میاں صاحب

میاں صاحب
میاں صاحب

  

کیا اس طرح کریانے کی ایک دُکان بھی چل سکتی ہے، جس طرح شریف برادران ملک ہانک رہے ہیں؟ دراصل ہماری دانش کاسورج کسی اور ہی آسمان پر اُگتا ہے۔ فکر وفہم میں ہماری جڑیں کسی اور زمیں میں ہی پیوست ہیں اور افعال و اعمال میں ہماری کشتیاں نامعلوم کن پانیوں میں تیرتی ہیں۔ آدمی سوچتا ہے اور پھر حیران ہو جاتا ہے کہ آخر تعصبات حقائق کو کیسے چاٹ لیتے ہیں ۔ سامنے کے مناظر کو کیسے جھٹلا دیتے ہیں۔

نواز شریف 25؍دسمبر 1949ء کو پیدا ہوئے۔ وہ 1980ء کے عشرے میں مطلع سیاست پر اُبھرے۔ اور جنرل ضیاء کے عہد میں مسلسل چمکتے رہے۔ اُنہیں 1981ء میں پنجاب کی وزارتِ خزانہ ملی۔ پھر 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات نے اُنہیں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے سرفراز کیا۔ اب یہ 2015ء کا سال ہے۔ سیاست میں اُن کی آمد کے حادثے کو پینتیس برس بیت گئے۔ گزشتہ برس دسمبر میں اُنہوں نے اپنی عمرِ عزیز کی پیسنٹھویں بہار یں دیکھیں۔ اس عرصے میں وہ وزیرِ اعلیٰ اور دومرتبہ وزرائے اعظم رہنے کے بعد تیسری دفعہ اس منصب پر جلوہ افروز ہیں۔میاں نواز شریف نے جب 5؍ جون 2013ء کو یہ منصب سنبھالا تو وہ ملک کے اٹھارویں وزیر اعظم کے طور پر ایک بار پھر تقریباً غروب ہونے کے بعد اُبھرے تھے۔ اب ذرا دوسرامنظر بھی دیکھئے!

میاں نواز شریف جب 1980ء میں مطلع سیاست پر اُبھرے تو سعودی عرب میں کیا منظر تھا؟ یہاں پر آل سعود کے چوتھے شاہ خالد بن عبدالعزیز کی بادشاہت چلی آرہی تھی۔شاہ فیصل کے قتل کے بعد 25؍ مارچ 1975ء کو وہ تخت نشین ہوئے اور 13؍ جون 1982ء کو اُن کا عہد اختتام پذیر ہوا۔ پھر میاں صاحب کے عہدِ سیاست میں ہی ایک اور بادشاہ فہد بن عبدالعزیز آئے۔ اور اُن کا عہد بھی یکم اگست 2005ء کو اختتام پذیر ہوگیا۔ پھر اُن کے ساتھ خصوصی قربت رکھنے والے شاہ عبداللہ تخت نشین ہو ئے۔ میاں صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ہی 23؍ جنوری 2015ء کو اُنہیں بھی قبر کی آغوش میں اُترنا پڑا۔ اب نئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز پایۂ تخت پر متمکن ہیں۔ ذرا غور کیجئے! جدید سعودی عرب کی تاریخ میں 22؍ ستمبر 1932ء سے اب تک مجموعی طور پر سات بادشاہ گزرے ہیں۔ جن میں سے میاں صاحب نے اپنے عرصۂ سیاست میں سعودی عرب کی چار بادشاہتوں کاطلوع وغروب دیکھا ہے۔

ایک نظر امریکا پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے جب 1981ء میں پنجاب کے وزیرِ خزانہ کے طور پر سیاست میں قدم رکھاتو اُسی سال امریکی صدر جمی کارٹر رخصت ہوئے اور نئے صدر کے طور پر رونالڈ ریگن نے اپنا منصب سنبھالا ۔ وہ مسلسل دو میقات کے بعد 20؍جنوری 1989ء کو رخصت ہوگئے۔ ریگن کے جانشین کے طور پر ریپبلکن سے ہی جارج ایچ ڈبلیو بش نے منصبِ صدارت سنبھالا۔ وہ بھی جنوری 1993ء میں رخصت ہو گئے۔ اور دوسری جماعت ڈیمو کریٹ سے بل کلنٹن منصبِ صدارت پر فائز ہو گئے۔بل کلنٹن نے بھی صدارت کی مسلسل دو میعادپوری کیں اور جنوری 2001ء میں رخصت ہو گئے۔ پھر ریپبلکن جماعت کے جارج ڈبلیو بش صدر بن گئے اور 2009ء تک اُنہوں نے بھی اپنی دو میعادیں پوری کیں۔ اُن کے بعد ڈیمو کریٹ سے بارک اُباما نئے صدر بنے۔ وہ اپنی ایک میعاد پوری کرنے کے بعد دوسری کے لئے بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ اگر میاں نواز شریف کے ساتھ سب کچھ ٹھیک رہتا ہے تو وہ اپنی وزارتِ عظمیٰ میں ہی اُن کی رخصتی کا تماشا 2017ء میں دیکھیں گے۔ یوں اب تک نواز شریف اپنی سرگرم سیاست کے عرصے میں امریکا کے منظرنامے پر چھ صدور کو تقریباًدس مرتبہ آتے جاتے دیکھ چکے ہیں۔ اور گیارہویں کو دیکھنے کے منتظر ہیں۔

