گدون امازئی کی بچیاں جدید دورمیں بھی تعلیم سے محروم 

  گدون امازئی کی بچیاں جدید دورمیں بھی تعلیم سے محروم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
صوابی (بیورورپورٹ) ضلع صوابی کا دور افتادہ پسماندہ اور پہاڑی علاقہ گدون امازئی کی بچیاں اس جدید دور میں بھی  حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تعلیم سے کوسوں دور ہیں گرلز تعلیمی اداروں کی کمی کی وجہ سے یہاں کی بیٹیاں بوائز سکول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نظر آرہی ہیں۔ جوکہ سیاسی لیڈران کے لیے شرم سے کم نہیں ان خیالات کا اظہار پیپلز ایکشن گروپ فارایجوکیشن کے صدر فضل مولا چیرمین تحصیل کونسل ٹوپی رحیم جدون سربراہ قومی تحریک گدون لعل غفور جدون یو سی چیرمین گنی چھترہ محمد نواز یو سی چیرمین بادہ اجمیر خان یو سی چیرمین گندف محمد بلال اور سابقہ ضلعی کونسلر حاجی اجون خان جدون نے الگ الگ بیان میں ان کا کہنا ہے  کہ افسوس کا مقام ہے کہ علاقہ گدون کی بیٹیاں تعلیمی اداروں کی کمی کی وجہ سے کئی بوائز ہائی مڈل سکولز میں کو ایجوکیشن حاصل کرنے پر مجبور ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کی بچیاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے ان کی مجبوریوں پر نظر نہیں ڈالی اس وجہ سے بچیاں گورنمنٹ ہائی سکول گھبائی، مزغنڈ، گھباسنی، اور گورنمنٹ مڈل سکولز  امڑائی بالا، لیرن، پناول، کولاگر، سیری، بوری، دیول گڑھی میں پڑھ رہی ہے. محمد نواز نے کہا کہ سابقہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے 8 سال سے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اتلہ میں سائنس ٹیچر نہیں ہے جس کی وجہ سے طلبا کو سائنس کتب پڑھنے کافی دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی دفعہ حکام سے ملاقاتیں بھی کی لیکن بے سود گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول نمبر 1 اتلہ کی عمارت کسی بھی وقت گر سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگئی کیونکہ ہم نے کئی دفعہ منتخب حکمرانوں کو درخواستیں دے چکے ہیں  افسوس کا مقام ہے جب ہماری بچیاں میٹرک پاس کرلیتی ہے تو آگے گرلز تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول اتلہ اور نورو بانڈہ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ جوکہ ہم سب کے لیے باعث شرم ہے۔ یہ علاقہ سابقہ سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کا انتخابی حلقہ ہے۔ اجمیر خان نے کہا کہ حکومتوں کی ناقص پالیسی کی وجہ سے پورے گدون میں لڑائی سکیل پر 45 گرلز سکولز میں سکیل 15 کی آسامیاں خالی ہے جس کی وجہ سے ہماری بچیوں کی تعلیم ضائع ہو رہا ہے یہ پالیسی میدانی علاقوں کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے لیکن ہمارے پہاڑی علاقوں میں ناکامی سے دوچار ہے کیونکہ سکیل 15 تو دیا جاتا ہے لیکن ان سے ڈیوٹی کرانا ان پہاڑی علاقوں میں پھر مشکل ہوجاتا ہے  محمد بلال نے کہا کہ ہمارے گاؤں میں گورنمنٹ ہائی سکول میں سٹاف کی اشد کمی ہے اس کے علاوہ جو پرائمری سکول ہیں اس میں فی کلاس 100 بچے اور بچیاں پڑھنے پر مجبور ہے حالانکہ فی کلاس 40 سے زیادہ بچے اور بچیاں ایک کلاس روم میں نہیں ہونی چاہے.. رحیم جدون نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ سابقہ حکومتوں نے علاقہ گدون کیساتھ ہمیشہ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہے جوکہ ناقابل برداشت حد تک جا چکا ہے۔ پورے علاقے میں کوئی گرلز کالج نہیں جس میں ہماری بچیاں تعلیم حاصل کرسکیں۔ گرلز سکولوں کی کمی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ ہماری بچیاں سکولز نہ ہونے کی وجہ سے بوائز سکولز میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ ہماری برداشت کو نہ آزمایا جائے صوبائی اور وفاقی حکومت ہمارے ان مسائل کو جوکہ ایک انسان کی بنیادی ضرورت ہے مہیا کرے.لعل غفور جدون نے کہا کہ گدون میں اس وقت بھی گزیر سکولز اس وقت بھی کرایے کے بلڈنگ کے چھوٹے چھوٹے کمروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے. جو کہ سراسر زیادتی پر منبی ہیں. اور افسوس کہ طالبات کے لیے سکولز کی اشد کمی پائی جارہی ہیں. جو کہ ناانصافی ہے. اگر حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر سکولز کی تعمیر نہیں کر سکتے.. تو ان تمام طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کریں تاکہ ان تمام طالبات کو فیملیز سکولز تک پہچ سکے. تاکہ تمام طالبات سکون کے ساتھ تعلیم جاری رکھے سکے۔