معاشی بحران کے خاتمے کیلئے ہم سب کو کوششیں کرنے کی ضرورت ہے: گورنر سندھ 

  معاشی بحران کے خاتمے کیلئے ہم سب کو کوششیں کرنے کی ضرورت ہے: گورنر سندھ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


    کراچی(سٹاف رپورٹر)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ دبئی کی بین الاقوامی نمائش میں پاکستان کی تیار کردہ چائے کو زبردست پذیرائی ملی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ویلیوایڈیشن اور ذائقہ پر مزید تحقیق کرکے دنیا بھر میں برآمد کی حکمت عملی ترتیب دی جاسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ٹی ایسوسی ایشن کی 52ویں سالگرہ کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایگری کلچر کینیا کے وزیر میتھیکا لنٹوری (MITHIKA LINTURI)، کینیا کی ہائی کمیشن نائمبورا کاماؤ(Nyambura Kamau) ، KCCI کے صدر طارق یوسف، پاکستان ٹی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذیشان پراچہ اور سابق چیئرمین ٹی ایسوسی ایشن امان پراچہ نے بھی شرکت کی۔ گورنر سندھ نے پاکستان ٹی ایسوسی ایشن کو 52ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں چائے ہی غریب عوام کے لئے تسکین کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چائے بہت افراط سے پیتے ہیں اور اس سے دور ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے، کراچی میں چائے کے شوقین بہت زیادہ ہیں۔ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ چائے درآمد کرنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے، پاکستان کئی ممالک سے چائے درآمد کرتا ہے جن میں کینیا سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹی ایسوسی ایشن کے ممبران کی جانب کی ویلیوایڈیشن کی وجہ سے چائے کی وسیع رینج دستیاب ہے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ کنٹینرز پر بھاری مالیت کے ڈیٹینشن (Detention)چارجز عائد ہوچکے ہیں کے مسئلہ کے حل کے لئے متعلقہ اداروں سے بات کروں گا، وفاقی وزیر بندرگاہ و جہاز رانی سے ڈیمریجز ختم کرنے کے نوٹیفکیشن کے اجراء پر بات کروں گا۔ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان کے معاشی بحران کے خاتمے کے لئے ہم سب کو  کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے، یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ باہمی اتفاق رائے پیدا کرنے کا ہے، کیونکہ اس وقت پاکستان کا استحکام ہر چیز پر مقدم ہے۔ گورنر سندھ نے سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے درخواست کی کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

کراچی(سٹاف رپورٹر)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم کا  ادب اس کے ماحول اور معاشرتی دکھ سکھ کا سچا ترجمان ہوتا ہے، لطیف سوچ کو اجاگر کرنے میں شاعروں اور ادیبوں نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شاعری کا سماج کے ساتھ مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی لئے ہر زمانے کے شاعر کے کلام میں اس کے ماحول کی جھلک نظر آتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ساکنان شہر قائد کے زیر اہتمام عالمی مشاعرہ میں شرکت کے دوران کیا۔ تقریب میں پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، محمود احمد خان، حاجی رفیق پردیسی، معروف شعرائے کرام اور سامعین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گورنر سندھ نے گذشتہ 27 سال سے جاری تابندہ روایت کو اس سال بھی جاری رکھنے پر ساکنان شہر قائد کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرہ ہماری تہذیب کی تابندہ و درخشندہ روایت ہے، اردو کے فروغ میں مشاعروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاعروں کی روایت بھی اردو زبان جتنی قدیم ہے، میر تقی میر، خواجہ میر درد، مرزا غالب،ذوق، داغ، نے اردو کے حسن کو بڑھایا، مومن،سودا، فانی، حسرت موہانی، حالی،نظیر اکبر آبادی سے اقبال تک تمام ہی شعرا نے اردو کو پروان چڑھایا، جبکہ غزل، نظم، قصیدہ اور مثنوی کے ذریعہ اردو کو فروغ حاصل ہوا ہے۔کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ اردو زبان پاکستان میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے، اسے برصغیر میں رابطہ کی زبان کہا اور سمجھا جاتا تھا،اور آج بھی اس کی وہی حیثیت اور اہمیت برقرار ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بابائے قوم نے اس کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا۔ گورنرسندھ نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ نفرتوں کو ختم کرکے لوگوں میں محبتیں بانٹوں،اور مجھے اس کے لئے آپ تمام کا تعاون اور مدد درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری دعا ہے کہ اس مشاعرے سے امن و محبت کا پیغام عام ہو، اور اس سے اٹھنے والی خوشبوئیں کدورتیں دور کرنے کا سبب بنیں۔کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ اس مشاعرے کے انعقاد سے ہمارے شہر قائد کی رونقیں واپس لوٹ آئیں گی، انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشاعرہ عالمی سطح پر ملک کا بہتر امیج پیش کرنے کا سبب بنے گا۔

مزید :

صفحہ اول -