سائبیرین پرندے

سائبیرین پرندے
سائبیرین پرندے

  


اقراءفاو¿نڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں نے پارٹیاں بدلنے والے ارکان اسمبلی اور سیاستدانوں کے بارے میں ایک دلچسپ اصطلاح استعمال کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ سائبیرین برڈ، یعنی سردی کے موسم میں ہجرت کرنے والے سائبیریا کے پرندے ہیں۔ اصطلاح تو خوب ہے، کیونکہ آج کل پاکستان میں سردیوں کی صُبحیں اور شامیں ہیں اور یہ ارکان اسمبلی غالباً اپنا لہو گرم رکھنے کے لئے یہ ہجرتی پروازیں کر رہے ہیں۔ یہاں ہمیں شعیب بن عزیز کا مشہور شعر یاد آ رہا ہے:

 اب اُداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میںاس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میںآج کل پورے ملک میں یہ ہاہا کار مچی ہے کہ ”سٹیٹس کو“کی سیاست نہیں چل سکتی۔ اس بات کا ان ارکان اسمبلی نے غالباً یہ مطلب لیا ہے کہ ایک ہی جماعت میں رہنا اب” سٹیٹس کو“ کے زمرے میں آتا ہے، اس لئے پارٹی بدلنا ضروری ہے۔ ہر پارٹی بدلنے والا کوئی نہ کوئی تاویل ضرور سامنے لا رہا ہے، مگر جو سوال فوراً ذہن پر ہتھوڑا بن کر برستا ہے، اس کا تعلق ٹائمنگ سے ہے.... جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں وقت کا سوال اٹھا تھا کہ انہوں نے آخر اپنے لانگ مارچ اور دھرنے کا ایسے وقت ہی انتخاب کیوں کیا، جب انتخابات میں چند ماہ رہ گئے، اسی طرح پارٹیاں بدلنے والے ارکان اسمبلی اور سیاستدانوں کے حوالے سے بھی یہ سوال کم اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں نے تو ایک خوبصورت اصطلاح استعمال کر کے انہیں سائبیریا کے پرندے کہا ہے، حالانکہ شیدا ریڑھی والا انہیں فصلی بٹیرے کہتا ہے۔ کل اس نے بڑی معصومیت سے یہ سوال پوچھا ....کہ آخر ان ارکان اسمبلی کو پانچ سال پورے ہونے کے بعد ہی اس بات کا احساس کیوں ہوا کہ اُن کی سابقہ جماعتیں عوامی خدمت کے کام نہیں کر رہیں.... اس سوال کا جواب تو کوئی بقراط ہی دے سکتا ہے، کیونکہ کیا پتہ یہ لوگ کیسے سوچتے ہیں اور کن باتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں.... مثلاً سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے فرزندِ ارجمند سیف الدین کھوسہ نے یہ کہہ کر مسلم لیگ (ن) کو لات ماری ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اب بھلا اُن کی اس بات کو کون جھٹلا سکتا ہے؟.... اب وہ راتوں رات صوبہ جنوبی پنجاب کے چیمپئن بن گئے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جب ان کے والد گرامی شریف برادران سے ناراض ہوگئے تھے تو انہوں نے یہ مو¿قف اختیار نہیں کیا تھا۔ اس وقت تو کھوسہ سرداروں کو نظر انداز کرنے کا الزام تھا۔ یہ الزام تو محمد نواز شریف کی ایک ”جپھی“ سے دور ہوگیا، مگر اب معاملہ کچھ پیچیدہ نظر آتا ہے۔ اس سے پہلے کھوسہ سردار اجتماعی فیصلے کرتے تھے، لیکن اب سیف الدین کھوسہ انفرادی فیصلہ کر کے مسلم لیگ (ن) سے علیحدہ ہوگئے ہیں اورانہوں نے فریال تالپور کی موجودگی میں پیپلز پارٹی جوائن کر لی ہے۔حالیہ دنوں میں رجحان تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ والدِ محترم بیٹوں کے چڑھاوے پیش کرتے ہیں، مگر سیف الدین کھوسہ نے یہ روایت توڑ دی ہے اور والد محترم سے پوچھے بغیر پارٹی بدل گئے ہیں۔ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے رحیم یار خان میں اپنے تین بیٹوں کی سوغات صدر آصف علی زرداری کی خدمت میں پیش کی تھی تو جہلم کے سینئر سیاستدان رانا محمد افضل نے اپنے دو بیٹوں کو کراچی میں بنفسِ نفیس اُن کی خدمت میں پیش کیا۔ یہ فرمانبرداری لائق تحسین ہے، وگرنہ آج کل تو بچے والدین کی بات ہی نہیں سنتے.... اور بچے بھی وہ، جو ایم این اے ہوں، جنہیں کروڑوں روپے کے فنڈز ملتے ہوں اور خرچ کرنے پر پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔ سرداری نظام میں قبیلے کا چیف سب کا سردار ہوتا ہے، اس کی حکم عدولی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنے قبیلے کے سردار ہیں اور سیف الدین کھوسہ ان کے ولی عہد بھی ہیں، پھر یہ کیسے ہو گیا کہ انہوں نے اپنے سردار والد محترم کو بتائے بغیر پارٹی بدل لی اور بڑے کھوسہ صاحب کو مشکل میں ڈال دیا۔محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف نے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کو پارٹی میں جو مقام دے رکھا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ اس وقت وزیراعلیٰ کے سینئر مشیر ہیں اور کئی معاملات میں ان کی پوزیشن صوبے کے حکومتی ڈھانچے میں دوسری ہے۔ کھوسہ صاحب کے کہنے پر میاں شہباز شریف نے ڈیرہ غازیخان میں متعدد پراجیکٹس منظور کئے، جن میں میڈیکل کالج کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ کل تک سیف الرحمن کھوسہ بھی شہباز شریف کے گن گانے والوں میں شامل تھے، آج ان میں انہیں عیب نظر آ رہے ہیں۔ اپنی رخصتی کے لئے عذر تو انہوں نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے اور علاقے کو ترقی کے ثمرات سے محروم رکھنے کا تراشا ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ ڈیرہ غازیخان میں پیپلز پارٹی کو مضبوط امیدوار میسر نہیں ہیں، جبکہ وہاں اُس کا ووٹ بینک موجود ہے۔ اس خلا سے فائدہ اٹھانے کے لئے سیف الدین کھوسہ نے ایک تیر سے دو شکار کئے۔ پیپلز پارٹی کی مقامی وکٹ بھی لے اڑے اور جنوبی پنجاب کا نعرہ لگا کر اُس کے چیمپئن بھی بن گئے۔ ان کے قریب ترین حریف لغاری سردار یقیناً اس سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ اگر کھوسہ سردار مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر قابض ہوگئے تو ہم تحریک انصاف میں رہ رہ کر کیا ان کا مقابلہ کر سکیں گے؟

