بھوک کے مارے ہمیں چکر آنے لگتے،تنگ دل لوگوں کے بچے ہمیں ”گھاس خور“ کہہ کر چڑایا کرتے

بھوک کے مارے ہمیں چکر آنے لگتے،تنگ دل لوگوں کے بچے ہمیں ”گھاس خور“ کہہ کر ...
بھوک کے مارے ہمیں چکر آنے لگتے،تنگ دل لوگوں کے بچے ہمیں ”گھاس خور“ کہہ کر چڑایا کرتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : میلکم ایکس( آپ بیتی)
ترجمہ :عمران الحق چوہان 
قسط :7
میری ماں نے ادھار لینا شروع کر دیا۔ حالانکہ والد ادھار کے سخت خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ادھار قرض کی جانب پہلا قدم ہے جو آپ کو غلامی کی طرف لے جاتا ہے۔“ والدہ لانسنگ میں سفید فاموں کے گھروں میں بھی کام کے لیے جانے لگیں۔ عام گوروں کے برعکس انہوں نے والدہ کے سیاہ فام ہونے پر اعتراض نہیں کیا مگر یہ تبھی تک ہو سکا جب تک انہیں یہ علم نہیں ہوا کہ ہماری والدہ کس شخص کی بیوہ ہیں۔ پھر اکثر والدہ نوکری چھن جانے پر آنسو روکنے کی ناکام کوشش کرتے گھر لوٹتیں۔ کچھ لوگ ان کے ہلکے رنگ سے دھوکہ کھا کر انہیں سفید فام سمجھ لیتے۔ ایک بار جب ہم میں سے ایک انہیں کام کے اوقات میں ملنے چلا گیا تو مالکوں کو علم ہوا وہ دراصل سیاہ فام ہیں اور انہیں کھڑے کھڑے برخاست کر دیا گیا۔ اس بار وہ گھر آئیں تو انہوں نے آنسو روکنے یا چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ 
پھر ”ریاستی بہبود“ کے کارکن ہمارے گھر آنے لگے۔ وہ ہزارھا سوال پوچھتے اور ہمیں یوں دیکھتے جیسے ہم انسان نہیں۔ یوں بھی ہم ان کی نظر میں ”اشیاء“ سے زیادہ کچھ نہیں تھے۔ 
پھر والدہ کو پینشن اور ”ویلفیئر“ کی رقم ملنے لگی جس سے کچھ پریشانی کم ہو گئی۔ مگر جب یکم تاریخ کو ہمیں رقم ملتی تو ساری ادائے قرض میں نکل جاتی۔ ہم تیزی سے غربت و پس ماندگی کی طرف جا رہے تھے۔ جسمانی سے زیادہ ذہنی طور پر۔ ہماری والد خوددار عورت تھیں انہیں خیرات لینا بہت کٹھن محسوس ہوتا اور وہ ہمیں اس کا احساس دلاتیں۔ وہ سبزی فروش سے جھگڑتیں کہ وہ قیمت سے زیادہ رقم وصول کرتا ہے۔ ریاستی بہبود کے کارکنوں سے الجھتیں کہ وہ باربار معائنہ کے بہانے ہمارے گھر کیوں آتے ہیں۔ لیکن امدادی رقم ان کا سب سے بڑا ہتھیار تھی ۔ وہ ایسی حرکتیں کرتے گویا وہ ہمارے مالک ہیں اور ہم ان کی ذاتی جائیداد ہیں۔ جب ان کارکنوں نے بڑے بچوں کو علیٰحدہ لے جا کر سوال پوچھنے شروع کیے اور انہیں والدہ اور دیگر بہن بھائیوں کے خلاف بھڑکانا شروع کیا تو والدہ بے حد آگ بگولا ہوئیں۔ وہ ان سے امدادی اشیاءبھی لینا پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس سے غالباً عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچتی تھی۔ 
1934ءکا سال بہت تکلیف کا سال تھا۔ ہمارے جاننے والوں کے پاس بھی کھانے کو وافر نہیں تھا۔ کچھ پرانے احباب ملنے آتے تو ہمارے کھانے کے لیے بھی کچھ لے آتے اور والدہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ خیرات قبول کر لیتیں۔ 
