میں نے اور میرے دوستوں نے اعزاز کیساتھ گریجویشن مکمل کی، ایک سال بعد مجھے امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کیلیے تعارفی خط کی ضرورت پڑی

 میں نے اور میرے دوستوں نے اعزاز کیساتھ گریجویشن مکمل کی، ایک سال بعد مجھے ...
 میں نے اور میرے دوستوں نے اعزاز کیساتھ گریجویشن مکمل کی، ایک سال بعد مجھے امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کیلیے تعارفی خط کی ضرورت پڑی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:26
    اکرم، احمد خان اور میں نے اعزاز کے ساتھ گریجوایشن مکمل کی اور پہلی تینوں پوزیشنیں ہمارے حصے میں آئیں جن میں اکرم پہلے، احمد خان دوسرے اور میں تیسرے مرتبے پر براجمان تھا۔ مجھے بہرحال اس کا افسوس نہیں تھا کہ اکرم اور احمد خان آگے نکل گئے تھے۔ اُنھوں نے یقیناً مجھ سے زیادہ محنت کی تھی اس لیے وہ اس اعزاز کے حق دار ٹھہرے۔ ایک سال بعد مجھے امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے ایک تعارفی خط کی ضرورت پڑی تو میں پروفیسر واحد علی خان سے ملا انھوں نے مجھے کہا کہ میں اپنا مختصر سا تعارف لکھ دوں۔ جب انھوں نے  پڑھا کہ یونیورسٹی میں، میں دوسرے اورآخری سال میں تیسرے نمبر پر آیا ہوں، تو انھوں نے کہا کہ کتنی شرمندگی کی بات ہے کہ تم اپنی پوزیشن بہترنہیں کر سکے۔ بلکہ نیچے کی طرف پھسلے ہو۔
آخری سال کے امتحان سے کچھ دن پہلے جمال دین صاحب نے،جو سول انجنیئرنگ شعبے کے ڈین بھی تھے، مجھے اپنے دفتر بلایا اور مجھے اسی شعبے میں ایک استاد کی حیثیت سے تقرری کی پیشکش کی اور اس بات کا وعدہ بھی کیا کہ وہ مجھے میری پسندیدہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے کا انتظام بھی کردیں گے۔ میں نے واضح طور پر ان کو بتا دیا کہ میں نے کبھی استاد بننے کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے۔ انھوں نے مجھے ایک گھنٹے تک لیکچر دے کر یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کے کیا فوائد ہوں گے۔ میں نے سکون سے ان کی ساری گفتگو سنی اور ان سے وعدہ کیا کہ میں اس پیشکش کے بارے میں سنجیدگی سے غور کروں گا۔ امتحانوں کے بعد میں چپ چاپ یونیورسٹی سے غائب ہوگیا اور پھر کبھی ان کے سامنے ہی نہ آیا۔ دراصل میں کھلے ماحول میں رہ کر عملی کام کرنا چاہتا تھا۔ برسوں بعد میں نے یو ای ٹی یونیورسٹی اور پھر ریاض یونیورسٹی سعودی عرب میں جز وقتی بنیاد پر پڑھایا بھی تھا،جس کا لُطف آیا لیکن مستقل استاد کا کام مجھے پسند نہیں تھا۔
جیسا کہ پہلے کہیں ذکر ہوا ہے، ایف ایس سی کرنے کے بعد میں نے اور غفور نے پی آئی اے کے ذریعے راولپنڈی جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اسی طرح اس بار انجنیئرنگ یونیورسٹی کے آخری امتحان کے بعد احمد خان نے مجھے اپنے گاؤں بھاکا بھٹیاں آنے اور کچھ عرصہ اس کے ساتھ گزارنے کی دعوت دی۔ اب تو یہ گاؤں موٹر وے ایم ٹو کے انٹر چینج کے ساتھ ہے جو لاہور سے محض ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے تاہم 1962 میں وہاں جانا کوئی آسان کام نہ تھا یہ ایک بڑا ہی طویل اور تھکا دینے والا سفر تھا، پہلے میں ڈسکہ سے ایک بس کے ذریعے  گوجرانوالہ سے ہوتے ہوئے شیخوپورہ اور پھر خانقاہ ڈوگراں پہنچا جو شیخوپورہ سے کوئی 10کلو میٹر دور تھا۔ یہاں احمد خان کا ایک ملازم دو گھوڑوں کے ساتھ میرے انتظار میں کھڑا تھا۔ گھوڑے کی سواری کرتے ہوئے ہم لوگ کوئی ایک گھنٹے میں بھاکا بھٹیاں پہنچ گئے۔ یہ میرا پہلا موقع  تھا کہ میں نے گھوڑے پر اتنا لمبا سفر کیا تھا اور اب میرا انگ انگ دکھ رہا تھا  اور میں بڑی مشکل سے چل پا رہا تھا۔ وہاں احمد خان اور اس کے اہل خانہ نے اپنے ڈیرے پر میرا استقبال کیا۔ ڈیرہ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں بڑے رتبے والے مہمان اکٹھے اُٹھتے بیٹھتے اور ٹھہرتے ہیں۔ روایتی ڈیرہ پر ایک بڑا سا درخت ہوتا ہے جو ڈیرے کی جان ہوتا ہے، وہاں بہت سارے ملازمین تھے جو مہمانوں اور میزبانوں کے کھانے پینے اور رہنے کا بندو بست کرتے تھے۔ اب مجھے اگلے تین چار دن اسی ڈیرے پر قیام کرنا تھا۔جو بہت ہی اچھا اور دلچسپ رہا۔ ہم یہاں خوب گپ شپ لگاتے، تاش کھیلتے اور طرح طرح کے دیسی اور اصلی کھانے کھاتے تھے۔ 
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -