ماضی کا فلمی دریچہ اورآج کا سیاسی منظر 

ماضی کا فلمی دریچہ اورآج کا سیاسی منظر 
ماضی کا فلمی دریچہ اورآج کا سیاسی منظر 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پرانی اردو اور پنجابی فلموں اور شیکسپیئر کے ڈراموں میں ایک قدرِ مشترک یہ بھی ہوتی تھی کہ جب کہانی کسی ایسے موڑ تک آ پہنچتی کہ پڑھنے اور دیکھنے والے کی آنکھیں نمناک ہونے لگتیں تو منظر/ ایکٹ فوراً تبدیل ہوتا تھا اور فلم / ڈرامے کے وہ مزاحیہ کردار جو ایسی صورتِ حال کا ابطال کرتے ہیں اور ناظر / قاری کے غم کو مسرت اور غصے کو مسکراہٹ میں تبدیل کر دیتے ہیں، سٹیج پر نمودار ہوتے تھے اور ناظرین و قارئین کو سنبھالا دیا کرتے تھے۔
1950ء اور 1960ء کے عشرے اگر پاکستانی اور انڈین فلموں کا زریں دور شمار ہوتے ہیں تو اس کی بہت سی وجوہات تھیں۔ ہم سنیما دیکھنے جاتے تو کئی مناظر اتنے دردناک اور ان کے مکالمے اور ان کی ادائیگی ایسی اثر انگیز ہوتی تھی کہ دیکھنے والوں کی دبی دبی آہیں سنیما ہال میں سنائی دیتی تھیں۔ مجھے ان برسوں میں کئی بار ایسی صورتِ حال سننے اور دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ ہال میں اندھیرا ہوتا تھا اس لئے ناظر یہ نہیں دیکھ سکتا تھا کہ سسکیاں کون بھر رہا ہے لیکن صوت و صدا کے یہ تکلیف دہ لمحات یادگار ہوا کرتے تھے۔ اور پھر جب یہ اندوہناک منظر پردۂ سکرین پر اپنی آخری شدت کو پہنچ جاتا تھا تو یکایک پانسہ پلٹتا تھا اور وہ مزاحیہ کردار سکرین پر جلوہ گر نظر آتے تھے جو ناظرین و سامعین کی آہوں کو قہقہوں میں تبدیل کر دیا کرتے تھے۔


اسی طرح شیکسپیئر کا کوئی سا ڈرامہ نکال کر پڑھ لیں اس میں بھی آپ کو یہی دو طرح کے مناظر پڑھنے کو ملیں گے…… فطرتِ انسانی یہی ہے کہ موت کی گریہ و زاری اور ماتم گساری کے بعد زندگی کی گلکاریاں اور ضیاباریاں سامنے آئیں۔ مسلسل غم اور مسلسل شادمانی انسانی زندگی کے معمولات کبھی نہیں رہے لیکن پاکستان کے موجودہ معروضی حالات ایک طویل عرصے سے صرف غم و اندوہ کی ڈگر پر اس تسلسل سے رواں دواں ہیں کہ شادمانی کی راہیں گویا مسدود نظر آتی ہیں۔ 
ہمارے ٹیلی ویژن چینل ہفتے کے بعض ایام میں گو ایک آدھ گھنٹے کے ٹاک شو اس معمول کو بریک کرنے کا اہتمام کرتے نظر آتے ہیں لیکن مایوسی، بے دلی اور افسردگی کے واقعات اتنے گھمبیر اور مسلسل ہوتے ہیں کہ یہ ”درمیانی وقفے“ اپنا وہ اثر نہیں دکھا سکتے جو برصغیر کی پرانی فلموں کا شعار ہوا کرتے تھے۔


بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور، میرے خیال میں، ہمارے سنیما کا سنہری دور تھا۔اس دور کی یادیں ایک ایسا تھرمامیٹر ہیں جو ہماری طبیعت کی گرمی اور سردی کے درجہ ء حرارت کی عکاس ہیں۔ انسانی جذبات کی سادگی اور ان کا فطری پن جو اس دور کی فلموں میں دکھایا جاتا تھا اس کی چند مثالیں قارئین کے سامنے رکھنے کو دل چاہ رہا ہے۔ جس نسل نے وہ دور نہیں دیکھا وہ اگر ان فلموں کو کسی ٹی وی چینل پر لگا کر دیکھ لے تو اس کو معلوم ہوگا کہ پرانی نسل / نسلوں کا ماضی، ہمارے حال سے کس قدر مختلف،نیچرل اور قرینِ حقیقت ہوا کرتا تھا۔
1950ء کے عشرے کی ایک پنجابی فلم تھی۔(نام ذہن سے نکل رہا ہے)اس میں زبیدہ خانم کی آواز میں یہ گیت ”سٹریٹ سانگ“ بن گیا تھا:
اساں جان کے مِیچ لئی اکھ وے
جھوٹی موٹھی دا پا لیا ای ککھ وے
تے ساڈے ول تَک سجنا
تے ساڈے ول تَک سجنا……


اس گیت کی شاعری ، پلے بیک موسیقی، دُھن اور آواز کی خوبیوں کو ایک طرف رکھ دیں اور صرف اس حقیقت کا ادراک کریں کہ یہ منظر کشی کتنی مبنی بر صداقت تھی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آج ہم حقیقت سے کتنی دور نکل آئے ہیں۔ یہی صداقت ہے جو انسانی جذبوں کی اوریجنیلٹی (اصلیت) تشکیل دیتی ہے۔ ہمارے آج کے ”ترقی یافتہ معاشرے“ سے جذبات و احساسات کی وہ سادگی اور بھولپن عنقا ہو چکا ہے۔ آج کی ہماری بچیاں اور بچے اتنے چالاک ہو چکے ہیں کہ وہ اس قسم کے مناظر کو سفید جھوٹ سمجھتے ہیں لیکن یہی وہ سفید جھوٹ تھے جو انسانی جذبات کے سچے عکاس ہوا کرتے تھے…… جب حسرت موہانی نے یہ شعر کہا تھا:
دیکھنا جب ان کو برگشتہ توسو سو ناز سے
جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
تو یہ عشق و عاشقی کے معاملات کے ایک فطری ”وقوعہ“ کی صحیح ترجمانی تھی اگر اس کالم کے ’بزرگ قارئین‘ نے ایامِ جوانی میں ”جرمِ محبت“ کے اس تجربے کا ”ارتکاب“ کیا ہوگا تو اُن کو معلوم ہوگا کہ یہ کس قدر پاکیزہ، نیچرل اور حقیقی تجربہ تھا۔ آج کا نوجوان (خواہ لڑکا ہو یا لڑکی)حسرت موہانی کے اس تجربے کی بازآفرینی نہیں کر سکتا…… زیادہ عاقل و بالغ ہونا بھی حسن و عشق کے ان الہڑتجربات کا شناسا نہیں ہو سکتا جن سے ہماری ساری اردو فارسی شاعری، ہماری فلمیں اور ہمارے پرانے ٹی وی ڈرامے بھرپور ہیں …… آج کی بے رحم سیاست گزیدگی نے ہمارے اُن لطیف جذبوں کا خون کر دیا ہے جو نسلِ کہن کا اثاثہ تھے!


پرانی فلموں کے ذکر سے یاد آیا کہ ان کے گیتوں میں نہ صرف دُھن، آواز اور شاعری درجہء کمال کو پہنچی ہوئی تھی بلکہ اُس دور کے شاعروں کے نزدیک یہ بات زیادہ اہم تھی کہ ان کو سننے والے چونکہ شعر کی فنی باریکیوں سے زیادہ واقف نہیں ہوتے تھے اس لئے فلمی نغمات کی زبان سادہ اور آسان فہم رکھی گئی تھی۔ فلمی شاعری میں یہ آسان گوئی ایک چیلنج تھی جسے اس دور کے انڈین اور پاکستانی فلمی نغمہ نگاروں نے محسوس کیا اور عمداً ایسی زبان استعمال کی جس میں مشکل جذبات و احساسات کی عکاسی بھی تھی اور زبان و بیان کی آسان گوئی بھی…… اس دور کی ایک انڈین پنجابی فلم بھنگڑا بھی تھی۔ اس کے گیتوں میں ایک گیت کا مکھڑا یہ تھا:
بتّی بال کے بنیرے اُتے رکھنی آں 
گلی بُھل نہ جاوے چن میرا


