ناول ’’توبتہ النصوح‘‘۔۔۔ مولوی نذیر احمد دہلوی اور برطانوی مفادات (1)

ناول ’’توبتہ النصوح‘‘۔۔۔ مولوی نذیر احمد دہلوی اور برطانوی مفادات (1)
ناول ’’توبتہ النصوح‘‘۔۔۔ مولوی نذیر احمد دہلوی اور برطانوی مفادات (1)

  


انگریز برصغیر پاک و ہند پر دو صدیوں تک حکومت کرنے میں کیسے کامیاب رہے، اس حوالے سے ہمارے ہاں ابھی تک کوئی بڑی تحقیق نہیں ہو سکی۔ انگریز کی ذہانت کو داد دینی چاہئے کہ وہ ہمیں ایسا نظام تعلیم دے گیا جس میں تحقیق ایسا کوئی شوق سرے سے پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ البتہ کبھی کبھی کوئی ایسی کاوش ضرور سامنے آ جاتی ہے، جس سے انگریز کی سامراجی پالیسیوں کے پیچھے کار فرما مقاصد بے نقاب ہونے لگتے ہیں۔حال ہی میں ایسا ایک ریسرچ ورک ہماری نظر سے گزرا ہے، جس سے ہم اپنے قاری کو متعارف کروانا چاہتے ہیں۔

یہ جناب ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا ایک تحقیقی مقالہ ہے جو مجلہ ’’اورئینٹل کالج میگزین‘‘ (پنجاب یونیورسٹی) کے تازہ شمارے(نمبر331) میں شائع ہوا اور جس کی ضخامت 64صفحات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب اوریئنٹل کالج میں اردو ادبیات کے ایک لائق استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ فکر نقاد اور منجھے ہوئے محقق بھی ہیں۔ وہ ایک عرصے سے نو آبادیاتی دور کے ادب و ثقافت کو موضوعِ تحقیق بنائے ہوئے ہیں۔ کوئی تین سال پہلے وہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ کے لئے جرمنی تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے برطانوی دور کی اردو نصابی کتب پر تحقیق کی۔دلچسپ امر ملاحظہ ہو کہ ڈاکٹر صاحب کو موضوع سے متعلق لاہور کی لائبریریوں سے فقط تین کتابیں ملیں، لیکن جب وہ جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی پہنچے تو شعبہ ساؤتھ ایشین سٹڈیز کی لائبریری سے42کتابیں مل گئیں۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہم آزادی کے70سال بعد بھی ذلت و خواری میں کیوں ڈوبے ہوئے ہیں اور مغربی اقوام آج بھی غالب کیوں ہیں؟ ہم نے جن کتابوں کو ردی سمجھا اسے انہوں نے سینے سے لگا کر رکھا ہوا ہے۔

ہمارے معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ شمس العلماء مولوی نذیر احمد دہلوی کو بطور ناول نگار بخوبی جانتا ہے۔ ان کے ناول مراۃ العروس، بنات النعش،فسانہ مبتلا،

توبتہ ا لنصوح اور ابن الوقت ابھی تک ہمارے تعلیمی نصابات میں جزوی یا کلی طور پر شامل ہیں۔اگرچہ یہ ناول فنِ ناول نگاری کے کئی اہم تقاضے پورے نہیں کرتے، لیکن انہیں ناول اس لئے تسلیم کر لیا گیا کیونکہ ان میں جیتی جاگتی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہ مولوی صاحب کا بہت بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ قصے کو داستان کی الف لیلوی فضا سے نکال کر عام معاشرتی ماحول میں لے آئے۔ ان کے کردار اسم با مسمیٰ ہوتے ہوئے بھی گوشت پوست کے انسان ہیں، جو زندگی کے سارے دُکھ سُکھ جھیلتے ہیں کہ جس زمانے میں یہ ناول لکھے گئے اس وقت انگریز حکمران یہاں اپنے سامراجی مقاصد کے تحت ایک خاص طرح کا تعلیمی نظام نافذ کر رہے تھے۔ 1835ء میں انہوں نے انگریزی کو ذریع�ۂ تعلیم بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ عربی، فارسی، سنسکرت، ہندی، اردو اور دیگر مقامی (ورنیکلر) زبانوں کی تدریس بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ دہلی کالج میں مختلف سائنسی اور سماجی علوم انگریزی میں بھی پڑھائے جا رہے تھے، لیکن ساتھ ساتھ مذکورہ زبانوں کی تدریس اور تحقیق بھی جاری تھی۔ مولوی صاحب نے دہلی کالج میں عربی پڑھنے کے لئے داخلہ لیا تو ان کا چار روپے ماہوار وظیفہ مقرر ہوا۔ انہوں نے انگریزی یا سائنس نہیں لی۔ ان کے والد کا کہنا تھا:’’مجھے اس کا مر جانا منظور ہے، اس کا بھیک مانگنا قبول، مگر انگریزی پڑھنا گوارا نہیں‘‘۔

