ازخودنوٹس کیس؛ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ سامنے آ گئے

ازخودنوٹس کیس؛ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی ...
ازخودنوٹس کیس؛ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ سامنے آ گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب اور خیبرپختونخواانتخابات کی تاریخ سے متعلق ازخودنوٹس کیس میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ سامنے آگئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوزکے مطابق جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں آڈیو لیکس کاتذکرہ کر دیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ غلام ڈوگر کیس سے متعلق آڈیو سنجیدہ معاملہ ہے،جسٹس اعجاز الاحسن اور مظاہر نقوی الیکشن سے متعلق اپنا ذہن واضح کر چکے ہیں ، دونوں ججز کا موقف ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہونے چاہئے، دونوں ججز نے رائے وقت آرٹیکل 10 اے پر غور نہیں کیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں کہاہے کہ چیف جسٹس کا آرڈر کھلی عدالت میں سماعت اور زبانی احکامات سے مطابقت نہیں رکھتا،پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کی برخاستگی کی آئینی حیثیت پر سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیا اسمبلیوں کو قانونی مدت سے قبل توڑنا آئینی جمہوریت کے اصولوں کی نفی نہیں ۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ میرے پاس بنچ سے الگ ہونے کا کوئی قانون جواز نہیں،اپنے خدشات کو منظرعام پر لانا چاہتا ہوں،نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل ایک جج کی آڈیو لیکس کا تذکرہ کیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ جج سے متعلق الزامات کا کسی فورم پر جواب نہیں دیا گیا،بار کونسلز نے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کردیا،جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل جج پر اعتراض کردیا، جسٹس منصور علی شاہ نے دیگر سینئر ججز کی بنچ پر عدم شمولیت پر بھی اعتراض کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ 2 سینئر جج صاحبان کو بنچ میں شامل نہیں کیاگیا،عدلیہ پر عوام کے اعتماد کیلئے ضروری ہے اس کی شفافیت برقرار رہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہاکہ الیکشن سے متعلق درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہیں،الیکشن سے متعلق درخواستیں پشاور ہائیکورٹ میں بھی زیرسماعت ہیں،سپریم کورٹ کی جانب سے ریمارکس ہائیکورٹس میں زیرسماعت مقدمات پر اثرانداز ہونگے،سپریم کورٹ کی جانب سے ازخودنوٹس کا کوئی جواز نہیں ، میری بنچ میں شمولیت سے متعلق فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں ۔