یہی ماجرا برطانیا کا بھی ہے۔میاں نواز شریف نے اپنے دورِ سیاست و اقتدار میں اب تک جن برطانوی وزرائے اعظم کے ادوار دیکھے ہیں اُن میں مارگریٹ تھیچر، جان میجر، ٹونی بلیئر،گورڈن براؤن اورموجودہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون شامل ہیں۔ اس طرح میاں نواز شریف برطانیا کے کُل پانچ وزرائے اعظم کو ایک ایک اور دو دو میعاد کے لئے منتخب ہوتے اور قبل ازوقت رخصت ہوتے دیکھ چکے ہیں۔ یہی حال پڑوسی ملک بھارت کا بھی ہے۔ میاں نواز شریف جب سیاست میں داخل ہوئے تو بھارت میں اندرا گاندھی کی حکومت تھی۔ اندرا نے اس سے قبل 1966ء سے 1977ء تک گیارہ برس حکومت کی۔ پھر مرار جی ڈیسائی اور چرن سنگھ کے دو مختصر ادوارِ حکومت کے بعد وہ 14؍ جنوری 1980ء کو پھر اقتدار میں آگئیں اور 31؍ اکتوبر 1984ء تک حکومت کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ موت نے اُنہیں اُچک لیا۔ میاں صاحب تب جنرل ضیاء کی دعائیں لے رہے تھے اور پنجاب میں سیاست کر رہے تھے۔ میاں صاحب اس دوران سیاست میں بتدریج اُبھرتے رہے۔ اُدھر بھارت میں اُنہوں نے بالترتیب راجیو گاندھی(5برس بتیس دن)، وی پی سنگھ (تین سو تینتالیس دن)، چندرا شیکھر( دوسو تیئس دن)، نرسہما راؤ (چار برس تین سو تیس دن)، اٹل بہاری واجپائی (تیرہ دن)، ڈیوی گوڑا (تین سو چوبیس دن)، آئی کے گجرال (تین سو بتیس دن)، اٹل بہاری واجپائی (چھ برس چونسٹھ دن)اورمن موہن سنگھ ( دس برس چار دن) کے ادوارِ حکومت کو دیکھا۔ اب وہ بھارت کے نئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورِ اقتدار کواپنے دورِ اقتدار میں دیکھ رہے ہیں۔اس طرح غور کیا جائے تو میاں نواز شریف نے اپنے عرصۂ سیاست میں بھارت کے کل گیارہ وزرائے اعظم کے ادوارِ حکومت کو کم یا زیادہ عرصے کے لئے دیکھا ہے۔ یہ غیر معمولی مشاہدات ہیں۔ جو کسی بھی وزیراعظم کے حصے میں آئے ہیں، کیونکہ جدید بھارت کی سیاسی تاریخ ہی کل پندرہ وزرائے اعظم پر مشتمل ہے۔ نریندر مودی بھارت کے پندرہویں وزیر اعظم کے طور پر میاں صاحب کے ہم منصب ہیں۔نریندر مودی 17؍ ستمبر 1950ء کو پیدا ہوئے۔اس طرح میاں صاحب نریندر مودی سے عمر میں چند ماہ ہی بڑے ہیں۔ مگر میاں نواز شریف کا ستارۂ اقبال و اقتدار نریندر مودی سے بہت پہلے چمکا۔ میاں نوازشریف جب پنجاب میں 1985ء میں وزارتِ عظمیٰ سنبھال رہے تھے تو نریندر مودی اُسی سال آرایس ایس سے بی جے پی میں بھیجے جارہے تھے۔ اپنے طویل اور صبر آزما سیاسی رفتارِ حیات(کیریئر) میں وہ گجرات کے وزیراعلیٰ بننے کے لئے مزید سولہ برس تک پاپڑ بیلتے رہے۔ یہاں تک کہ کیسو بھائی پٹیل کی صحت گرنے کے باعث اُن کے متبادل کے طورپر اُنہیں آزمانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میاں نوازشریف کے لئے اقتدار کا سفر کبھی اتنا مشکل اور خطرناک نہیں رہا۔ جتنا اُن کے عہد کی دنیا میں دوسرے سیاست دانوں کے لئے رہا۔ میاں نواز شریف کو کبھی اُتنی مشقت بھی نہیں اُٹھانی پڑی جتنی کہ اُن کے عہد کی دنیا میں باقی سیاست دانوں کو اُٹھانی پڑی۔ یہ تمام رہنما ایک خاص وقت میں اپنے اپنے ملکوں میں اُبھرتے رہے اور ایک نظام کے تحت آنے والوں کے لئے جگہ چھوڑتے رہے۔ مگر میاں صاحب اب بھی پاکستان کی سیاست میں برقرار ہیں۔

