اپنے خوابوں کو حقیقی رنگ دینے اور اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے راہیں تلاش کیجئے نہ کہ خوابوں کو بھول جائیں یا آرزوؤں کو خود خاک میں ملا دیں 

 اپنے خوابوں کو حقیقی رنگ دینے اور اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے راہیں تلاش ...
 اپنے خوابوں کو حقیقی رنگ دینے اور اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے راہیں تلاش کیجئے نہ کہ خوابوں کو بھول جائیں یا آرزوؤں کو خود خاک میں ملا دیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:13
اپنے خوابوں کو حقیقی رنگ دینے اور اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے راہیں تلاش کیجئے نہ کہ خوابوں کو بھول جائیں یا آرزوؤں کو خود خاک میں ملا دیں:کافی عشروں سے ہی، مجھے حیرت انگیز اور عجیب و غریب پس منظر کے حامل ہزاروں مختلف افراد سے ملاقات کا موقع میسر آتا رہا ہے۔ کچھ لوگ تعلیمی /نصابی لحاظ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، کچھ لوگ روایتی طور پر تعلیم یافتہ نہ تھے۔ کچھ افراد کا تعلق دولت مند خاندانوں سے تھا اور بعض لوگوں نے غریب گھرانوں میں جنم لیا تھا۔ میرے ان ملاقاتیوں میں سینکڑوں پیشوں کے قابل افراد شامل تھے، ان کی قومیتیں بھی مختلف تھیں اور ان کے ذاتی نظریات بھی علیٰحدہ اور مختلف تھے۔
ان میں سے بہت کم لوگ اپنی زندگی کے ہر پہلو کے لحاظ سے کامیابی تھے اور معاشرے میں عزت و احترام کے مستحق تھے لیکن لوگوں کی کثیر تعداد اپنی زندگی میں نہ تو کامیاب تھی اور نہ ہی وہ معاشرے میں کسی عزت و احترام کے مستحق سمجھی جاتی تھی۔
ان دو قسم کے افراد میں اس قدر تفاوت اور تضاد کیوں تھا۔ کافی مطالعے، تجزئیے اور جائزے کے بعد میں نے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے۔
لوگوں کی ایک قلیل تعداد جو زندگی میں کامیابی اور ترقی کے لیے کوشش کرتی ہے، اپنی اس کامیابی اور ترقی کے لیے بڑے بڑے خواب اپنی آنکھوں میں بسا لیتی ہے اور ان لوگوں کی تلاش میں رہتی ہے جو ان کے مقصد کے حصول کے ضمن میں ان کے مددگار اور معاون ثابت ہوسکیں۔ درس اثناء اکثر لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی رس طور ضائع کر رہے ہیں کہ وہ بامقصد خوابوں اور تصورات سے محروم ہیں اور اگر وہ یہ خواب اور تصور، اپنے ذہن میں پیدا کر بھی لیتے ہیں، تو وہ ایسے لوگوں میں گھرے ہوتے ہیں جو ان کے خوابوں اور تصوارت کو چکنا چور کر دیتے ہیں۔ بڑے بڑے خواب دیکھنے اور سوچنے کے باعث ان پر ہنستے ہیں، ان کی ہنسی اڑاتے ہیں اور ان کے خوابوں کے ناقابل حصول اور ناقابل تکمیل ہونے کا ثبوت کا انہیں یقین دلادیتے ہین۔
آئیے، اب ہم ان لوگوں کا تجزیہ کریں، ان کا جائزہ لیں جو عمومی طور پر لوگوں کے خواب چکنا چور کر دیتے ہیں، اور یہ بھی غور کریں کہ اگر آپ اپنی سوچ کا دائرہ بڑا رکھنا چاہتے ہیں، اور اس کے فوائد سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو پھر ”خوابوں کو چکنا چور کرنے والے افراد“کا کس طرح مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
آپ کے خواب چکنا چور کرنے والے افراد کی پہلی قسم: سب سے پہلے تو یہ لوگ کہتے ہیں آپ کے پاس مناسب تعلیم نہیں ہے۔ اکثر پیشوں اور ملازمتوں کے لیے ایک مخصوص حد تک تعلیم کا حصول ضروری اور اہم ہے لیکن یہ خیال کہ زندگی میں زیادہ سے زیادہ مالی کامیابی اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے اضافی روایتی تعلیم ضروری ہے، نہایت احمقانہ اور نامعقول رویہ اور موقف ہے۔ کچھ لوگ جو امریکہ کے 500 بڑے تجارتی اداروں کے سربراہ تھے، انہوں نے کالج کی تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ دریں اثناء، اکثر لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے وہ معمولی ملازمت پیشہ تھے۔ تعلیم اور کامیابی کے مابین برائے نام تعلق ہے۔ میں نے اپنے اکیس (21) ایسے شاگردوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا جو اس وقت صرف اور صرف اپنی کوششوں کے باعث، لاکھوں ڈالر کی قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ ان میں سے 16شاگردوں نے کالج میں سی (C) گریڈ (اوسط) حاصل کیا (امریکہ کے سابق صدر آئزن ہاور نے بھی اپنے کالج میں سی (C) گریڈ حاصل کیا تھا)۔ اور ان میں سے صرف پانچ شاگردوں نے بی (B) گریڈ حاصل کیا تھا اور کسی بھی شاگرد نے اے (A) گریڈ حاصل نہیں کیا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -