پاکستان میں فن رن کا کامیاب انعقاد!

پاکستان میں فن رن کا کامیاب انعقاد!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ایشین گیمز رواں سال ستمبر اکتوبر میں چین کے شہر ہانگزو میں منعقد ہونگے، گیمز میں پنتالیس ایشیائی ممالک کے پانچ ہزار کے قریب اتھلیٹس شرکت کرینگے۔ ایشیائی ممالک نے ان گیمز کے لیے بھرپور تیاریوں کا آغاز کر رکھا ہے، گیمز کی پرموشن اور ایشیائی ممالک میں ان کی آگاہی مہم کے سلسلہ میں مختلف ممالک میں فن رن کا انعقاد کیا جا رہا ہے، اسی سلسلہ میں صوبائی دارلحکومت لاہور میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور ڈیفنس سپورٹس بورڈ کے تعاون سے فن رن کا انعقاد کیا گیا۔ ڈی ایچ اے لاہور میں ہونے والی پروقار تقریب میں بڑی تعداد میں سابق اولمپیئنز سمیت سکول و کالجز کے بچے اور بچیوں نے حصہ لیا۔ اس موقع پر چھوٹے بچے اور سینئر سٹیزنز نے بھی فن رن میں شرکت کی۔ ایشین گیمز فن رن کے موقع پر پی او اے آفیشلز، او سی اے وفد کے ارکان، سابق اولمپئینز، ہزاروں طلبہ و طالبات اور ایتھلٹس نے حصہ لیا۔ فن رن کی تقریب میں پی او اے کے صدر سید عارف حسن، پاکستان میں چین کی سفیر اور ایشین گیمز کے اآرگنائزنگ سیکرٹری کا خصوسی ویڈیو پیغام نشر کیا گیا۔ تقریب میں ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا جس میں خٹک ڈانس اور دیگر فنکاروں نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے حاضرین کے دل موہ لئے۔ فن رن میں شریک تیراک بسمعہ خان، ہاکی اولمپئن شکیل عباسی، محمد ثقلین اور دوسرے اتھلیٹس کا کہنا تھا کہ فن رن کا مقصد پاکستان میں سپورٹس کلچر کو فروغ دینا ہے۔ اس طرح کے مزید ایونٹس ہونے چاہیے کیونکہ اس سے پاکستان کا سافٹ امیج پوری دنیا میں جاتا ہے۔ اتھلیٹس کا کہنا تھا کہ وہ بہتر سے بہتر ٹریننگ کر کے ایشئین گیمز میں پاکستان کے لئے میڈلز جیتنے کی کوشش کریں گے۔ بسمہ خان کا کہنا تھا کہ ایشین گیمز کی بھرپور تیاری کرنے میں مصروف ہوں، لاہور میں منعقدہ فن رن نے ہمارے جذبے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پوری کوشش ہوگی کہ اچھی سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے پاکستان کا نام روشن کروں۔ ان کا کہنا تھا کہ فن رن کے انعقاد سے پاکستان میں ایشیائی کھیلوں کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور ڈی ایچ اے انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے کامیاب ایونٹ کا انعقاد کیا۔ اولمپک کونسل آف ایشیا کے ڈائریکٹر پراجیکٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن افیرز وسام ترکمانی نے اس فن رن کو بہترین ایونٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسپلن اور انتظامات کے حوالے سے یہ فن رن بہت شاندار رہا۔ یقین ہے کہ اس فن رن کے بعد پاکستانی اتھلیٹس اپنی تیاریوں میں مزید تیزی لاکر ملک کے لیے میڈلز جیتنے کی کوشش کریں گے۔ ایشین گیمز میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ یہ ان کے پاس تیاریاں کا سنہری موقع ہے۔پاکستانی اتھلیٹس بہت باصلاحیت ہیں اور بہت آگے جانے کے اہل ہیں۔ وسام ترکمانی نے پاکستان کی زبردست میزبانی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ ان گیمز کی اچھی سے اچھی تیاری کریں تاکہ گیمز میں پاکستان کے میڈل کی تعداد بڑھ سکے۔ ماضی میں پاکستان نے ان گیمز میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ اولمپک کونس آف ایشیا کی کوشش ہوتی ہے کہ ایشین گیمز میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے اتھلیٹس شرکت کریں اور اپنے اپنے ملک کا نام روشن کریں۔ ڈی ایچ اے لاہورکے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئر وحید گل ستی کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے فن رن سے پہلے سات نیشنل چیمپئن شپ کی میزبانی کرچکا ہے۔ ایشین گیمز فن رن سب پر بازی لے گیا ہے۔ ڈی ایچ اے ہمیشہ کھیل اور کھلاڑیوں کی سپورٹ کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔ پاکستان میں کھیلوں کی ترقی کے لیے ڈی ایچ اے نے تمام کھیلوں کی نیشنل چیمپیئن شپ کرانے کی آفر دی ہے۔ کوئی بھی کھیل اپنی نیشنل چیمپیئن شپ کرائے اس میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جاے گا۔ ڈی ایچ اے میں کھیلوں کے حوالے سے جدید انفراسٹرکچر بنایا گیا ہے تاکہ ان میں ہمارے کھلاڑی کھیل کر بین الاقوامی مقابلوں کی بھرپور تیاری کر سکیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے فن رن کی میزبانی کے لیے ڈی ایچ اے کو چنا جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈی ایچ اے ڈسپلن کے حوالے اپنی مثال آپ ہے۔ وحید گل ستی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جتنا ٹیلنٹ موجود ہے اگر ان کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات مل جائیں تو پاکستان کے انٹرنیشنل میڈلز کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ڈی ایچ اے نے اسی بات کا بیڑا اٹھایا ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پی او اے کے نائب صدر شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کھیلوں کے مزید ایونٹس کا انعقاد کرکے پاکستان کا سافٹ امیچ اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ایشین گیمز کے لیے ہمارے کھلاڑیوں کی ٹریننگ جاری ہے ایسے میں اگر حکومت بھی ان کھلاڑیوں کی ٹریننگ میں انہیں سہولیات اور مالی تعاون کرئے تو اس بات میں کوئی شک نہیں ہوگا کہ پاکستان گیمز میں اچھی پوزیشن حاصل کر سکے گا۔ پاکستانی کھیلوں کی تنظیمیں اپنے محدود وسائل میں ان گیمز کی تیاری کی کوشش کرتی ہیں چونکہ سپورٹس بہت مہنگی ہو گئی ہے جس کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خالد محمود نے اولمپک کونسل آف ایشیا اور فن رن کے لیے آنے والے وسام ترکمانی اور جیان ڑو او سی اے وفد اور شرکا کی آمد کو سراہتے ہوئے اتھلیٹس کو نصحیت کی کہ وہ ایشین گیمز پر تمام تر توجہ مرکوز کردیں تاکہ میڈلز کی تعداد کو بڑھانے میں مدد ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ فن رن کے انعقاد کا مقصد بھی ایشیائی ممالک میں ایشین گیمز کی تیاریوں کو تیز کرنا اور کھلاڑیوں میں اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ 
٭٭٭


پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ہمیشہ سے ہی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایونٹس جو آئی او سی، او سی اے اور کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کے زیر اہتمام ہوتے ہیں ان میں کھلاڑیوں کی رجسٹریشن زیادہ سے زیادہ کرائی جائے۔ ڈی ایچ اے لاہور کی انتظامیہ سمیت اتھلیٹس اور آفیشلز کا شکریہ جنہوں نے پاکستان میں فن رن کے حوالے سے منعقدہ تقریب کو چار چاند لگائے۔ فن رن کے شاندار انعقاد اور بہترین ڈسپلن کے باعث نہ صرف ایشیائی ممالک بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا سوفٹ امیج متعارف ہوا ہے۔ پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک پرامن ملک ہے۔ خالد محمود کا کہنا تھا کہ کسی بھی کام کو انجام دینے کے لیے ایک اچھی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈی ایچ اے لاہور کی انتظامیہ نے فن رن کے انعقاد کے سلسلہ میں اچھے انتظامات کیے تھے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اعلٰی عہدیداران اور فن رن کے لیے بنائی گئی مختلف کمیٹیز کا بھی شکریہ جن کی انتھک محنت کی وجہ سے پاکستان میں فن رن کا کامیاب انعقاد ہوا۔ فن رن کے کامیاب اتھلیٹس میں سرٹیفکیٹ اور مہمانوں میں سوونئیر تقسیم کیے گئے۔
٭٭٭

ایشین گیمز 2023ء

تقریب میں خٹک ڈانس اور فنکاروں نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا

مزید :

ایڈیشن 1 -