سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والی سائٹ کی انڈسٹریز گیس کو ترس رہی ہیں

سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والی سائٹ کی انڈسٹریز گیس کو ترس رہی ہیں

  

 کراچی (اکنامک رپورٹر)یہ حقیقت انتہائی افسوسناک ہے کہ سندھ پاکستان میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے مگر سائٹ کی انڈسٹریز گیس کو ترس رہی ہیں اور تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی ہیں۔ یہ بات سائٹ ایسو سی ایشن آف انڈسٹری کے پریذیڈنٹ محمد جاوید بلوانی نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ سائٹ پاکستان کا سب سے قدیم اور بڑا صنعتی علاقہ ہے جس کی سب سے پہلی انڈسٹری کا سنگ بنیاد بابائے قوم محمد علی جناح نے 26 ستمبر 1947 کو رکھا تھا اور پہلی گیس لائن بھی اسی صنعتی علاقے میں بچھائی گئی تھی، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سائٹ کی صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس تسلسل سے فراہم کی جاتی، جیسا کہ سند کے دیگر علاقوں میں ہیں، مگر ایس ایس جی سی کی جانب سے سائٹ انڈسٹریز کو یہ ضروری کموڈٹی اور بنیادی خام کی سپلائی بند کردی گئی، اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ جنوری2015کے 25دنوں میں سے سائٹ انڈسٹریز 13دن اور اکتوبر2014سے اب تک مجموعی طور پر43 دن گیس سے محروم رہی۔ جو سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔ انہوں نے سائٹ انڈسٹریل ایریا کو گیس کی عدم تسلسل پر مبنی فراہمی سے صنعتوں خصوصاً برآمدی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سائٹ کی صنعتیں مکمل بندش کا شکار ہوچکی ہیں لیکن جب گیس فراہم کی جاتی ہے تو اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ صنعتوں کو پیداوار حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ، لیبر بے کار بیٹھی رہتی ہے اور صنعتکاروں کے مالی بوجھ میں اضافہ ہوجاتا ہے، اس صورتحال میں برآمدی آرڈرز تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں، جس سے پاکستان کی ساخت کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس کا فائدہ حریف ممالک کے برآمدکنندگان کو پہنچتا ہے۔ مال بروقت نہیں پہنچتا تو غیر ملکی خریدار اپنی بندرگاہوں سے مال نہیں چھڑاتے، ساتھ ہی برآمدکنندگان اگلے سیزن کے لئے قیمتی آرڈرز سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جاوید بلوانی نے مزید کہا کہ سائٹ کے علاقے میں گیس پائپ لائن صنعتوں کو گیس کی فراہمی کے لئے بچھائی گئی تھی لیکن اسی پائپ لائن سے ایس ایس جی سی، سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم کر رہی ہے، صنعتوں کو تسلسل سے پورے پریشر کی گیس درکار ہوتی ہے جو سی این جی اسٹیشنزاپنے کمپریسرسے کھینچ کر ان پائپ لائنوں سے گیس کا پریشر ختم کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ ایس ایس جی سی اور اوگرانے سائٹ انڈسٹریل ایریا میں34سی این جی اسٹیشنز قائم کرنے کی اجازت کیسے دے دی۔ سی این جی اسٹیشنز کے لئے مخصوص فاصلوں کی دوری کا قانون بنایا گیا ہے مگر سائٹ انڈسٹریل ایریا میں اس قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سی این جی اسٹیشنز پاس پاس قائم کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں گیس کے پریشر میں کمی واقع ہوجاتی ہے، صنعتوں میں پیداواری عمل رک جاتا ہے۔یہ المیہ ہے کہ 100فی صد برآمدی صنعتوں کو بھی گیس سے محروم رکھا جارہا ہے جس سے نہ صرف بیش قیمت زرمبادلہ کا نقصان ہورہا ہے بلکہ صنعتیں بند ہونے سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ جاوید بلوانی نے مطالبہ کیا کہ سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی کے سلسلے میں علیحدہ پائپ لائن بچھائی جائے تاکہ سائٹ کی انڈسٹریز کو بلا تعطل پورے پریشر سے گیس دستیاب ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی شق158 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ گیس کی فراہمی کے سلسلے میں اس صوبے کو ترجیح دی جائے گی جس صوبے میں گیس پیدا ہوتی ہے، صوبہ سندھ گیس کی مجموعی پیداوار کا 70 فی صد فراہم کرتا ہے مگر صوبہ سندھ کی صنعتوں کو گیس سے محروم کر کے نہ صرف اسی کے حقوق بلکہ دستور پاکستان کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ حکومت سندھ نے اس بارے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ سندھ سے مینڈیٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی چپ سادھ لی ہے حالانکہ سائٹ کے لاکھوں مزدور اور ہنر مند روزگار سے محروم ہورہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی، صوبائی حکومتوں، متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ ایس ایس جی سی کی ناقص پالیسی اور بے حسی کا نوٹس لیں اور سائٹ کی صنعتوں کو پورے پریشر کے ساتھ تسلسل سے گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

کامرس -