انڈین ہندو لڑکی گریماں کی دعوت پر اب اگلی منزل پر پہنچنا تھا، اُس کا خاوند ووک اگروال 15 روزہ آسٹریلین انڈین اخبار سےمنسلک ہے

 انڈین ہندو لڑکی گریماں کی دعوت پر اب اگلی منزل پر پہنچنا تھا، اُس کا خاوند ...
 انڈین ہندو لڑکی گریماں کی دعوت پر اب اگلی منزل پر پہنچنا تھا، اُس کا خاوند ووک اگروال 15 روزہ آسٹریلین انڈین اخبار سےمنسلک ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:59
یہ ایک کافی بڑا ہال ہے۔ سٹیڈیم کا سا سماں ہے۔ ایک طرف سٹیڈیم کی طرح اُوپر سے نیچے کی طرف دس بارہ Rows کرسیوں کی ہال کی Lenghtتک پھیلی ہوئی اور نیچے فرش برف کی پنہائیوں میں ڈوبا ہوا اور دَوسری طرف بھی کرسیوں کی تین قطاریں۔ تیس کے قریب بچّے، جوان اور کچھ مشّاق آئس سیکٹر آئس سکیٹنگ میں مصروف ہوئے۔ ہم ایک طرف کُرسیوں پر دراز …… سامنے ہونے والے ایک دلچسپ پروگرام کی طرف ہمہ تن گوش، مصروف کار ہوئے۔ نو آموز تو آہستہ آہستہ چلتے، سنبھلتے، گرتے اور پھر گرنے پر سامعین کا ایک شور، کچھ نیم آئس سیکٹر سنبھل سنبھل کر چلتے چلاتے۔ اور تین مشّاق آئس سیکٹر 40-30 کے سَن میں۔ ہوا کے دوش پہ سوار…… باہر بیٹھے سوچیں اگر یہ گر پڑے تو کیا بچے گا۔ لیکن کہاں کا گرنا، کہاں کا ٹھہرنا، بس کبھی تیر کی سی تیزی اور کبھی بندوق کی گولی کی سی پھُرتی۔ ایک جوڑا ”بیگم نو من کی دھوبن“ اور میاں ”سوکھے بن کی لکڑی“ گرتے پڑتے تھے باہر کی دیوار کو تھام تھام کر …… کچھ کچھ اندر۔ دو گھنٹے ختم ہونے سے کچھ پہلے یہ …… کچھ کچھ اندر فرش پر آرام سے سیکٹنگ کرنے لگے۔ جب بھی کوئی چھوٹا بڑا سکیٹنگ کرتے گِر پڑتا تو ہال میں بیٹھے سامعین ہنسی کے مارے لَوٹ پوٹ ہوجاتے اور گرنے والا پھر اُسی طرح رواں دواں ہوجاتا۔
سامنے دو تحریر یں 
1) Explore Ice Hockey Club (Join Now)
2) Become Figure Scator (Join Now)
وقت ختم ہوا۔ بچّے باہر آگئے۔ شُوز Scate Hire Shop میں واپس کیے اور باہر کا رُخ کیا تو ہاکی کلب والے نوجوان بڑی بڑی ہاکیاں اور دوسرے لوازمات کے ساتھ اندر آتے ہوئے دیکھے۔ اب اگلا سیشن آئس ہاکی والوں کا ہوگا۔
لِفٹ سے نیچے اُترے اور پارکنگ میں گاڑی میں سوار ہو کر اگلی منزل کی طرف چل دئیے۔ گریماں ایک انڈین ہندو لڑکی کی دعوت پر اب اگلی منزل پر پہنچنا تھا۔ گریماں نے گھر کی نشانی…… گھر کے باہر پام ٹری بتلایا۔ اُس کا خاوند ووک اگروال ایک15 روزہ آسٹریلین انڈین اخبار سے مُنسلک ہے اور کافی مَصروف شب و روز گزار رہا ہے۔ اِس فیملی کو ہم پہلے بھی مِل چکے تھے۔ اُنہوں نے ہمارے پہلے 2008ء کے وزٹ کے دوران بھی دعوت کی تھی، جب انہوں نے اپنا گھر Renovate کیا تھا اور Vivek نے مجھے ایک مشاعرہ جو اُن دنوں Redgum Function Centre میں ہوا تھا، صحافت میں ہونے کے ناطے مفت ٹکٹ لا کر دیا تھا۔ اُس شامِ غزل میں Avijit & Rachana انڈیا سے جلوہ افروز ہوئے تھے۔ اُسی دن اُن کے گھر گریماں نے سکرٹ پہنچی ہوئی تھی اور اُس کی ”آنیاں جانیاں“ قابلِ دید تھیں اور اُس کی بیٹی ”چیا“ شہد کی مکھّی کی طرح اُس کے گرد بھنبھنا رہی تھی۔ یہ بات میں نے گریماں کو اِس وزٹ کے دوران یاد کروائی تو وہ بڑی محظوظ ہوئی۔
یہی کوئی ایک گھنٹے تک ہم گریماں کے درِ دولت پر حاضری دیتے رہے۔ یہ گھر کافی بڑا لگا۔ آگے کافی وسیع کورٹ یارڈ اور گارڈن تھا۔ سٹنگ روم اور کچن کمبائینڈ تھے۔ لہٰذا کشادگی کا یہاں بھی سماں بندھا ہوا تھا۔ ہمارے جانے پر دونوں میاں بیوی کچن میں جُتے ہوئے تھے۔ وہاں ہمارے کھڑے کھڑے اروی کے پتّوں سے ایک ڈش بناتے اُس کو کچھ جَلا چُکے تھے۔ گھر میں گریماں کی دو بیٹیاں اور خاوند ووک اور اُس کی امّی بھی تھیں۔ اِس کی امّی سے ہم پہلے بھی اپنے سابقہ وزٹ کے دوران مِل چکے تھے۔ 
جلد ہی کھانا لگ گیا Vegetarian Food تھی۔ گوبھی آلو، چاول، دہی پکوڑی، چٹنی، سلاد، اور اروی کے پتّوں کی بنی ڈش۔ اور چھوٹے چھوٹے پراٹھے، گریماں پینٹ ٹی شرٹ میں ملبوس کافی کِھلی کِھلی سی لگی۔ وہ دِلی طور پر ہماری اِس ملاقات سے خوش تھی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -