آپ کو ایسے میجر پوائنٹس پر سننا چاہیں گے جو ضمیر جھنجھوڑ دینے والے ہوں،ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس میں چیف جسٹس پاکستان کا عدالتی معاون سے مکالمہ 

آپ کو ایسے میجر پوائنٹس پر سننا چاہیں گے جو ضمیر جھنجھوڑ دینے والے ...
آپ کو ایسے میجر پوائنٹس پر سننا چاہیں گے جو ضمیر جھنجھوڑ دینے والے ہوں،ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس میں چیف جسٹس پاکستان کا عدالتی معاون سے مکالمہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکیس سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی معاون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو ایسے میجر پوائنٹس پر سننا چاہیں گے جو ضمیر جھنجھوڑ دینے والے ہوں۔

سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکیس سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9رکنی بنچ نے سماعت کی،بلاول بھٹو زرداری ریفرنس کیس سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ پہنچ گئے، عدالتی معاون منظور ملک نے دلائل کا آغاز کیا ۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ کو کرمنل پہلو پر سننا چاہتے ہیں،منظور ملک نے کہاکہ گزارش ہے مجھے ایسے سنا جائے جیسے آپ 1978میں اپیل سن رہے ہیں،مجھے سننے کے بعد فیصلہ آپ کو ہی کرنا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ کو ایسے میجر پوائنٹس پر سننا چاہیں گے جو ضمیر جھنجھوڑ دینے والے ہوں،منظور ملک نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو مقدمے میں ملزم نامزد نہیں تھے،کیس کا ریکارڈ 8اگست 1977کو دوبارہ تفتیش کیلئے لیا گیا،دوبارہ تحقیقات کیلئے مجسٹریٹ سے کوئی تحریری اجازت نہیں لی گئی،دستاویزات کے مطابق کیس کا ریکارڈ بعد میں لیاگیا، تفتیش پہلے ہی دوبارہ شروع ہو چکی تھی،سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو اور شریک ملزم کی سزا  برقرار رکھی تھی، احمد رضا قصوری کی درخواست پر ہی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