بہت برس پہلے ایک محفل میں ایک دوست نے اس گیت پر یہ اعتراض کیا کہ اس کے مکھڑے میں پہلا مصرعہ: ”بتی بال کے بنیرے اُتے رکھنی آں“ کچھ ثقیل سا لگتا ہے۔ لفظ ’بتی‘ کی بجائے اگر ’دیوا‘ کہا جاتا تو زیادہ آسان اور موزوں ہوتا۔
دیوا اور بتی کے معانی ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجانے شاعر نے بتی کیوں کہا اور دیوا کیوں نہیں کیونکہ دیوا ایک ٹھیٹھ پنجابی لفظ ہے اور بتی پنجابی بھی ہے اور اردو بھی…… میں نے سنا تو عرض کیا کہ فنِ لسانیات میں ایک اصطلاح ”صوتی تکرار“ بھی کہلاتی ہے جسے انگریزی میں Alliteration کہا جاتا ہے۔ اس میں الفاظ جو یکے بعد دیگرے آتے ہیں ان میں ایک ہی آواز بار بار دہرائی جاتی ہے۔ اس سے مجموعہء الفاظ میں ایک صوتی حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک وسیع موضوع ہے۔ مختصریہ کہ اردو حروفِ تہجی (انگریزی،  فارسی، عربی وغیرہ میں بھی) میں بعض حروف صوتی ادائیگی کے اعتبار سے سخت اور کرخت ہوتے ہیں جیسے ک، خ، چ، ڈ اور ڑ وغیرہ اور بعض نرم اور کومل  جیسے ج، د، س،ش، ل،م وغیرہ۔ شاعر جب کوئی مصرع یا شعر موزوں کرتا ہے تو اسے ان حروف کی نرمی اور کرختگی کا اندازہ ہوتا ہے اس لئے وہ جہاں ضرورت ہو وہاں ملائم آواز والے حروف استعمال کرتا ہے اور جہاں کرختگی کا اظہار درکار ہو وہاں ناملائم اور ناپسندیدہ…… مثال کے طور پر علامہ اقبال کی ایک نظم ’شام‘ ہے جو انہوں نے دریائے نیکر، ہائیڈل برگ کے کنارے سیر کے دوران کہی تھی، اس کا پہلا شعر ہے:
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
اس شعر میں حرف ش کی تکرار نے ایک عجیب لطف پیدا کر دیا ہے۔ اسی طرح غالب کی ایک غزل کا شعر ہے:
ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا


اس میں مصرعہء اولیٰ میں حرف ج کی تکرار نے یہی لطف پیدا کیا ہے۔ میں نے اور مثالیں بھی دیں (جن کا ذکر طوالتِ موضوع کا باعث بنے گا) اور عرض کیا کہ بھنگڑا فلم کے شاعر نے: بتّی بال کے بنیرے اُتے رکھنی آں ……والے مصرعے میں حرف ب کی تکرار کی ہے۔ یہاں اگر بتّی کی جگہ دیوا رکھ دیا جائے تو ایک تو یہ ’دیوا‘ تیز ہوا کے جھونکے سے بجھ بھی سکتا ہے اور دوسرے بتّی، بال اور بنیرے میں جو Alliteration ہے وہ غائب ہو جائے گی۔شعری محاسن میں یہی وہ خوبیاں ہیں جو شاعر اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتا اور قاری کو یہ فریضہ انجام دینا پڑتا ہے۔
بیشتر قارئین کو ان دنوں 9رکنی سپریم کورٹ بنچ کے اس فیصلے کا انتظار ہوگا کہ الیکشن کب کروائے جائیں گے اور اس میں ہمارا آئین کیا کہتا ہے۔ آئین و قوانین اور  عدالتی دلائل و براہین کے اس ہجوم میں، میں نے اگر شعر و موسیقی اور فلموں کا ذکر کرکے قارئین کی سمع خراشی کی ہے تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں!

مزید :

رائے -کالم -