جاگ جاؤ۔۔۔

جاگ جاؤ۔۔۔
جاگ جاؤ۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  تحریر سیدساجدعلی شاہ ( رحیم یار خان )

نیند کی وادی میں خواب کے مزے لے رہا تھا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی جو رکنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی مسلسل بجتی فون کی گھنٹی سے نیند کا سارا مزہ کرکرا ہو کر رہ گیا، نہ چاہتے ہوئے بھی بوجھل دل کے ساتھ اٹھا اور نیند کی وادی اور آنکھوں میں خمار لیے گھڑی کی طرف دیکھا تو رات کے 2 بجے کا وقت تھا فون کال ریسیو کی تو ایک نسوانی درد، آنسوؤں اور ہچکیوں سے لبریز آواز میں زار و قطار روتے ہوئے بولی کہ سر درندوں نے میری کل کائنات میرے جگر کا ٹکڑا میری معصوم بچی کو قتل کر دیا ہے میں انصاف کے لیے کہاں جاؤں؟

مزید چند رسمی الفاظ سننے کے بعد کال ختم ہوئی تو دل بجھ سا گیا نیند کوسوں دور چلی گئی تھی سوچوں کی وادی میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ مؤذن کی آواز نے سوچوں کے محلات کا شیرازہ بکھیر کر اللہ رب العزت کی دربار میں جانے کی صدا دی۔ خیر نماز فجر کے بعد معمول کی واک کر کے گھر پہنچا ناشتہ کیا اور واٹس اپ چیک کیا تو ایک دوست کا سندھ سے وائس میسیج  آیا ہوا تھا کہ  سادہ لوح مسلمانوں کو رقم کا لالچ دے کر بھٹکایا جا رہا ہے۔

پہلے فون پھر یہ پیغام سنا  تو کلیجہ کٹ کے رہ گیا اور دل سے دعا نکلی کہ یا اللہ! وطن عزیز اور اس کے باسیوں پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ جب میں نے اس معصوم بچی کی تصویر واٹس اپ پر دیکھی اور قلم اٹھا کر لکھنا چاہا لیکن دل و دماغ مفلوج ہوکر رہ گیا۔ آخر اُس ننھی سی جان کا کیا قصور تھا،اُس کی کسی سے کیا رنجش تھی جو اُس بچی کو اتنی بےرحمی سے قتل کیا گیا تھا، ابھی چھوٹی سی تو عمر تھی جب وہ اپنے ماں باپ سے دور مدرسے میں دینی و عصری تعلیم و تربیت حاصل کررہی تھی تاکہ آگے چل کر وہ ننھی فرشتہ اس قابل بن جائے کہ ملک و ملت کی خدمت کرسکے، مگر افسوس یہاں صرف مسلمان ہونا ہی اتنا بڑا جرم بن چکا ہے جس کی قیمت نوجوانوں کے ساتھ اب معصوم بچوں، بزرگوں و خواتین کی جان اور آبرو دے کر چکانی پڑرہی ہے تو ان حالات میں محض احتجاجی ریلیاں ، میڈیا میں مذمتی بیان بازیاں اور تحریریں لکھ کر مثبت نتائج کی امید کرنا بےوقوفی ہے۔

 کیا ہمارا وجود آج کے دور میں اتنا بےمعنی ہوچکا ہے کہ جو آصفہ  جیسے ہر دن ناجانے کتنے ہی بےگناہ بچیوں کو مار پیٹ کر اغوا ءکرلیا جاتا ہے یا بےرحمی سے قتل کردیا جاتا ہے؟ کوئی مرد مجاہد بچا ہی نہیں جو ان حیوانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مظلوم کی طرف اٹھتی گندی نظروں کو نوچنے کی جرأت دکھائے، بےگناہوں پہ اٹھتے ہوئے ان کے بازوؤں کو کاٹ کر پھینکے۔ہماری غفلت کا عالم تو یہ ہے کہ ہمیں مقتول کے اہل خانہ کا درد محسوس کرنا بھی گوارا نہیں رہا، نہ ہی کبھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے جدا ہوکر آنسو بہاتی دربدر بھٹکتی ہوئی اُن ماؤں کی فریاد، انکی سسکیاں سنائی دیتی ہیں، آخر ہم اتنے بےحس کیوں ہوگئے ہیں، اپنے ضمیر کو مار کر ہم کس مردار زندگی کی چاہت کررہے ہیں ؟

اخلاقی زوال کا شکار معاشرہ دیکھ کر احساس کمتری جنم لیتی ہے اور اسی احساس کمتری کو لے کر دشمن سازشوں میں مصروف ہیں ۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالم اسلام کے حکمران خواب غفلت سے بیدار ہو کر دنیا بھر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روک تھام کیلئے  مؤثر حکمت عملی اپنائیں مغربی ممالک جو انسانیت پرستی کی دوہائی دیتے ہیں مسلم دشمنی میں تمام حدیں پار کر چکے ہیں ۔

تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو اندازہ ہوگا کہ اسلام نے دنیا کو امن ومحبت کا باقاعدہ درس دیا اور ایک پائیدار ضابطہٴ اخلاق پیش کیا، اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن وسکون کے ایک نئے باب کاآغاز کیا اور پوری علمی و اخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اس کو وسعت دینے کی کوشش کی، آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتا ہے اور ہر طبقہ اپنے اپنے طورپر کسی گہوارۂ سکون کی تلاش میں ہے یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔

نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -