میر پور کے ایک باشندے کے پاس بہت دولت تھی،اس نے ریسٹورنٹ کی تشہیر کی خاطر اپنی برطانوی بیوی کو پاکستانی پرچم تھما کر گیٹ کے پاس کرسی پر بٹھا دیا

 میر پور کے ایک باشندے کے پاس بہت دولت تھی،اس نے ریسٹورنٹ کی تشہیر کی خاطر ...
 میر پور کے ایک باشندے کے پاس بہت دولت تھی،اس نے ریسٹورنٹ کی تشہیر کی خاطر اپنی برطانوی بیوی کو پاکستانی پرچم تھما کر گیٹ کے پاس کرسی پر بٹھا دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:195
 لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
پھر یوں ہوا کہ اگلی بار ایسے ہی ایک مسئلے میں جعفری کی قسمت ساتھ چھوڑ گئی۔ ایک روز اس کی زندگی میں میر پور آزاد کشمیر کا ایک باشندہ داخل ہوا جو برطانیہ کا شہری تھا۔ تعلیم یافتہ تو نہیں تھا لیکن وہاں رہنے کی وجہ سے انگریزی کو اچھا خاصہ منہ مار لیتا تھا۔ اس کے پاس جتنی دولت تھی، اتنی ہی خوبصورت ایک برطانوی بیوی بھی تھی۔ 
اس نے بینک کے قریب ہی ایک اونچی جگہ پراپنا ریسٹورنٹ کھولا اوراس کی تشہیر کی خاطر پہلے چند روز تک اپنی خوبصورت گوری بیوی کو پاکستانی پرچم تھما کر گیٹ کے پاس کرسی پر بٹھا دیا۔ وہ بڑا ہی عجیب و غریب اور پر اسرار سا کردار تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے گھٹیا مارکیٹنگ کا طریقہ نہیں دیکھا تھا، جہاں ایک غیر ملکی خاتون کے حسن کو اس طرح استعمال کیا گیا ہو۔
ایک دن وہ دونوں بینک آئے اور اکاؤنٹ کھلوا کر اس میں اچھی خاصی رقم جمع کروائی۔ جعفری رقم سے زیادہ انگریز خاتون کی سنہری زلفوں پر واری واری جا رہا تھا۔ اسی رات جعفری کو ریسٹورنٹ میں مدعو کیا گیا اور یہ تینوں اور بھی قریب ہو گئے۔ چند دن بعد وہ دوبارہ بینک آئے اور12 ہزار روپے کے ٹریولر چیک جعفری کو اپنے کھاتے میں جمع کرنے کے لیے دے گئے جو کابل کے ایک نسبتاً غیر معروف سے بینک کے تھے۔ اس وقت کے قانون کے مطابق ایسے گمنام ٹریولر چیکس پہلے ہیڈ آفس بھیجے جاتے تھے جہاں وہ متعلقہ بینک کی تصدیق کے مرحلے سے گزرتے اور پھر وہاں سے رقم وصول ہونے کے بعد ہی برانچ کو اجازت دی جاتی تھی کہ وہ ان کی ادائیگی کر دے۔ البتہ بعض مخصوص حالات میں منیجر کو اجازت تھی کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ جمع کروانے والوں کو اپنی صوابدید کے مطابق کچھ یا پوری رقم ایڈوانس بھی دے سکتا تھا جس کو بینک قرض جان کر سود وصول کرتا تھا۔ 
یہ چیک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہیڈ آفس کراچی بھیجے گئے۔ جعفری کا ان کی طرف آنا جانا بڑھا اور وہ اس برطانوی خاتون سے خاصا بے تکلف ہو گیا تھا۔ اس کا شوہر اس میل جول کا ذرا بھی برا نہیں مناتا تھا اور ان کو اکٹھے دیکھ کر خوش ہوتا۔ نا گفتہ وجوہات کی بنیاد پر جب دوستی مزید گہری ہوگئی تو ایک صبح جعفری نے مجھے کہا کہ ”ریسٹورنٹ چلانے کے لیے اُن لوگوں کو رقم کی اشد ضرورت ہے آپ اُن کو ساری رقم ایڈوانس دے دیں“۔ میں نے اسے علیٰحدہ بلا کر کہا کہ”آپ صحیح نہیں کر رہے ہیں، ایسا نہ کرو، تھوڑی بہت رقم ایڈوانس دے دو اگر بعد میں چیک واپس آگئے تو وصولی مسئلہ بن جائے گی۔“ وہ پتہ نہیں کس زعم میں تھا، نہیں مانا تو اس کے اصرار اور منظوری پر 12 ہزار کی خطیر رقم اس جوڑے کے حوالے کر دی گئی۔ خطیر اس لیے کہا کہ اس وقت جعفری کی اپنی تنخواہ صرف 600روپے سے ذرا زیادہ تھی۔
پھر یوں ہوا کہ ہفتے دس دن بعد سارے چیک کراچی سے واپس آگئے کیونکہ وہ متعلقہ بینک سے کیش نہیں ہوسکے تھے۔ اُسی شام وہ لوگ جعفری کو مال روڈپر ملے تو اس نے انھیں بتادیا کہ آپ کے چیک بغیر ادائیگی کے واپس آگئے ہیں، انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ فکر نہ کریں ہم کل پیشگی لی ہوئی تمام رقم واپس جمع کروا دیں گے۔ بدقسمتی سے جعفری بھول گیا، جب دو تین دن بعد اسے اچانک یاد آیا تو اس نے چپڑاسی کو بھیجا کہ ان کو بلا لائے۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہانپتا کانپتا واپس آیا اور اُکھڑی ہوئی سانسوں کے ساتھ جعفری کو بتایا کہ وہاں تو اب کچھ بھی نہیں ہے صرف شامیانے لگے ہیں اور کچھ فرنیچر پڑا ہے، اور یہ کہ اس کی اطلاع کے مطابق وہ پرُاسرار جوڑا اپنی گاڑی میں بیٹھ کرکل رات ہی خاموشی سے کابل کی طرف نکل گیا ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -