وفاقی وزیر اطلاعات کا میڈیا سے شکوہ

وفاقی وزیر اطلاعات کا میڈیا سے شکوہ
وفاقی وزیر اطلاعات کا میڈیا سے شکوہ

  


وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے شاید پہلی مرتبہ میڈیا والوں سے طنزیہ اور استہزائیہ انداز میں شکوہ کیا۔ اس میں رنج کا پہلو بھی تھا اور کچھ کچھ برہمی بھی۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے میڈیا والوں سے صحیح رپورٹنگ کے لئے کہا۔ ان کے بقول وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اس وقت وزیر اعظم نہیں تھے جب اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کی تقرری کی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے یوں تفصیل بیان کی کہ اس وقت کے وزیر اعظم (گیلانی) نے پانچ رکنی کمیٹی بنائی راجہ پرویز اشرف کمیٹی کے سربراہ تھے اس کمیٹی نے گیارہ افسروں/ افراد کے انٹرویو کرکے سفارش کی تھی اس کے بعد وزیر اطلاعات نے یہ بھی گلہ کیا کہ میڈیانے کہا ہے، بلدیہ ٹاو¿ن کراچی کی فیکٹری میں آتشزدگی کے مقدمہ سے قتل کی دفعہ 302 خارج کرنے کی ہدایت کی ہے قمر زمان کائرہ کے مطابق یہ بھی درست نہیں دراصل وزیراعظم سے سوال کیاگیا اور یہ شکایت کی گئی کہ پولیس نے آتشزدگی کے واقعہ کی ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ 302 لگا دی ہے اس پر وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ اس معاملے کا قانونی پہلوو¿ں کی روشنی میں جائزہ لیں۔ انہوں نے پوچھا اس میں دفعہ 302 ختم کرنے والی بات کہاں سے آگئی۔

قمر زمان کائرہ اچھی گفتگو کرتے ہیں وہ دلیل سے بات کرنے کے عادی ہیں اور اب انہوں نے چودھری نثار کے اعتراضات پر اعتراض کر دیا اور کہا ہے کہ انہوں نے (نثار) نے 18 ویں ترمیم پر دستخط تو کئے اسے پڑھا نہیں۔ لیڈر آف اپوزیشن کے مطالبات تسلیم کئے جانے کے لائق نہیں۔ 18 ویں ترمیم کے تحت گورنروں کے کوئی اختیارات نہیں ہیں اب اگر ان سب کو ملا کر پڑھ لیا جائے تو بات ذرا دلچسپ ہو جاتی ہے اور اب یہ نئی مکالمے بازی شروع ہوئی ہے۔جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے تو اس میں ذمہ دار حضرات کی کمی نہیں تو اس کے برخلاف رویے والے حضرات بھی ہیں اسی لئے میڈیا سے شکایات بھی پیدا ہوئی ہیں اس سلسلے میں تو ہم بھی اکثر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ ابھی گزشتہ سے پیوستہ دن کی بات ہے کہ ایک ٹی وی پر پٹی چلنا شروع ہوئی۔ سلامتی کونسل نے ڈرون حملوں کی اجازت دے دی۔ پھر اسے آگے بڑھایا۔ یہ اجازت مسعود احمد خان نے دی پھر اور خبر بڑھی تو کہا گیا ڈرون حملوں کی اجازت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھ دیا گیا ہے۔

یہ غیر ذمہ داری کی انتہا تھی۔ اتفاق سے یہ چینل میڈیا کے اس گروپ کا ہے جو پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کے لئے دن رات ”محنت“ کر رہا ہے۔ یہ پٹی بے خبری کی علامت تھی۔ مسعود احمد خان اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب ہیں اس وقت پاکستان سلامتی کونسل کا صدر ہے اس کا انتخاب دو سال کے لئے ہوا ہے اس لئے جب بھی سلامتی کونسل کا اجلاس ہو گا تو صدارت پاکستان ہی کو کرنا ہو گی اور مسعود احمد خان نے پاکستان کے مندوب ہونے کی حیثیت سے صدارت کی اور دو سال تک ایسا ہی ہو گا۔ سلامتی کونسل کے پانچ رکن ممالک ویٹو والے ہیں اور باقی جنرل اسمبلی سے انتخاب کے ذریعے چنے جاتے ہیں چنانچہ فیصلہ جو بھی ہو وہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہونا ہے اس سلسلے میں بھی کسی نے ویٹو کیا اور نہ ہی مخالفت کی چنانچہ قرارداد منظور ہو گئی اب سیکرٹری جنرل کے دفتر سے جو خبر مہیا کی گئی وہ یہ ہے کہ ڈرون حملوں کی اجازت مشروط ہے کہ یہ طیارے جاسوسی کا کام کریں گے اب مزید واضح ہو گیا کہ پاکستان کے مندوب نے اجازت نہیں دی یہ سلامتی کونسل کا فیصلہ تھا اور وہ بھی مشروط ہے ایسے میں جس انداز میں خبر شائع کی گئی اس سے موجودہ حکومت اور حکمران جماعت کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے اس لئے میڈیا آزاد اور خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار بھی ہونا چاہیے۔رہ گئی چودھری نثار والی بات تو ان کے تو ایک بیان کی وضاحت مسلم لیگ (ن) کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید نے کر دی اور کہا کہ صدر زرداری کو نہ ہٹانے کا فیصلہ ان کی جماعت کا ہے جو میاں محمد نواز شریف نے سنایا چودھری نثار نے ایسا مطالبہ کیا ہے تو یہ پارٹی پالیسی نہیں ان کی ذاتی رائے ہو گی پارٹی فیصلہ وہی ہے جو میاں محمد نواز شریف نے کہا۔بات قمر زمان کائرہ سے چلی دور نکل گئی بہرحال میڈیا آزاد ہے اور اسے آزاد رہنا ہے تاہم ذمہ دار ہونے والی بات بری نہیں اسے ذمہ دار تو ہونا ہی چاہیے اور یہ ہم سب سفید بالوں والے پرانے لوگ درخواست کرتے چلے آرہے ہیں ویسے تو قمر زمان کائرہ کو یہ بھی شکایت ہے کہ میڈیا نے بادشاہ گر کا کام سنبھال لیا ہے تو عرض یہ ہے کہ جو یہ کرتا ہے اسی کو کہیں سارا میڈیا یہ کام نہیں کر رہا۔

مزید : کالم