میت کی بخشش قرآن بانٹنے سے ہو جائے گی؟

  میت کی بخشش قرآن بانٹنے سے ہو جائے گی؟
  میت کی بخشش قرآن بانٹنے سے ہو جائے گی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 چار سال پہلے ایک عزیز کی فوتگی ہوئی۔ دسویں کے ختم شریف پر اہل خانہ نے آئے ہوئے عزیز و اقارب میں مرحوم کے ایصال ثواب کے واسطے جزدان میں لپٹے قرآن شریف تقسیم کئے۔ قرآن پاک کی جلد اور طباعت بہت نفیس اور دیدہ زیب تھی۔ کافی بڑی تعداد میں قرآن پاک بانٹے گئے۔ جزدان بھی بہت پیارے اور اعلی کوالٹی کے تھے۔ پتہ لگتا تھا کہ مرحوم کے ثواب کے لیئے خاصی بڑی رقم خرچ کی گئی ہے۔ بس اس کے بعد تو خاندان میں یہ رسم ہی چل پڑی۔ جس کسی کا عزیز بھی فوت ہوتا وہ مرحوم کی بخشش کے لیئے اقارب میں قرآن پاک ضرور تقسیم کرتا۔ ایک صاحب نے تو حد ہی کردی جیسے ہی ان کے والد صاحب بیمار ہوئے تو انھوں نے تقسیم کرنے کے لیئے بڑی تعداد میں قرآن پاک لے کر رکھ لیئے، ہوسکتا ہے وہ سوچتے ہوں فوتگی پہ آنے والے میت کی بخشش موقع پر ہی کروا کے جائیں۔ گذشتہ سال ہمارے خاندان کے پانچ لوگ ہمیں چھوڑ گئے۔ ہر ایک کی فوتگی پر پہلے سے زیادہ دیدہ زیب قرآن پاک تحفے میں ملا۔ کچھ ملنے ملانے والوں میں تعزیت کے لیئے گئے تو وہاں سے بھی قرآن پاک کا تحفہ ملا۔ گذشتہ ایک برس کے دوران دس قرآن پاک وصول کیئے۔ پچھلے چار سالوں کے تعزیتی تحفوں کا شمار کروں تو قرآن پاک کی تعداد سترہ تک ہوجاتی ہے۔ پنج سورہ شریف اور سورہ یٰسین اس کے علاوہ ہیں۔ قرآن پاک کی تقسیم کا سلسلہ ہے کہ رکنے میں نہیں آرہا۔ ایسا لگتا ہے قرآن بانٹنے کا مقابلہ چل رہا ہے کہ کون زیادہ پیسے لگاکر مرحوم کے لیئے جنت کی ٹکٹ خریدتا ہے سمجھ نہیں آتی کیا میت کی بخشش صرف وارثین کے قرآن پاک بانٹنے، سوئم اور چہلم کی بڑی بڑی تقریبات کرنے سے سے ہو جائے گی، یا اس کے لیئے مرحوم کا اپنی زندگی میں کسی اچھے عمل کا بھی کچھ دخل ہوگا۔ 


خدارا قرآن بانٹ کر جنت کا ٹکٹ خریدنے کے چکر سے باہر نکلیں کوئی تو سمجھے کہ میت کی بخشش اس کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوگی قرآن بانٹنے یا میرے اور آپ جیسے بھرے پیٹ والے سینکڑوں لوگوں کو اکھٹا کر کے کھانا کھلانے سے نہیں لیکن افسوس یہ بات تو ملا بھی نہیں بتائے گا کہ اس سے اس کا اپنا کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے۔ 
اگر آپ کو واقعی اپنے والدین سے محبت ہے ان کے لیئے کچھ کرناچاہتے ہیں تو ان کی زندگی میں ان کا خیال رکھیں۔ ایسے ایسے والدین دیکھے ہیں جو زندگی میں بیٹوں کی شکل دیکھنے کو ترستے رہے۔ بڑے بڑے محلوں میں رہنے کے باوجود زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کو مارتے رہے۔ اچھی خوراک سے محروم رہے، ادویات کی عدم دستیابی پر تڑپتے ہوئے جان سے چلے گئے لیکن جیسے ہی وہ فوت ہوئے، بیٹوں کے دل میں ماں باپ کی محبت ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح امڈ آتی ہے، بس پھر والدین کی زندگی میں ان سے منہ موڑنے والے ان کی فوتگی پر پیسہ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔


 بڑے بڑے ہوٹلز کی بکنگ ہورہی ہے۔ نامور مقرر اور نعت خواں بلائے جارہے ہیں۔ کھانے کا بہترین انتظام، عمدہ پھل، منرل واٹر، جوس، چائے، دیدہ زیب قرآن پاک سب ایکدم ودیا۔ فوتگی پہ کسی چیز کی کمی نہیں رہنی چاہئے۔ 
سمجھ نہیں آتی یہ مرحومین سے محبت جتانے کا انداز ہے یا دولت کی نمود کرنے کا ایک نادر موقع۔ آپ کا تو پتہ نہیں لیکن مجھے آخرالذکر پہ یقین ہے۔ ورنہ محبت اور توجہ کی ضرورت تو والدین کو زندگی میں تھی۔ مرنے کے بعد فوتگی پہ جو لوازمات ہو رہے وہ ضروری نہیں صرف دکھاوا ہے۔ سوئم، چہلم یا برسی کی بڑی بڑی تقریبات کر کے رشتہ داروں کوخوش کیا جا سکتا ہے میت کو نہیں، نہ اس کا میت کو فائدہ ہوتا ہے۔والدین کو خوش کرنا ہے تو ان کی زندگی میں انھیں اہمیت دیں، انھیں وقت دیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اولاد کی ذرا سی توجہ سے ماں باپ کے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔ انھیں مہنگی چیزوں کی خواہش نہیں ہوتی۔ انھیں اولاد کی طرف سے محبت ملنے کی خواہش ہوتی ہے۔ آپ ان کی زندگی سنواریئے آخرت کی فکر وہ خود کرلیں گے۔ کہ دوسرے کی آخرت کے ذمہ دار کسی بھی صورت آپ نہیں۔ پھر بھی مرحومین کے ایصال ثواب کے لیئے کچھ کرنا ہی چاہتے ہیں تو وہ کریں جس کا زندہ لوگوں کو فائدہ ہو۔جو رقم ان شوبازیوں میں لگانی ہے وہ رقم کسی یتیم خانے میں دے دیں۔ کسی مریض کا علاج کروادیں۔ کسی غریب خاندان کو راشن ڈال دیں۔ زیادہ بڑے پیمانے پہ پیسے لگانے ہیں تو وہ رقم کسی کو کاروبار میں ڈال دیں۔ کسی مستحق کے تعلیمی اخراجات اٹھالیں۔ بیسیوں ایسے کام ہیں جن سے کسی کی زندگی آسان ہوسکتی ہے۔ یقین کریں ایسا کرنے سے بھی مرحومین کو ثواب ہی پہنچ جائے گا۔ لیکن ایسا کرے گا کوء نہیں۔ کہ قرآن بانٹنے اور سوئم چہلم کی تقریبات کرنے سے جو بلے بلے ہوگی اس کا نشہ ہی الگ ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ امرا کی دیکھا دیکھی غریب طبقہ بھی اسی نمود و نشے کا شکار ہورہا ہے۔ جو ایسا نہیں کر پاتا یا نہیں کرنا چاہتا وہ بیچارہ اور بے حس کہلاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -