بھارت سندھیوں کو شہریت کیوں دے رہا ہے؟

بھارت سندھیوں کو شہریت کیوں دے رہا ہے؟
بھارت سندھیوں کو شہریت کیوں دے رہا ہے؟

  

بھارتی اخبار’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کے مطابق بھارت میں قیام کرنے والے 20 ہزار پاکستانی سندھیوں کو بھارتی حکومت طویل مدتی ویزے یا شہریت دینے جارہی ہے۔ریاست مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے شہر اندور میں 19سے20فروری کو اس سلسلے میں ایک خصوصی کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں مرکزی حکومت ان 20 ہزار پاکستانیوں میں ویزے یا شہریت تقسیم کر یگی۔ اندور میں سندھیوں کی کثیر تعداد پاکستان سے مستقل طور پر بھارت منتقل ہو چکی ہے اور وہ بھارتی حکومت سے طویل مدتی ویزے اور شہریت کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔

سندھی ہندوستان میں لکھنؤ، اجمیر، بھوپال، راجستھان، گجرات، احمد آباد، ممبئی سمیت کئی شہروں میں آباد ہیں اور جے پور سمیت بعض شہروں کے اہم بازاروں میں بیشتر دوکانیں سندھی ہندؤوں کی ہیں۔ جے پور میں مقامی آبادی والے لوگ سندھی کاروباریوں کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے۔

بھارت میں سندھی بولنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن فریقین کے محتاط اندازے کے مطابق اب ان کی آبادی چالیس لاکھ کے قریب ہوگی، جس میں دس لاکھ کے لگ بھگ سندھی مسلمان شامل ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چھوڑ کر جانے والے ہندوؤں کی بڑی تعداد پاکستان واپس بھی آ چکی ہے۔ ہندو اشرافیہ کا تجارتی طبقہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں آزادانہ کاروبار کرتا ہے، رہائش اختیار کرتا ہے، کیونکہ ان کے رشتے دار وہاں پر ہیں۔ زبردستی مسلمان بنائے جانے واقعات میں مبالغہ آرائی کا عنصر زیادہ ہے۔جب اس قسم کے واقعات پر عدلیہ نے نوٹس لیا تو مسلمان ہونے والی خواتین نے عدلیہ میں بیان دیا کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں اور اپنی پسند کی شادی کی ہے، جسے روکنے کے لئے ہندو اشرافیہ مذہبی جذبات میں اشتعال پیدا کرنا چاہ رہا ہے۔ کراچی جیسے حساس شہر میں متعدد جگہوں پر مندر اور مذہبی جگہیں موجود ہیں، لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہندو برادری کو کسی بھی مسلم کی جانب سے پریشان کیا گیا ہو۔ ان تمام تر الزامات کا مقصد صرف پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی سازش ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے ہندوؤں کی دیوالی میں سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان کر کے فراخ دلی و مساوات کی اچھی مثال قائم کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندو برادری اپنے حقوق کے لئے اپنی ہی ذات، کاسٹ سے اپنے نمایندہ منتخب کریں تا کہ ان کے حقیقی مسائل سے پاکستان کے عوام بھی درست آگاہ ہو سکیں اور بے بنیاد پروپیگنڈوں سے غلط فہمی پیدا نہ ہو

اقلیتوں کے معاملہ کو اچھال کا استعماری قوتوں کے ایجنٹ پاکستان کے اسلامی دستور کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔ ہندو اقلیتیں اپنی مذہبی رسومات کے لئے بھارت جاتی رہتی ہیں لیکن افسوس ہے کہ میڈیا اور این جی اوز نے ہندو اقلیتوں کے تحفظ کا بہانہ بنا کر حقائق کے منافی گمراہ کن پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی گھناونی سازش کی ہے۔ اس مذموم پروپیگنڈے سے بین الاقوامی طور پر پاکستان کا امیج خراب ہوا۔ لیکن ہندو مسافروں کے بیانات سے ان اسلام دشمنوں کے مکروہ عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں جو پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کررہے تھے۔ ’’را‘‘ نے سندھ میں ہندو آبادی میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بھاری سرمایہ تقسیم کیا ہے اور مقامی لوگوں کو تربیت، جدید اسلحہ اور پروپیگنڈا کے ہتھیاروں سے لیس کرکے سندھ اور بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ ہندو خاندانوں کے بعض افراد کی بھارت نقل مکانی، اسی سلسلے کی کڑی ہے، ہندو خاندانوں کی اس نقل مکانی کو عالمی میڈیا میں پیش کرکے پاکستان کو بدنام بھی کیا گیا۔

یہ یاد رہے کہ پاکستان نہیں بھارت میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ پاکستان میں رہنے والے ہندو خود کو تنہا نہ سمجھیں، پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔ ہم ہندؤ برادری سے کہتے ہیں کہ وہ پاکستان دشمن عناصر اور این جی اوز کے جھانسے میں نہ آئیں، بھارت میں تو ہندؤں کی حالت زار بہت بری ہے وہاں اقلیتوں کی صورتحال تو اس سے بھی بدتر ہے اس لئے وہ وہاں نہ جائیں اور اپنے ہی وطن میں عزت سے رہیں۔

مزید :

کالم -