ٹریفک کے اشارے اور باہمی رواداری

ٹریفک کے اشارے اور باہمی رواداری
ٹریفک کے اشارے اور باہمی رواداری

  


لوگوں میں ٹریفک کا شعور اجاگر کرنے کے لئے ہمارے بچپن سے پولیس جو نعرے لگاتی آئی ہے، ان کے ہوتے ہوئے آنکھوں میں ایک عبرت آموز مگر مقبول کتاب کا عنوان گھوم جاتا ہے.... ”موت کا منظر : مرنے کے بعد کیا ہو گا“ ۔ ہر تشہیری مہم کا آغاز عام طور پران الفاظ سے ہوا ”تیز چلو گے، جلد مرو گے“ ۔ اسی کے زیر اثر مجھے 1970 ءکی دہائی میں ایبٹ آباد سے راولپنڈی جانے والی مسافر ویگن میں جلی حروف میں درج یہ اقوال زریں کبھی نہیں بھولتے .... ” ایک گھنٹے میں پنڈی پہنچنے والا قبرستان میں .... ڈیڑھ گھنٹے والا ہسپتال میں.... دو گھنٹے والا اپنے گھر“۔ آج تک صرف دو ایسے سلوگن دیکھے جن میں خوشگوار ترغیب سے کام لیا گیا ہے ۔ ایک میں راہ چلتے ہوئے ”میوچل کرٹسی“ یا مشترکہ رواداری کی ضرورت بتائی گئی تھی اور دوسرا تھا ” ٹریفک کے اشارے زندگی کے اشارے ہیں ، ان پر عمل کیجئے‘ ‘ ۔   باتیں تو یہ دونوں اہم ہیں ، لیکن ہمارے شہر و قصبات میں موٹر کی ٹکر کے بعد اونچی آواز میں جو بحث کرنا پڑتی ہے ، وہ بذات خود حادثے سے کم خوفناک نہیں ہوتی ۔ ’اندھے ہو نظر نہیں آتا‘ ، ’اوئے پاگل آدمی ، تم کہاں سے آنکلے‘ ، ’ناں ، یہ کوئی طریقہ ہے موٹر سائیکل چلانے کا‘ .... اب یہ تو طے ہے کہ اس قسم کے سوالوں کا یکدم جواب دینا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا ، اس کے لئے ایک تو ضروری ہے کہ آپ بٹ صاحب ٹائپ آدمی ہوں اور آپ کی آواز فطری طور پر بلند ، پُراعتماد اور کرخت ہو۔ دوسرے اس ہنگامی صورت حال میں اپنا کیس پیش کرنے اور فریق مخالف پر جوابی فرد جرم کی بوچھاڑ کرنے کے لئے ایک خاص قائدانہ صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے ۔ بصورت دیگر چند ہی مہینوں میں میری طرح آپ کی گاڑی بلا معاوضہ اس جسمانی حالت کو پہنچ جائے گی جو ہندوستان پر بابر کے حملے کے وقت رانا سانگا کی تھی ۔ عقلی آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ قانون اور مستحکم اقدار ہی کو سماجی رویوں کی بنیاد بنانا چاہتا ہے .... چونکہ ڈرائیونگ کا تعلق بھی سماجی رویوں سے ہے، اس لئے حد رفتار اور ٹریفک اشاروں کی پابندی ، اوورٹیکنگ میں اضافی احتیاط اور گول چکر پار کرنے کے اصول کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے اور ان سب کا مرکزی نکتہ یہ سوال کہ کون سی صورت حال میں ”رائٹ آف وے“ یا راہداری کا ترجیحی حق کس کے پاس ہوگا ۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں ترقی یافتہ معاشروں کے طور طریقے اور ہمارے ارد گرد کے زمینی حقائق آپس میں کبڈی کھیلنے لگتے ہیں ۔ اگر میرے علاوہ کسی اور کے ماموں بھی شمالی لاہور کے وسط میں رہتے رہے ہوں اور منزل پر پہنچنے کے لئے درخواست گزار ایک موریہ پل کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو تو ایسے آدمیوں کے لئے عدلیہ کی طرح ٹریفک کے آئینی بحرانوں کو سمجھنا مشکل نہیںرہتا ۔ سچ پوچھیں تو چند سال پہلے تک اس راستے کو اپنانے میں بھی ایک لطف تھا ۔ مجھے تاریخ میں دلچسپی کی بدولت یہ سوچ سوچ کر مزہ آتا کہ ہو نہ ہو یہ پل جی ٹی روڈ تعمیر کراتے ہوئے شیرشاہ سوری ہی نے بنوایا ہو گا ، جسے انگریز نے اپنے نام الاٹ کرالیا ۔ اصل تمدنی ذائقہ انار کلی، بھاٹی ، دربار سے تانگہ پکڑ نے میں تھا، جس کے بعد ”دلی دروازہ“ کے جنکشن پر میکلوڈ روڈ اور ”ٹیشن“ کے پلیٹ فارم جدا جدا ہو جاتے ۔ یہاں سے معمول تھا کہ میراں دی کھوئی ، کھوجے سائیں کی صدا کا تعاقب کیا جائے .... راستے میں صبح ، دوپہر اور شام کو موسم کے لحاظ سے بہار، خزاں اور برکھا کے رنگ بدلتے رہتے ۔ سوٹڈ بوٹڈ ، شیروانی پوش اور تہمد والی سواریاں چڑھتی اور اترتی رہتیں ، لیکن ”رمکے رمکے“ مامتا کی سی شفقت کے ساتھ تین تال بجانے والے گھوڑے کا ساﺅنڈ ٹریک شائد ہی تبدیل ہوا ہو ۔ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ اپنے زمانے کے مقبول گلو کار کندن لال سہگل جس طرح گیت میں ’پی کے خوشی میں بار بار‘ جیسا ایک آدھ مصرعہ نثری نظم کے انداز میں کہہ جاتے تھے، بالکل اسی طرح تانگہ بان بھی گھوڑے کے انسٹرومینٹل میوزک کی گت پر راہگیروں سے مکالمہ کرتا جاتا ۔ مقصد یہ تھا کہ سب پیدل اور سوار ہمارے تانگے کی پیش قدمی سے آگاہ رہیں اور اپنا اپنا بچاﺅ کر لیں ، لیکن کوچوان کی گرائمر ایسی ہوتی کہ صیغہ واحد حاضر اور ”تھرڈ پرسن سنگلر“ کا فرق واضح نہ ہونے پاتا ۔ ہدایات کا دائرہ ’خبردار ، بچا رہے‘ سے شروع ہو کر ’بھائی ٹوپی‘ ، ’بھائی سیکل‘ اور ’بھائی مفلر‘ تک پھیلتا جس میں زور کلام کی خاطر لفظ کے آخر میں ساکن حرف علت یا آدھے الف کی آواز کا اضافہ کر دیتے ، جیسے آپ ’سیکلا‘ اور ’مفلرا‘ کہتے کہتے بیچ میں رک جائیں ۔ ایک موریہ پل کے قریب سے گزرتے ہوئے آج کل انجنوں اور ہارنوں کا مشینی شور سنیں تو احساس ہو گا کہ پرانے کوچوانوں کی صدا کاری میں انسانی اوصاف کی جھلک نمایاں تھی، کیونکہ آواز کا زیر و بم یا الفاظ کا چناﺅ ان کے بس میں رہتا، اسی لئے ایک مرتبہ ایک مال بردا ر ر ہڑے والے نے پل کے عین نیچے اپنا یہ اختیار مجھ پر ایک عجب تخلیقی طریقے سے آزمایا ۔ یہ رہڑہ فاروق گنج کی طرف سے کراں تابہ کراں سریا لاد کر مصری شاہ والے چوک پر ٹریفک کے منجدھار میں شامل ہوا تھا ، لیکن اس جذبے کے ساتھ کہ سامنے یا پیچھے سے آنے والی کوئی گاڑی گزر سکے تو مناسب ہے اور اگر نہ گزر سکے تو بہر حال ”ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں“ ۔ بار بار ہارن سے زچ ہو کر رہڑہ بان نے میری موٹر سائیکل کو حقارت سے دیکھا اور کہا:”کیا پیں پیں لگا رکھی ہے، منہ سے کہو راستہ چاہئے“۔ماضی سے موازنہ کروں تو اب مجھے کشادہ سڑکوں، زمین دوز راستوں اور نیلی سائن پوسٹنگ والے ان فلائی اوورز سے گزرنا بہت پُرسہولت لگتا ہے، جہاں الگ الگ لین کے درمیان ”بلی کی آنکھیں“ چمک رہی ہیں ۔ کوئی مانے یا نہ مانے، ملک بھر کی شاہراہوں پر جان لیوا حادثات کی شرح کم ہوئی ہے اور میرے شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک انقلابی تبدیلی سے ہمکنار کرنے کے لئے جو ”دگڑدم“ مچی ہوئی ہے ، اس سے غیر متاثرہ علاقوں میں گاڑیوں کی اوسط رفتار پہلے سے کہیں زیادہ ہے ، پھر بھی ڈرائیونگ میں ہمارے رویوں کی اصلاح کس حد تک ہوئی اور قانون پر عمل درآمد کا رجحان بڑھا یا اس میں کمی آئی ؟ اگر محض اپنی مظلومیت کو مثال بناﺅں تو سڑک پر ٹکر ، رگڑ یا گھسٹ کے بعد میرا یہ ڈر کم نہیں ہوا کہ فریق مخالف پہلے تو غلطی کرے گا ، پھر اونچی آواز کے زور پر مجھے چپ کرا دے گا ۔  آج تحریر کی ابتدا ٹریفک کے اشاروں اور سڑکوں پر ’ ’میوچل کرٹسی“ یا باہمی رواداری کی بات سے ہوئی تھی ۔ فالتو تعلیمی ڈگریوں سے آراستہ میرے ایک دوست کا خیال ہے کہ آمد و رفت کے نظام میں رواداری کے لئے جو حقیقت پسندی درکار ہے، اس کے لئے جمہوری عمل کے تسلسل کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں زرعی اصلاحات بھی نافذ ہونی چاہئیں ۔ وجہ یہ ہے کہ پی ٹی وی کے ڈرامہ ’دوبئی چلو‘ میں بتائے گئے اصول کے تحت دوبئی کی طرح جاگیرداری بھی ایک کیفیت کا نام ہے اور جب تک اس کا خاتمہ نہیں ہوتا ، دوسرے انسانوں کو اپنے برابر سمجھنے کی سوچ پیدا نہیں ہو سکتی ۔ اس کے برعکس ٹریفک کے اشاروں کو زندگی کے اشارے سمجھنا انسانی جبلت ہی کا نہیں ، ٹریفک کے اصول و ضوابط ، لائسنس حاصل کرنے کے طریق کار اور ڈرائیور کی مناسب تربیت کا معاملہ بھی ہے ۔ چونکہ مَیں نے ”خوش کلامی“ میں صرف اچھی اچھی باتیں سنانے کا عزم کر رکھا ہے ، اس لئے یہ خاندانی راز کبھی فاش نہیں کروں گا کہ باقاعدہ ٹریننگ کے بغیر اٹکل پچو طریقوں سے ڈرائیونگ سیکھ لینے کے بعد مَیں نے راولپنڈی میں رہتے ہوئے اپنا اولین لائسنس خیر پور ، سندھ سے کیوں حاصل کیا تھا ۔ البتہ یہ اطمینان ضرور ہے کہ دیسی اور ولائتی ضابطہءشاہراہ کے بغور مطالعہ اور اس پر امکانی حد تک عمل درآمد کی بدولت انگلستان کا ڈرائیونگ ٹیسٹ نہ صرف باقاعدہ اسباق کے بغیر پہلی کوشش میں پاس کر لیا ، بلکہ غیر رسمی گفتگو میں ممتحن سے یہ داد بھی ملی کہ ایک عرصے بعد حقیقی معنوں میں ایک اچھا ڈرائیور دیکھا ہے۔ یہ جملہ انگریزی میں تھا ، اس لئے اور بھی پُراثر لگا.... لیکن ہماری بیگم صاحبہ کے خیال میں ممتحن سمجھ گیا ہو گا کہ اس آدمی کو امتحان میں فرسٹ آنے کا شوق ہے ، سو اس نے آپ کی عزت رکھ لی ۔ ہمارے یہاں بھی ٹریفک کا نظام ”پڑھاکو بچوں‘ ‘ کے ہاتھ میں آ جانے کے بعد ایگزامینر کو چکر دینا پہلے جتنا آسان نہیں رہا ۔ ابھی تک واضح نہیں کہ رواں سال سے ڈیجیٹل لائسنس لازمی ہو جانے کے نتیجے میں کیا پرانی ”لال کاپی“ کو بآسانی لائسنس میں تبدیل کر دیا جائے گا یا ہم جیسے ”خیر پور مارکہ“ ڈرائیور گھر بیٹھے ہی “ پکڑے جائیں گے فرشتوں کے لکھے پرناحق “ ۔ دریں خفیہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ برٹش لائسنس کا ابھی تک پاکستان میں بہت مقام ہے ۔ پڑھاکو بچوں کے علم میں ہوگا کہ چند سال پہلے تک انگلستان والے اپنا امتحان پندرہ بیس منٹ کی عمومی ڈرائیونگ سے شروع کرتے تھے ، پھر ایمرجنسی بریک ، تھری پوائنٹ ٹرن ، متوازی اور ریورس پارکنگ۔ آخر میں ٹریفک اشاروں اور دیگر اصولوں کے بارے میں زبانی سوالات .... سنا ہے کہ اب تحریری امتحان بھی لیا جاتا ہے ۔

 مقامی آبادی کے لئے راولپنڈی کے بعد اب لاہور میں ڈرائیونگ سکول کے قیام کی خوش آئند خبر سن کر مجھے یہ تشویش ہونے لگی ہے کہ ٹریننگ تو سر آنکھوں پر، لیکن اس کے لئے تربیت کار کہاں سے آئیں گے ؟اگر آپ نے لاہور کی سڑکوں پر خود پو لیس کی گاڑیوں کو سرخ بتی اور سفید لائن کا جاگیر دارانہ ”ویو“ لیتے دیکھا ہو یا قذافی سٹیڈیم کے باہر ہونے والے ڈرائیونگ ٹیسٹ میں کبھی دوسری جنگ عظیم والا انگریزی کا آٹھ بنایا ہو تو مَیں آپ سے پوچھوں کہ ایسے موقعوں پر ہنسی کیسے ضبط کی جاتی ہے؟ ڈرائیونگ سکول والے چاہیں تو ایک آدمی کو، جو برٹش لائسنس سے مسلح ہے، تربیت کاروں کی فہرست میں شامل کرسکتے ہیں۔ امیدوار کا وعدہ ہے ٹریننگ کا آغاز کرتے ہوئے ، دروازہ ، سیٹ بیلٹ ، مرر اور ہینڈ بریک چیک کرنے کے بعد وہ سٹیرنگ تھامنے والے کے ہاتھوں پونے تین یوں بجوائے گا کہ مکتوب الیہ بے مزہ نہ ہونے پائے ۔

مزید : کالم