’’شاہ عبداللہؒ ۔ پاکستان کے سچے دوست‘‘

’’شاہ عبداللہؒ ۔ پاکستان کے سچے دوست‘‘
’’شاہ عبداللہؒ ۔ پاکستان کے سچے دوست‘‘

  

22اور 23جنوری کی درمیانی شب حجازِ مقدّس سے خبر آئی ، پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا 91سالہ خادم الحرمین الشرفین شاہ عبداللہ اپنے ربّ کے حضور پہنچ گئے تھے۔ شاہ عبداللہ کی وفات سے نہ صرف پاکستان اپنے ایک بھائی سے محروم ہوگیا بلکہ ،پوری مسلم اُمہ ایک عظیم امن پسند اور خیر خواہ لیڈر سے محروم ہوگئی۔

شاہ عبداللہ سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ تھے اور ان کا اقتدار نو سال سے زیادہ پر محیط تھا۔ شاہ عبداللہ یکم اگست 2005کو شاہ فہد کے انتقال کے بعد سعودی فرمانروا بنے تھے۔ شاہ عبداللہ پاکستان اور پاکستانی عوام کیلئے خصوصی محبت اور شفقت رکھتے تھے۔ نئی دہلی کے دورے پر بھی اُنہوں نے دو ٹوک انداز سے بھارت پر واضح کر دیا تھا کہ پاکستان ہمارا بھائی ہے دوست تبدیل ہوسکتا ہے، بھائی نہیں۔ شاہ عبداللہ نے اپنی ساری زندگی پاکستان کی خیرخواہی میں گہری دلچسپی لی۔ 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد، پاکستان کو تیل کی مفت فراہمی بھی اس کا ایک ثبوت ہے۔

شاہ عبداللہ کی رحلت کی خبر پر وزیراعظم محمد نوازشریف نے اپنی تمام مصروفیات ترک کردیں اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے ہمراہ ریاض پہنچے جہاں دیگر اسلامی ممالک کے سربراہان کے ساتھ شاہ عبداللہ کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ (مناسب ہوتا کہ وزیراعظم، دیگر صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی ساتھ چلنے کو کہتے)۔وزیراعظم چند روز قبل شاہ کی عیادت کرنے بھی گئے تھے۔ وزیراعظم شاہ عبداللہ سے اُن کی زندگی میں ملاقات کرنے والے آخری غیر ملکی سربراہ تھے۔ خادم الحرمین الشریفین نے ہمیشہ محمد نوازشریف صاحب کو اپنا بھائی سمجھا۔ شریف فیملی کے ساتھ شاہ عبداللہ کے ذاتی تعلقات تھے۔ ایٹمی دھماکے ہوں یا12 اکتوبر کی کارروائی کے بعد(تب شاہ عبداللہ ولی عہد تھے) شاہ عبداللہ نے نوازشریف صاحب کا بھرپور ساتھ دیا۔ جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں شریف فیملی کا کاروبار اور رہائش سب انہی کا مرہونِ منت تھا۔ الیکشن سے قبل نومبر2007میں نوازشریف صاحب کی پاکستان واپسی میں بھی شاہ عبداللہ نے اہم کردار ادا کیااور جب میاں صاحب تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر بھجوائے۔

2005 میں آزاد کشمیر اور خیبر کا خوفناک زلزلہ ہویا 2010 کا بدترین سیلاب، مشکل اور آزمائش کی ہرگھڑی میں شاہ عبداللہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاکستانی عوام کے دِل میں بھی شاہ عبداللہ کے لئے انتہائی احترام اور محبت کا رشتہ تھا۔

شاہ عبداللہ کو جدید سعودی عرب کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے دور میں سعودی عرب نے تمام شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ، جن میں معیشت، تعلیم، صحت، سوشل ویلفیئر، خواتین کو ووٹ کا حق دینا، میڈیا کو ایک حد تک آزادی دینا، صنعت، بجلی و پانی، مواصلات سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں سعودی عرب کو زیادہ ترقی یافتہ بناناشامل ہے۔

سعودی خواتین کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ اولمپک کھیلوں میں بھی حصہ لینے کا حق دیا۔ مسجدِ حرام اور مسجدِنبویؐ کی توسیع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسجد الحرام کاتوسیعی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد نمازیوں کی گنجائش مزید 25لاکھ جبکہ مسجدِ نبویؐ میں نمازیوں کی تعداد مزید 16لاکھ بڑھ جائے گی۔یہ توسیع حجاج کرام اور زائرین کو مزید سہولتیں دینے کیلئے کی گئی تاکہ وہ مزید آرام اور سکون کے ساتھ عبادت کرسکیں جس کا ثواب یقیناًاُن کی روح کو پہنچتارہے گا اور اس عظیم اورمقدس منصوبے کیلئے اربوں ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی۔ اسلامی دُنیا شاہ عبداللہ کی خدمات اور عظیم کردار کو کبھی نہیں بھلاپائے گی۔ شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد نئے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز ہیں۔ اُنہوں نے امورِ مملکت کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ شاہ سلمان کی عمر 79 برس ہے۔ وہ 46سال ریاض کے گورنر رہے۔ شاہ سلمان نے شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو ولی عہد جبکہ شہزادہ محمد بن سلمان کو وزیردفاع تعینات کیا ہے۔

شاہ سلمان کے بارے میں یہی رائے ہے کہ وہ انتہائی مثبت سوچ کے مالک ہیں ۔ انسان دوست اور تعلیم سے خاص لگاؤ اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ شاہ عبداللہ کی طرح نئے شاہ، شاہ سلمان بھی پاکستان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔ یقیناًشاہ عبداللہ کی وفات کے بعد شاہ سلمان اس محبت کو مزید مستحکم اور گہرا کریں گے۔

مزید :

کالم -