ایک نظر پاکستان کے اندر بھی ڈال لیں۔ میاں صاحب نے اپنے عہدِ سیاست میں اب تک جن منصفین اعلیٰ کے ادوار کو دیکھا ہے اُن میں چیف جسٹس محمد حلیم(مارچ 1981ء سے دسمبر 1989ء ) ، چیف جسٹس محمد افضل ظلہ (جنوری 1990ء سے اپریل 1993ء )، چیف جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ (اپریل 1993ء سے اپریل 1994ء )، قائم مقام چیف جسٹس سعد سعود جان ( اپریل 1994ء سے جون 1994ء)، چیف جسٹس سجاد علی شاہ (جون 1994ء سے دسمبر 1997ء )، چیف جسٹس اجمل میاں (دسمبر1997ء سے جون 1999ء)، چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی(جولائی 1999ء سے جنوری 2000ء)، چیف جسٹس ارشاد حسن خان (جنوری 2000ء سے جنوری 2002ء)، چیف جسٹس بشیر جہانگیری(جنوری2002ء)، چیف جسٹس شیخ ریاض محمد( فروری 2002ء سے دسمبر2003ء)، چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی(دسمبر2003ء سے جون 2005ء)، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری(مارچ 2007ء)، قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال (مارچ2007ء)، قائم مقام چیف جسٹس رانابھگوان داس (مارچ 2007ء سے جولائی2007ء)، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری (جولائی 2007ء سے نومبر 2007ء)، چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر(نومبر2007 ء سے مارچ 2009ء) ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری (مارچ 2009ء سے دسمبر2013ء)اور چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی( دسمبر 2013ء سے جولائی 2014ء )کے ادوار شامل ہیں ۔ موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک کو ملا کر اب تک میاں صاحب انیس مرتبہ منصفینِ اعلیٰ کی تبدیلی کا عمل دیکھ چکے ہیں۔

میاں نوازشریف کی سیاست نے صدر مملکت جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں آنکھ کھولی تھی۔ تب سے اب تک وہ کل دس مرتبہ صدور کو بدلتے دیکھ چکے ہیں۔ جن میں جنرل ضیاء الحق، غلام اسحاق خان،وسیم سجاد،فاروق لغاری،وسیم سجاد، محمد رفیق تارڑ، پرویز مشرف، محمد میاں سومرو،آصف علی زرداری اور ممنون حسین شامل ہیں۔کچھ یہی معاملہ فوجی سربراہان کا بھی ہے۔ جنرل ضیاء الحق سے لے کر جنرل راحیل شریف تک وہ کل آٹھ فوجی سربراہان کو آتے جاتے دیکھ چکے ہیں۔میاں صاحب نے جب سیاست کا آغاز کیا تو جنرل راحیل شریف فوج میں ابھی داخل ہی ہوئے ہوں گے۔ اٹھاون سالہ راحیل شریف 1976ء میں گریجویشن کے بعد پاکستان ملٹری اکیڈیمی میں داخل ہوئے۔اگلے کئی برسوں تک وہ فوج میں اپنی رفتارِ حیات کی جب مشقتیں جھیل رہے ہوں گے تو میاں نواز شریف کا ستارۂ اقتدار پنجاب میں طلوع ہو چکا تھا۔

سوال یہ ہے کہ اتنے لمبے سیاسی سفر کے باوجود میاں نواز شریف ملک کے لئے ایک اثاثہ بننے کے بجائے مسلسل بوجھ کیوں بنتے جارہے ہیں؟ جو کام وہ اب تک نہیں کر سکے ، وہ آئندہ کب کر پائیں گے؟ وہ اپنی جن عادتوں کو اب تک نہیں بدل پائے اب کب بدل پائیں گے؟ اگر اب بھی وہ حکمرانی کے آداب واطوار کو ذاتی شان و شکوہ کی تحویل سے نکال نہیں پائے تو اب کب نکال پائیں گے؟اگر اب بھی پیٹرول ، بجلی اور گیس ایسے بحران ریاست کو درپیش ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟اگر اب بھی وہ فوج، عدلیہ، عوام اور اداروں کے مزاج کو نہیں سمجھ پائے تو اب آخر کب سمجھ پائیں گے؟ دنیا بدل گئی، دنیابھر کی قیادتیں تبدیل ہو گئیں۔اگر ہماری دنیا نہیں بدل رہی اور ہماری قیادتیں نہیں بدل رہیں تو کم ازکم اُن کی عادتیں ہی بدل جائیں! کیا یہ کوئی بڑی خواہش ہے؟ میاں صاحب! کیا ہم کچھ زیادہ آپ سے مانگ رہے ہیں؟کیا اس طرح کریانے کی ایک دُکان بھی چل سکتی ہے؟

مزید :

کالم -