نفرت کی دیواریں تعمیر نہ کرو

نفرت کی دیواریں تعمیر نہ کرو
نفرت کی دیواریں تعمیر نہ کرو
کیپشن: abdul

  

دیواریں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ گھر ہو یا مکان، دیواروں کے بغیر وجود میں نہیں آسکتے، البتہ ان کی پائیداری اور کمزوری کا انحصار اس میں استعمال ہونے والے میٹریل پر ہوتا ہے۔ سیمنٹ کی دیوار مضبوط اور گارے سے بنی ہوئی دیوار کمزور ہوگی۔ دیوار کی یہ قسم گھروں، دفتروں اور سکولوں وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ دیوار کی ایک قسم وہ ہے جو موجود تو ہوتی ہے، مگر نظر نہیں آتی۔ مثلاً پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو ایک ایسی ہی دیوار نے ایک دوسرے سے الگ کیا ہوا ہے۔ اکثر ممالک ایسی ہی دیواروں کی وجہ سے الگ الگ ہیں، یہ دیواریں نہ سیمنٹ کی ہیں، نہ گارے کی، لیکن سیمنٹ کی دیواروں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ ان دیواروں کے پار جانے کے لئے پھادڑں اور کدالوں سے سوراخ نہیں کرنے پڑتے ،بلکہ پاسپورٹ اور ویزے کے ہتھیاروں سے کام لینا پڑتا ہے۔ دیوار کی تیسری قسم وہ ہے جو دو دلوں کے درمیان کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں تکبر، خود غرضی اور نفرت و عداوت کا مسالہ استعمال ہوتا ہے۔ اس دیوار کو ڈھانے کے لئے رویے بدلنے پڑتے ہیں، اس کی مضبوطی یا کمزوری کا انحصار انسانوں کے اختیار میں ہوتا ہے۔

ہمارے زمانے میں دیوار کی ایک نئی قسم ایجاد ہوئی ہے۔ اس کا وجود یا تو دماغ میں ہوتا ہے یا اخباروں اور ٹی وی کی اسکرینوں پر.... اس کی بنیادوں میں دائمی نفرت اور ملک گیری کی ہوس بھری جاتی ہے۔....ایسی ہی دو دیواریں اس وقت تیار ہورہی ہیں۔ ایک بھارت میں اور دوسری بنگلہ دیش میں ۔پہلے بنگلہ دیش کی بات کرتے ہیں، کیونکہ اس کو قائم ہوئے اب 43 سال گزرچکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی اس دیوار کو قائم کرنے میں بھارت کی مدد شامل تھی۔ اب اسے قائم رکھنے میں بھی بھارت اپنے تمام وسائل استعمال کررہا ہے۔ اگر باپ نفرت و عداوت کی علامت تھا تو اس باپ کی بیٹی اگر اپنے باپ کے مشن کو پورا کررہی ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ اس کے دل میں پاکستان کی نفرت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے۔ اس کی طرف سے ہر موقع پر پاکستان کے حسن سلوک کا جواب تعصب کی زبان میں دیا جاتا رہا ہے۔ کھیلوں کا میدان ہو یا سیاست کی بساط، پاکستان نے اس کوہمیشہ ایک اسلامی ملک کی نظر سے دیکھا ہے، مگراس کے جواب میں اسے تعصب سے بھرے نشتر ہی دیئے گئے۔

 بنگلہ دیش کی اس حکومت نے عبدالقادر ملا جیسے پُر عزم مجاہد کو تختہ دار پر چڑھا کر اپنے تعصب کی آگ تو بجھائی، لیکن اب وہ کھلی آنکھوں دیکھ رہی ہے کہ عبدالقادر ملا کے تخت عزیمت سے تختہ دار کے سفر نے کس طرح نظریہ¿ پاکستان کو زندہ کردیا ہے۔ وہ جوش انتقام میں یہ بھول گئی کہ بنگلہ دیش مدرسوں اور مسجدوں کی سرزمین ہے۔ بنگلہ دیش کے لوگ اچھے مسلمان ہیں، اگر نظریہ¿ پاکستان کے مخالفوں نے مکتی باہنی بنائی تو وہاں کے غیرت مند مسلمانوں نے البدر قائم کی۔یہ نام ہی ان کے حامیوں کے نظریے کا اعلان کررہے ہیں۔ 43 سال میں بنگلہ دیش کی حکومتوں نے پاکستان سے نفرت کے بیج بو کر جودرخت کھڑے کئے تھے وہ عبدالقادر ملا جیسے مجاہد نے جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور آج نظریہ پاکستان بنگلہ دیش کی سڑکوں پر متحرک نظر آرہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی خواہش پر مشرقی پاکستان کی سرزمین پر پاکستانی پرچم مولانا ظفر عثمانی ؒ نے لہرایا تھا۔ تم اپنی جغرافیائی سرحدیں الگ کرسکتے ہو، لیکن اس کی گھٹی میں پاکستان کی محبت و حمایت کا جوآب شریں ملا ہوا ہے، اسے کیسے ختم کرو گے؟ اس کی مٹھاس جماعت اسلامی یا البدر کے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے سے ختم نہیں ہوگی۔ شہید اور قاتل کے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے، لیکن بڑا فرق ہے ....ظالم اور قاتل کا خون بدبو دار ہوتا ہے،جسے ہوا کے جھونکے خشک کرکے اس کا نام و نشان مٹا دیتے ہیں اور شہید کے خون کی مہک دلوں میں نور کے چراغ روشن کرتی ہے۔ بنگلہ دیش ہمارے مسلمان بھائیوں کا وطن ہے۔ اس وطن کی حکمران جماعت ”عوامی لیگ“ نے ایک بار پھر انتخابات کا ڈرامہ رچاکر بظاہر کامیابی حاصل کرلی۔ سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش کے عوام اس کرپٹ اور اسلام دشمن پارٹی کی ان دھاندلیوں اور دھمکیوں کے آگے دب جائیں گے؟.... تومعلوم ہونا چاہئے کہ تاریخ اس کی قطعاً نفی کرتی ہے۔

دوسری دیوار بھارت بنانے کی تیاری کررہا ہے۔ اس کا تفصیلی تذکرہ ڈاکٹرمحمدسلیمان قریشی نے مجلس ثقافت پاکستان شجاع آباد کے زیر اہتمام ”دیوار برہمن“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد سلیمان قریشی ایک ذہین اور باخبر سیاست دان ہیں، ملکی اور بین الااقوامی حالات کا پورا ادراک رکھتے ہیں۔ ان کے تجزیئے اکثر زمینی حقائق پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اپنے اہل اقتدار کے حوالے سے ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمیان اشتراک اور مشترکہ اقدامات کی تجاویز پر دلچسپ اور معنی خیز تبصرہ کیا۔ مشترکہ ایٹمی پلانٹ بنانے کی تجویز اور تجارتی مشترکات پر انہوں نے غیر مبہم الفاظ میں کہا کہ ہندو اور مسلمانوں میں کچھ بھی مشترک نہیں ہے۔ ان کی بودو باش، ان کی سوچ، ان کے کھانے، ان کے کاروبار، ان کی عبادت اور ان کی عبادت گاہیں سب الگ اور جدا ہیں۔ اگر کچھ مشترک ہے تو یہ ہے کہ ان کی بھی دو آنکھیں، دوکان اور دو ہاتھ، دو پیر ہیں وغیرہ ۔ان کا تو مرنا بھی دنیا سے الگ ہے۔ ان کے مردے جلائے جائے ہیں۔

انہوںنے ایک بھارتی جریدے کے حوالے سے اس دیوار کے بارے میں کچھ اعدادو شمار پیش کئے جو بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعمیر کرنا چاہتا ہے، تاکہ اس خطے کو پاکستان سے الگ کیا جاسکے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت ایک دیوار تعمیر کرے گا جو ان کے بقول مجوزہ دیوار برہمن اور دیوار گریہ (اسرائیل) سے بھی بڑی ہوگی۔ اس دیوار کی بلندی 35 فٹ، چوڑائی 135 فٹ ہوگی۔یہ دیوار آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر آنے والوں کو روکنے کے لئے بنائی جائے گی۔ یہ دیوار 188 دیہات کو تقسیم کرتے ہوئے گزرے گی۔ اس کاکنٹرول بارڈر سیکیورٹی فورس کے پاس ہوگا۔ دیوار برہمن کا ابتدائی کام جاری ہے اور 85 دیہات میں زمین کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد سلیمان قرشی نے بھارت کے ساتھ حکومت کے تعلقات کے جواز پر گرفت کی اور کہا کہ کیا اس دیوار برہمن کے منصوبے کے بعد بھی بھارتی ذہنوں کی تنگی و تاریکی میں کوئی شبہ رہ جاتا؟

بھارت کی جانب سے افغان فوجیوں کی تربیت کاکام گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے ،جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اب تو افغان کمانڈوز نے بھارتی کمانڈوز کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیا ہے جو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا ایک حصہ ہے۔ اس کا واضح مقصد 2014ءکے آنے والے چند ماہ میں افغانستان سے امریکی، اتحادی افواج کی واپسی کے بعد وہاں بھارت کا اپنے قدم جمانا ہے۔ افغانستان پر امریکی حملے اور نیٹو فوجیوں کی موجودگی کے بعد سے بھارت نے پاکستان کی مغربی سرحدوں پر اپنا دباﺅ بڑھانے کے لئے بحالی اور ترقیاتی کاموں کے نام پر اپنے اڈے اور جاسوس پھیلانے کا کام شروع کردیا تھا۔ امریکی کی بھی ہر ممکن کوشش ہے کہ نیٹو انخلاءکے بعد بھارت کو افغانستان میں برتری حاصل رہے۔ چنانچہ جب نیٹو افواج کے انخلاءکا عمل شروع ہوگا اور اس خطے میں تحریک طالبان اور اس کی مخالف تنظیمیں آپس میں لڑیں گی تو خطے میں بد ترین دہشت گردی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ دیوار برہمن بنا کر اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو نوچ کر پھینک دے گا تو یہ دیوانے کا خواب ہے۔ جذبوں اور نظریوں کو دیواریں نہیں روک سکتیں۔

مزید :

کالم -