متبادل ذرائع سے پروٹین کا حصول وقت کی ضرورت ہے، ڈاکٹر رابعہ اقبال

متبادل ذرائع سے پروٹین کا حصول وقت کی ضرورت ہے، ڈاکٹر رابعہ اقبال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(پ ر) تقریباً ایک ارب کی آبادی کے حامل جنوبی ایشیائی خطے کے کئی حصوں میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے اور مناسب نرخوں پر عدم دستیابی کو روکنے کے لیے اسٹریٹیجک اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار اسٹیم سیل پاکستان کی کنسلٹنٹ ڈائیٹشین اینڈ نیوٹریشنسٹ ڈاکٹر رابعہ اقبال نے پروٹین ڈے سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہم رائٹ ٹو پروٹین کا اعلان کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھاسب کے لیے پروٹین تک آسان رسائی‘ کی تھیم کا مقصد مکالمے اور اس مسئلے کے حل کو اجاگر کرنا ہے تاکہ شہری پروٹین کی حامل ایسی غذا کے ذرائع کے حوالے سے باخبر رہیں جو روزمرہ کی خوراک میں شامل کیے جاسکتے ہیں اور ’غذائیت کی حامل خوراک کی فراہمی' کے خواب کو حقیقت کی شکل دی جا سکے، ڈاکٹر رابعہ اقبال نے کہا کہ پروٹین ڈے ہر سال 27 فروری کو منایا جاتا ہے اور یہ ایک عالمی اقدام ہے جس کا مقصد صحت اور تندرستی کے لیے پروٹین کی اہمیت کو فروغ دینا ہے۔ اکتوبر 2022 میں پاکستان میں اشیائے خورنوش اور غذائی اجناس کی مہنگائی 36 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس سے ہمیں پروٹین سے بھرپور کھانے تک رسائی آسان بنانے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے کی مزید وجہ ملتی ہے جو کہ 2023 کے پروٹین کے دن کا موضوع بھی ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں غذائیت اور استطاعت کے فرق کو پر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب کی پروٹین تک آسان رسائی کے بارے میں بات چیت شروع کریں۔ قومی سطح پر ایک ٹھوس تبدیلی کو عمل میں لانے کے لیے پروٹین کی افادیت اور اس سلسلے میں پروٹین تک رسائی کی اہمیت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر شعور و آگاہی بیدار کرنا ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