ولفرڈ اور والدہ خوب محنت کرتے، جو کام بھی ملتا کرتے۔ لانسنگ میں ایک بیکری تھی جہاں سے ہم 2 بچے ایک نکل کے عوض ایک دن پرانی ڈبل روٹیوں اور بسکٹوں سے بھرا تھیلا خرید لاتے جس سے ہماری والدہ انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتیں۔ مگر ایسے دن بھی آتے جب ہمارے پاس ایک نکل بھی نہ ہوتا اور بھوک کے مارے ہمیں چکر آنے لگتے۔ والدہ ہماری حالت دیکھ کر ککروندے کے پتے توڑ کر پکا لیتیں اور ہماری بھوک کی کچھ تسکین ہو جاتی۔ مگر کچھ تنگ دل لوگوں کو یہ بھی برداشت نہ ہوتا اور ان کے بچے ہمیں ”گھاس خور“ کہہ کر چڑایا کرتے۔ 
میں اور فلبرٹ اب اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ آپس میں لڑنا ترک کر کے والد کی اعشاریہ 22 بور کی رائفل سے خرگوشوں کا شکار کھیلنے لگے تھے۔ یہ شکار ہم سفید فام لوگوں کو بیچ دیتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ وہ یہ شکار صرف ہماری مدد کی غرض سے خریدتے تھے کیونکہ وہاں سب لوگ خود شکار کرنے کے عادی تھے۔ 
نفسیاتی انحطاط ہمارے گھر کا حصہ بنتا جا رہا تھا۔ پہلے ہم ”امدادی اشیاء“ لینے سے انکار کر دیتے تھے پھر ہم نے یہ اشیاءقبول کرنا شروع کر دیں۔ پھر ایسا ہونے لگا کہ میں سکول سے گھر جانے کی بجائے لانسنگ چلا جاتا اور دکانوں کے باہر نمائشی پھلوں وغیرہ کے گرد منڈلاتا رہتا اور جونہی داﺅ لگتا کوئی کھانے کی چیز اُڑا لیتا۔ یا میں ملنے والوں کے ہاں پہنچ جاتا اور یہ خیال رکھتا کہ ہمیشہ کھانے کے وقت جاﺅں۔ انہیں بھی یہ بات معلوم تھی مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی برا نہیں منایا بلکہ خود سے کہہ کر کھانے کے لیے روک لیتے تھے اور میں خوب پیٹ بھر کر لوٹتا۔ 
میں جتنا گھر سے باہر رہتا۔ دوسروں کے گھروں میں جاتا یا چیزیں چراتا مجھ میں اتنا ہی غصہ پیدا ہوتا۔ میرے اندر صبر اور برداشت ختم ہوتے جا رہے تھے۔ میں ذہن کی نسبت جسمانی طور پر زیادہ تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے لوگوں کے روئیے کا شعور بھی پیدا ہونے لگا تھا۔ جب میں اکثر چوری کے سلسلے میں پکڑا جانے لگا تو ”ریاستی بہبود“ کے کارکنوں نے میری نگرانی کرنا شروع کر دی۔ اسی دوران انہوں نے مجھے گھر سے دور لے جانے کی باتیں شروع کر دیں جس پر میرا والدہ نے طوفان برپا کر دیا کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش خود کر سکتی ہیں۔ انہوں نے غصے میں مجھے بھی پیٹا جس پر میں نے حسبِ عادت چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا لیکن ایک بات جس پر مجھے ہمیشہ فخر رہا ہے وہ یہ کہ میں نے کبھی اپنی والدہ پر جواباً ہاتھ نہیں اُٹھایا۔ ( جاری ہے )
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -