شرح سودمیں ایک فیصد کمی سے نجی شعبے کی ترقی میں مدد ملے گی، لاہور چیمبر

شرح سودمیں ایک فیصد کمی سے نجی شعبے کی ترقی میں مدد ملے گی، لاہور چیمبر

  

 لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر نے سٹیٹ بینک کی جانب سے مارک اپ کی شرح میں ایک فیصد کمی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نجی شعبے کی ترقی میں مدد ملے گی، معیشت مستحکم ہوگی، صنعت سازی کو وسعت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے نائب صدر سید محمود غزنوی نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے نجی شعبے کا مطالبہ تسلیم کیا جو عرصہ دراز سے مارک اپ کی شرح میں نمایاں کمی پر زور دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کاروباری برادری کو سستے قرضوں کی اشد ضرورت تھی ۔انہوں نے کہا کہ مارک اپ کی شرح میں کمی سے معاشی مسائل کم ہونگے اور نہ صرف مقامی سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور وہ نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گے۔ سید محمود غزنوی نے کہا کہ مارک اپ ریٹ میں کمی کا صحیح فائدہ حاصل کرنے کے لیے توانائی کا بحران اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل جلد حل کرنا ہونگے۔ اگر ان مسائل کے حل پر توجہ نہ دی گئی تو مارک اپ ریٹ میں کمی سے معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ معاشی مشکلات بڑھتی رہیں گی۔  انہوں نے کہا کہ شاید لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملک کا واحد چیمبر ہے جس نے کم ہوتی ہوئی سرمایہ کاری کا حل مارک اپ کی شرح میں کمی کو قرار دیا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس پر عمل کرکے درست سمت میں قدم اٹھایا۔ سید محمود غزنوی نے گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ وہ معیشت سے متعلقہ بینکنگ پالیسوں پر نظر ثانی کریں اور نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں جو انجن آف گروتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مارک اپ کا ریٹ کم ترین سطح پر ہے لہذا سٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ مانیٹری پالیسی میں مارک اپ کی شرح سات فیصد کرے۔

مزید :

کامرس -