پنجاب کی تقسیم در تقسیم کیوں؟

پنجاب کی تقسیم در تقسیم کیوں؟
پنجاب کی تقسیم در تقسیم کیوں؟

  


مملکت خدا داد پاکستان کا قیام مشیت ایزدی تھی اور یہ ملک ہمیشہ قائم رہے گا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 14 اگست1947ءسے لے کر آج تک مسائل کے باوجود نہ صرف پاکستان قائم و دوائم ہے، بلکہ قدرت کے عطا کردہ بہترین محل وقوع، بہت اچھے موسموں، زرخیز رقبے، ٹیلنٹ کی فراوانی، محنت و لگن، جفاکشی، جوش و جذبہ اور بعض دیگر امتیازی صفات کے باعث بہت سے شعبوں میں مناسب رفتار سے ترقی بھی کر رہا ہے۔ ہمارا اس بات پر ایمان بہت پختہ ہے کہ پاک سرزمین نہ صرف ترقی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے وہ منزل ضرور پا لے گی، جس کے لئے قدرت نے یہ سارا انتظام کیا تھا۔ انشاءاللہ تعالیٰ پاکستان اس خطے کا اہم سماجی، ثقافتی، سیاسی و اقتصادی ملک ہوگا۔

پاکستان کے حصے میں آنے والے پنجاب کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے بہت عرصے سے سازشیں جا رہی ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اپنوں کی ناسمجھی کی زہریلی سانجھ نے کئی عشروں سے پنجاب کے ٹکڑے کرنے کے لئے نئے صوبے بنانے کے راگ الاپنے شروع کر رکھے ہیں۔ الیکشن2008ءمیں جیت کر حکومتی اتحاد میں شامل ہونے والی دونوں بڑی جماعتوں نے پنجاب کے الگ الگ صوبے بنانے، خصوصاً بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب یا سرائیکستان کے نام سے نئے صوبے کے قیام کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا تھا۔ بعد ازاں دونوں بڑی جماعتیں حکومتی اتحاد میں اکٹھی تو نہ رہ سکیں اور دونوں نے پنجاب و مرکزی حکومت میں ایک دوسرے کے مقابل اپوزیشن کی ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیں، تاہم پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے دونوں بڑی جماعتوں کا اتفاق رائے قائم ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے نام سے سرائیکی علاقوں پر مشتمل الگ صوبہ بنانے کے اعلان کر چکی ہے اور اس مقصد کے لئے پارلیمینٹ میں قرارداد منظور کرانے کے ساتھ ساتھ نئے صوبے بنانے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی خاطر خصوصی پارلیمینٹ کمیٹی بھی تشکیل دے چکی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) صوبہ بہاولپور کی بحالی کے لئے پنجاب اسمبلی سے قرار داد منظور کرانے اور اسے ہی جنوبی پنجاب کا نام دینے کی تگ و دو کر رہی ہے۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے اپنا کام تقریباً مکمل کر لیا ہے اور امکان ہے کہ بہت جلد اس کی جانب سے حتمی سفارشات مرتب کر کے پارلیمینٹ میں منظوری کے لئے پیش کر دی جائیں گی۔ پارلیمینٹ سے منظوری ملنے پر نئے صوبوں کے قیام کے لئے آئین میں درکار ترمیم کی جائے گی، یوں نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ہی پنجاب کی تقسیم در تقسیم کی یہ سازش پایہءتکمیل تک پہنچ جائے گی۔

پنجاب کی تقسیم کے لئے بہاولپور صوبہ بحالی تحریک، سرائیکستان تحریک، جنوبی پنجاب صوبہ تحریک، ہزارہ تحریک، پوٹھوہار تحریک جیسے ناموں سے بہت سے گروہ متحرک رہے۔ ان گروہوں کو اپنوں کی ناسمجھی، زہریلے پروپیگنڈے اور اغیار کی پشت پناہی بھی حاصل رہی، مگر کسی حکومت یا متعلقہ سرکاری ادارے نے اس کا کماحقہ نوٹس لینے کی زحمت گوارہ نہیں کی ۔ حقائق تو یہ ہیں کہ پنجاب کی لسانی بنیادوں پر تقسیم دراصل پاکستان کے خلاف گھناو¿نی سازش ہے۔ یہاں بولی جانے والی زبان صرف ایک ہی ہے۔ مختلف علاقوں میں پنجابی زبان کے الگ الگ لہجے تو اس کا حسن ہیں۔ لہجوں کو بنیاد بنا کر لسانی تعصب ابھارنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب پنجاب کی تقسیم در تقسیم کا عمل تکمیل کے قریب تر ہے، مگر کوئی قومی ادارہ اس طرف متوجہ ہی نہیں۔ ہم پنجاب کی تقسیم در تقسیم کی سازش کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے تمام محب وطن حلقوں سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے دیس، اپنی دھرتی اور اپنی تہذیب و ثقافت کے خلاف بیرونی سازش کے خلاف مربوط اور منظم آواز اٹھائیں اور دشمنوں کو ان کے مذموم ارادوں میں کامیاب نہ ہونے دیں۔

مزید : کالم