ہے جس میں یہ واضح ہوا کہ ممالک کے مفاد کیلئے اختلافات کو سامنے رکھنے کا عزم موجود ہے۔تاہم دو طرفہ قرض دہندگان بشمول چین، بھارت اور جی 7 ممالک سمیت متعدد قرض دہندگان ممالک پر مشتمل پینل کا مزید تبادلہ خیال آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے درمیان اپریل میں ہونیوالے اجلاسوں کے وقت ہونے کا امکان ہے۔امریکی ٹریژری سیکرٹری نے نمائندگان کو دیے گئے انٹریو میں کہا ہم نے یقینی طور پر یہ معاہدہ کیا تھا یہ مفید فورم ہے اور ہم اس میں شرکت کے منتظر ہیں۔بڑی معیشتوں کے درمیان ہونیوالے اجلاس میں قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے علاوہ کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے پر بھی بات کی گئی جو کہ بھارت کیلئے ترجیح کا مرکز ہے جس پر آئی ایم ایف سربراہ نے اتفاق کیا۔آئی ایم ایف سربراہ نے کہا ہمیں ریاست اور مستحکم کرنسیز کی حمایت یافتہ سینٹرل بینک کی ڈجیٹل کرنسیز اور نجی طور پر جاری ہونیوالی کرپٹو کرنسیز کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ کرپٹو کرنسیز کی ریگولیشن کیلئے بہت سخت دباؤ درکار ہوگا اور اگر ریگولیشن ناکام ہوجاتی ہے اور اگر آپ اسے چلانے میں سست ہیں تو پھر ہمیں ان اثاثوں پر پابندی لگانا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے مالی استحکام کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔تاہم امریکی محکمہ ٹریژری کے سیکرٹری نے کہا انہوں نے کرپٹو کرنسیز پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنی کی تجویز نہیں دی لیکن ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی ضروری ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے کئی برس اس بات پر بحث کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کیا جائے یا اس پر پابندی عائد کی جائے مگر ابھی تک کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچے۔بھارتی ریزرو بینک نے کہا کرپٹو کرنسیز پر پابندی عائد کرنی چاہیے کیونکہ وہ پونزی اسکیم کی طرح ہیں۔رواں ہفتے جمعرات کو آئی ایم ایف نے نو نکات پر مشتمل ایک منصوبہ دیا کہ ممالک کو کرپٹو کرنسی کیساتھ کس طرح چلنا چاہیے جس کی ایک پوائنٹ میں کرپٹو کرنسیز کو قانونی ٹینڈر کا درجہ نہ دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -