کتابوں کی دنیا

  کتابوں کی دنیا
  کتابوں کی دنیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 دوستوں کی کتابیں موصول ہوتی رہیں تاہم دیگر موضوعات کی وجہ سے کالم میں ان پر اظہار خیال نہ کر سکا۔ آج میں تین کتابوں کا تعارف کرانا چاہتا ہوں میرے نزدیک یہ تینوں کتابیں اپنے موضوعات کے لحاظ سے انفرادیت کی حامل ہیں۔ کلیم احسان بٹ کی مرتب کردہ کتاب ”غالب سرائی“ عامر شہزاد صدیقی کی کتاب نادراتِ ملتان“ اور رضی الدین رضی کی ”کالم ہوتل بابا کے“ میرے سامنے موجود ہیں اور ان کا تنوع مجھے متاثر کر رہا ہے فی زمانہ کتاب لکھنا یا مرتب کرنا اور پھر اسے شائع کروانا واقعی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس لئے شائع ہونے والی کتابوں کی پذیرائی از حد ضروری ہے۔


پروفیسر کلیم احسان بٹ آج کل گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج جلا پور جٹاں ضلع گجرات کے پرنسپل ہیں۔ اُردو کے استاد ہیں اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو گولڈ میڈل کے ساتھ پاس کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ غالب سرائی ان کی تازہ کتاب ہے۔ اسد اللہ خان غالب اردو کا ایک ایسا ادبی کردار ہیں جن کے بغیر اردو کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ شاعری اور نثر دونوں میں غالب نے ادب پر بڑے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔ غالب پر بلا شبہ اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ کلیم احسان بٹ نے غالبیات کے ضمن میں ایک اچھوتا کام کیا ہے انہوں نے غالب پر اب تک لکھی گئی منظومات کو بڑی محنت سے اکٹھا کر کے ”غالب سرائی“ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ برصغیر پاک و ہند کے شاعروں نے غالب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا مگر یہ کام اتنا بکھرا ہوا ہے کہ اسے ایک جگہ جمع کرنا بڑا وقت طلب کام ہے۔ کلیم احسان بٹ نے نہ صرف اس کا بیڑہ اٹھایا بلکہ اسے احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک بھی پہنچا کر دم لیا۔ اس کتاب میں انہوں نے جو پیش لفظ لکھا ہے، اسے پڑھ کر بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اسی کتاب کو مرتب کرنے کے لئے تحقیق کی کن پنہائیوں سے گزرنا پڑا ہے۔ شاعروں کے انتخاب کے لئے انہوں نے ہر ممکن جستجو کی اور ہر اس ماخذ تک پہنچے جہاں سے غالب پر لکھی گئی منظومات کا سراغ مل سکتا تھا۔ چیئرمین شعبہ اردو وفاقی یونیورسٹی اسلام آباد لکھتی ہیں۔ ”غالب سرائی“ غالبیات کے طلباء و محققین کے لئے بالخصوص اور ادب عالیہ کا مذاق رکھنے والوں کے لئے بالعموم ایک شاندار کتاب ہے۔ ممتاز نقاد اکرم کنجاہی، پشاور یونیورسٹی شعبہ اردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر روبینہ شاہین نے بھی اسے ایک منفرد کتاب قرار دیا ہے۔ 304 صفحات پر مشتمل یہ کتاب رنگ ادب پبلی کیشن کراچی نے بڑے اہتمام سے شائع کی ہے۔