انتخابات سے پہلے پارٹیاں بدلنے کا یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ گزرے ہوئے پانچ برسوں میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے اپنے مستقل سے خوفزدہ ہیں۔ عوام کی سوچ پر تبدیلی کا رنگ غالب ہے۔ عمران خان کی حمایت ہو یا ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت، اس حقیقت کا اظہار ہے کہ لوگ اس استحصالی نظام سے تنگ ہے، جس میں چند فیصد اشرافیہ نے 18 کروڑ عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ سیاسی جماعتیں عوام کی اس سوچ کو مدنظر رکھ کر اپنے منشور، اندازِ سیاست اور سوچ میں تبدیلی لائیں، مگر پارٹیاں بدلنے والوں کے ساتھ روزانہ فوٹو سیشن کرا کے اپنا سکور بڑھانے کے جنون میں مبتلا سیاسی جماعتوں کے قائدین کو غالباً اس تبدیلی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام کو جس نظام نے جکڑ رکھا ہے، اس کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ تبدیلی بس اتنی ہی کافی ہے کہ کوئی سردار ایک پارٹی سے نکل کر دوسری میں چلا جائے اور وڈیرہ اپنی جماعت بدل لے۔ باقی سب کچھ جوں کا توں چلنا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کو شاید اس بات کا بھی کوئی اندازہ نہیں کہ وہ جنہیں بڑے طمطراق سے شامل کر رہی ہیں، عوام اُن میں سے اکثر کو چلے ہوئے کارتوس سمجھتے ہیں۔ اُن کا پارٹی چھوڑنا بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی جماعت میں رہ کر عوام کے لئے کچھ نہیں کر سکے.... لہذا جو کارکردگی کے لحاظ سے ایک سیاسی جماعت میں ناکام ہے، وہ دوسری سیاسی جماعت میں جا کر کیا کارنامہ سر انجام دے سکتا ہے؟ سیاستدانوں کی دنیا سب سے نرالی ہے۔ وہ اپنے حلقے کے عوام کو بھی بھیڑ بکریوں کی طرح اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ مجھے اس وقت بڑی ہنسی آتی ہے، جب کسی سیاستدان کے بارے میں یہ خبر آتی ہے کہ وہ ہزاروں ساتھیوں سمیت پارٹی چھوڑ کر دوسری میں شامل ہوگئے ہیں.... کیا معلوم کہ جن لوگوں کی وہ بات کر رہے ہیں، انہوں نے اس فیصلے پر ان کے خلاف جوتیاں اٹھا رکھی ہوں۔ اس سے بڑی ہٹ دھرمی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی کہ ایک پارٹی کے نام پر ووٹ حاصل کر کے آپ اپنے ووٹروں سے پوچھے بغیر دوسری پارٹی میں شامل ہو جائیں اور یہ دعویٰ بھی کریں کہ ہزاروں لوگ بھی آپ کے ساتھ دوسری پارٹی میں چلے گئے ہیں.... تاہم یہ سب کچھ ہمارے ہاں ہوتا ہے اور آج کل یہ سلسلہ زوروں پر ہے۔ کیا تبدیلی کے خواب دیکھنے والے عوام کو اس قسم کی شعبدہ بازیوں سے بہلایا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے ہاں اتنا ہی قحط الرجال ہے کہ چند فیصد لوگ ہی حکمرانی کے لئے دستیاب ہیں؟ اس لئے وہ کبھی ادھر چلے جاتے ہیں اور کبھی اُدھر....اب یہ بات سمجھ آتی ہے کہ آئین کی شقوں 62، 63 کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ اگر ان شقوں پر عملدرآمد کرنا ہے تو فرشتوں کو لانا پڑے گا۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کو فرشتوں اور شیطانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے؟ کیا یہاں انسان دستیاب نہیں ہو سکتے؟ کیا سیاسی جماعتیں دو انتہاو¿ں سے ہٹ کر اچھے انسانوں کو ٹکٹ نہیں دے سکتیں؟.... ہر قومی مسئلے اور خرابی کا جواب ”جمہوریت اور آئین کی بالادستی“ کا سٹریو ٹائپ جملہ بول کر دینے والے کبھی اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ ان دونوں کی بالادستی کو آپ نے قائم ہی کب ہونے دیا ہے؟ جہاں اُمیدوار منڈی میں بکنے والے جانوروں کی طرح بکتے اور خریدے جاتے ہوں، وہاں جمہوریت وہی نقشہ پیش کر سکتی ہے، جو ہمارے ہاں نظر آ رہا ہے.... کیا یہ گھسی پٹی فلم اب مزید چل سکتی ہے؟

مزید : کالم