نیشنل ایکشن پلان

نیشنل ایکشن پلان
نیشنل ایکشن پلان

  

یہ درست ہے کہ پاکستان کو آج بہت سے مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے، یہ بھی درست ہے کہ بظاہر یہ مسائل اور چیلنجز بہت گھمبیر اور پیچیدہ ہیں اور تو اور یہ بھی درست ہے کہ بہت سی طاقتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان میں الجھا رہے اور ترقی معکوس کا سفر جاری رکھے، لیکن ان سب سے بڑھ کر ایک زندہ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان بیس کروڑ آبادی رکھنے والا دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک اور سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دنیا کا چھٹا بڑ املک اور ایٹمی طاقت دشمنوں کا تر نوالہ ثابت ہو؟ اس کا جواب یقیناًنفی میں ہے۔ اپنے دوستوں کی محسن کشی ایک طرف اور دشمنوں کی سازشیں دوسری طرف، پاکستان کو مسائل اور چیلنجزکا سامنا ضرور ہے، لیکن پاکستان کے عوام اور قیادت میں یہ پوٹینشل موجود ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک عظیم اور ناقابل تسخیر ملک ثابت ہو۔گزشتہ ایک عشرہ سے پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار ہے، ساٹھ ہزار افراد کی شہادت ایک طرف اور دہشت گردی کی وجہ سے اقتصادی بدحالی دوسری طرف، کوئی اور ملک ہوتا تو اب تک پارہ پارہ ہو چکا ہوتا۔ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانے والے ممالک یوگو سلاویہ اور چیکو سلاویکیہ کی مثال آپ سب کے سامنے ہے۔ مشرق وسطی میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہونے والی ٹوٹ پھوٹ سے بھی سب واقف ہیں، شمالی کوریا سے لے کر وسطی افریقہ تک کا احوال بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ تمام تر بدترین حالات میں اگر کوئی قوم آج بھی سراونچا کرکے اور سینہ تان کر کھڑی ہے تو وہ پاکستان ہے، کیوں؟ کیونکہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کی قیادت دونوں ہی ناقابل شکست ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پارلیمانی اتفاق رائے اور عسکری قیادت کی مکمل اور غیر مشروط مدد سے 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان تشکیل دے رکھا ہے۔ ٹارگٹ ؟ ٹارگٹ صرف ایک ہی ہے، پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرکے ایک ترقی یافتہ، خوش حال اور ایٹمی طاقت کے شایان شان ایک عظیم قوت بنانا جو نہ صرف ناقابل تسخیر ہو، بلکہ جنوبی و وسطی ایشیا کی اقتصادیات کی ڈرائیونگ فورس بھی ہو۔ جنوبی اور وسطی ایشیا کی خوش حالی کی تمام شاہراہیں پاکستان سے گزرتی ہیں اور اس بات کا وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو بخوبی ادراک ہے۔ اپنے پچھلے ادوار میں موٹرویز اور کمیونیکیشن میں انقلاب لانے والے وزیراعظم اپنے موجودہ دور میں ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو شکست دے کر اسے جنوبی و وسطی ایشیا کی اقتصادیات کی ڈرائیونگ فورس بنانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر ملک کے چاروں صوبوں میں دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں کئی حکمرانوں سے بہت سی غلطیاں ہوئیں، جن کے نتیجہ میں ملک بدحالی اور انتشار کا شکار ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے واضح کر دیا ہے کہ ملک میں اب کسی اور غلطی کی گنجائش نہیں ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اب کوئی غلطی نہ دہرائی جائے۔ وزیراعظم کا ویژن بہت کلیئر ہے، نہ صرف دہشت گردوں کا خاتمہ کیاجائے گا، بلکہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ان کی معاونت کرنے والوں اور ہمدردی رکھنے والوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ یہ جنگ دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک جاری رہے گی اور اس میں کسی قسم کی غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔نیشنل ایکشن پلان میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی شمولیت اور فوجی عدالتوں کا قیام اس ایکشن پلان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان کے علاوہ مرکزی پارلیمان اور اس کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں میں تشکیل کردہ مشاورتی بورڈ بھی نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا ویژن اور ایکشن بہت واضح ہیں، لیکن اس میں مکمل کامیابی کے لئے چاروں صوبوں کا مرکزی قیادت کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلنا بہت ضروری ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا بھی مرکزی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ وہ تمام اقدامات کررہے ہیں جو نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کے لئے ضروری ہیں، البتہ سندھ اور بلوچستان اس پر عمل درآمد میں وہ تیزی اور گرم جوشی نہیں دکھا رہے، جتنی وقت کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کو بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ نیشنل ایکشن پلان پاکستان کی بقا کے لئے بہت اہم ہے اور اگر سندھ اوربلوچستان اس اہم قومی فریضہ میں پیچھے رہ گئے تو بہت سے نئے مسائل جنم لیں گے۔ ان دونوں صوبوں میں ابھی تک مشارتی بورڈ کا اجلاس بھی منعقد نہیں ہوا ہے ۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے دہشت گردوں کے ہمدردوں کو بھی مجرم قرار دیا ہے، اگر سندھ اور بلوچستان کی حکومت اپنی اس غفلت کا فوری مداوا نہیں کرتیں تو اسے کیا کہا جائے گا؟ میرے خیال میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو فوری نوٹس لیتے ہوئے قائم علی شاہ اور ڈاکٹر عبدالمالک سے باز پرس کرنی چاہیے۔

جہاں ایک طرف سندھ، بلوچستان اور خیبرپختون خوا کی حکومتیں اور وزرائے اعلیٰ فنڈز کی کمی سمیت مختلف عذر پیش کررہے ہیں، وہاں دوسری طرف چاروں صوبوں میں صرف پنجاب حکومت اور اس کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرامد میں زیادہ سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے اعلان کے بعد سے پنجاب حکومت اب تک دہشت گردی کے خلاف قانون سازی کے لئے چھ آرڈیننس جاری کر چکی ہے جو وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کی مقصد کے حصول کے لئے مکمل کمٹمنٹ کی گواہی دیتے ہیں۔ رہائشی مکانوں کے کرایہ داروں، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسوں میں مقیم افراد، عارضی قیام گاہوں، لاؤڈ سپیکر کا غیر قانونی استعمال، دیواروں اور پبلک مقامات پر وال چاکنگ ،غیر قانونی اسلحہ رکھنے، چندہ اکٹھا کرنے کے قوانین، مدرسوں ، عبادت گاہوں، اظہار رائے کی آزادی اور دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے دوسرے اہم امور پر قوانین جاری کر دیئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے محکمہ انسداد دہشت گردی کو مزید مضبوط بنایا ہے، اس کے علاوہ ایک اعلیٰ اختیاراتی سٹرٹیجک کونسل اور بورڈ تشکیل دیا، جن کی سربراہی بالترتیب وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ایک کنٹرول روم قائم کیا ہے، یہاں تک کہ صوبے کے تمام اضلاع میں جاری کارروائیوں کو رات دن مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ جہاں سندھ اور بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ نے ایک بھی میٹنگ نہیں کی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سات آٹھ میٹنگز کر چکے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ حالات سے باخبر ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نیشنل ایکشن پلان میں بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے شاہ عبداللہ کے جنازے پر جانے سے پہلے بھی اس کی پوری مانیٹرنگ کی اور واپس آ کر بھی فوری طور پر سلسلہ وہیں سے شروع کیا، تاکہ حتمی کامیابی حاصل کی جا سکے۔ مسائل اور چیلنجز اپنی جگہ ، لیکن وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا عزم اور ویژن ہی پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کی ضمانت ہے۔

مزید :

کالم -