ایک ایسا ہی اچھوتا اور منفرد کام عامر شہزاد صدیقی نے بھی کیا ہے ان کا تعلق ملتان سے ہے اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ تاہم اس بار انہوں نے ملتان کی تاریخی، ثقافتی اور ادبی زندگی پر ایک کتاب مرتب کرنے کو ترجیح دی حال ہی میں 255 صفحات پر مشتمل ان کی یہ کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ اس کے لئے انہوں نے ملتان میں رونمائی  کی ایک سادہ مگر پر وقار تقریب بھی سجائی جس میں اس کتاب کے لئے مضامین لکھنے والوں کو ایک ایک اعزازی کاپی دی۔ ”نادارات ملتان“ کے نام سے شائع ہونے والی اس کتاب میں ملتان کے 38 اہل قلم کی نگارشات شامل ہیں جن میں ملتان کی تاریخ، تہذیب اور ادب کو موضوع بنایا گیا ہے، جبکہ آٹھ منظومات بھی شامل ہیں جن میں شاعروں نے ملتان کے حوالے سے اپنے جذبوں کو شاعری کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں ملتان کے بارے میں غیر مطبوعہ مضامین شامل کئے گئے ہیں، بلکہ بیشتر مضامین ایسے ہیں جنہیں مرتب کے اصرار پر اس کتاب کے لئے لکھا گیا ہے۔ ماضی و حال کے ملتان کو سمجھنے اور دیکھنے کے لئے یہ کتاب ایک بڑا حوالہ ثابت ہو گی۔اگرچہ ملتان پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ تاہم وہ سب کتابیں ملتان کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ”نادرات ملتان“ میں ایک  تہذیبی و ادبی شہر کے طور پر ملتان کا ایک عکس رواں ملتا ہے۔ فی زمانہ 38 اہل قلم سے ایک موضوع پر اس کی مختلف جہتوں کے حوالے سے مضامین لکھوانا اور اسے کتابی شکل دینا آسان کام نہیں۔ مضامین کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے اور وہ ملتان کی تاریخ و تہذیب کا خوبصورتی سے احاطہ کرتے ہیں۔ عامر شہزاد صدیقی کی یہ کتاب ملتان کے ادبی و تاریخی اثاثے میں ایک گراں قدر اضافہ ثابت ہو گی۔


آج کی تیسری کتاب رضی الدین رضی کی 36 سال پہلے لکھے گئے کالموں کے انتخاب پر مبنی ”کالم ہوتل بابا کے“ ہے۔ ساڑھے تین دہائی پہلے ملتان کا ادبی منظر نامہ کیا تھا، نامور ادبی شخصیات کی سرگرمیاں اور ادبی بیٹھکیں کیسی تھیں، ان کا احوال ان کالموں میں ملتا ہے۔ 1986ء سے 1991ء تک رضی الدین رضی کبھی ہوتل بابا اور کبھی اپنے نام سے کالم لکھتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں ان کالموں کا بڑا شہرہ ہوتا تھا، کیونکہ ان میں نہایت ہلکے پھلکے انداز اور طنزیہ و مزاحیہ انداز بیان سے ملتان کی ادبی رفتار کے ساتھ ساتھ ادبی شخصیات کو بھی موضوع بنایا جاتا تھا۔ یہ کتاب اپنے اندر ایک خاص عہد کی ادبی تاریخ رکھتی ہے جس کے کئی کردار دنیا سے رخصت ہو گئے اور بہت سے ابھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ ان کالموں کے موضوعات بڑے چلبلے اور نوکیلے ہوتے تھے۔ اس لئے اس زمانے میں بھی ان کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ اب رضی الدین رضی نے انہیں کتابی صورت میں جمع کیا ہے تو گویا ایک عہد کی ادبی تاریخ محفوظ ہو گئی ہے 208 صفحات پر مشتمل یہ کتاب مرقع، طنز و مزاح تو ہے ہی تاہم یہ اپنے اندر ملتان کے دبستان کا ایک مضبوط حوالہ بھی لئے ہوئے ہے۔ شعبہ اردو بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے استادڈاکٹر خاور نوازش لکھتے ہیں۔ ”رضی کے ان کالموں میں آپ کو 80ء اور 90ء کی دہائی کے ملتان کی ادبی زندگی کی تحرک تصویر نظر آتی ہے۔ ان کے ہاں کسی وعدہ معاف گواہ کے لئے معافی مشکل ہے۔“

مزید :

رائے -کالم -