یاد رہے کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابھی 1857ء کا ہنگامہ برپا نہیں ہوا تھا۔ دہلی کے تخت پر مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر رونق افروز تھے، لیکن انگریز کے محض وظیفہ خوار کے طور پر، اختیار نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہ تھی۔

مولوی صاحب نے ذاتی کوشش سے انگریزی سیکھی اور اس میں اتنی لیاقت پیدا کر لی کہ انڈین پینل کوڈ کو مکمل طور پر اردو میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انگریز حکومت نے انہیں اس محنت کے صلے میں چار ہزار روپے نقد انعام بھی دیا اور ڈپٹی کلکٹر کا عہدہ بھی۔ قصہ نگاری کی طرف وہ اس طرح آئے کہ1854ء میں چارلس ووڈ نے ایک تعلیمی مراسلہ جاری کیا، جس میں اہل علم کو قصہ نگاری کے انعامی مقابلے میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔ بقول ڈاکٹر نیئر: ’’مراسلے میں اصرار موجود تھا کہ ورنیکلر زبانوں کی تعلیم کے ذریعے یورپی علم عوام الناس تک چھن کر جا سکے(ص98:) مولوی صاحب کے دو قصوں’’ توبتہ النصوح‘‘ اور ’’مراۃ العروس‘‘ کو اول اور ’’بنات النعش‘‘ کو دوم انعام ملا۔ ڈاکٹر نیر کا کہنا ہے کہ یہ قصے باقاعدہ کہہ کر لکھوائے گئے تھے، اس طرح نہیں ہوا کہ مولوی صاحب کو خود کوئی تھیم سوجھا اور اس پر پلاٹ تعمیر کیا،گویا آورد کا معاملہ تھا آمد کا نہیں۔ ڈاکٹر نیر لکھتے ہیں:’’نذیر احمد نے ہندوستان کے ذہنی نظم و ضبط کے لئے درکار خیالات اور علم کی تخلیق پر انگریز حکمرانوں کے اختیار اور نگرانی کو صمیم قلب سے قبول کیا تھا،انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ ان کے لئے مہربان آقا ان کی بہترین صلاحیتوں کے اظہار کی خاص جہت مقرر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اصلاح و تعلیم کے جوش میں انہیں اس سوال کی شاید چاپ ہی نہ سنائی دی کہ ایک ادیب اپنی متاعِ عظیم یعنی ’’انتخاب کی آزادی‘‘ کو جب ریاست کے قدموں میں ڈھیر کرتا ہے اور انعام و ستائش سے سرفراز ہوتا ہے تو اس کے دیرپا مضمرات کیا ہوتے ہیں‘‘۔ (ص100:)

ناول جب لکھ کر جمع کروائے گئے تو اس وقت کے دو انگریز افسروں سر ولیم میور اور میتھیو کیمپسن نے ان کا مطالعہ کرنے کے بعد مولوی صاحب سے بعض مقامات پر ترمیمات بھی کروائی تھیں (ریکارڈ موجود نہیں کہ وہ کیا تھیں) البتہ یہ ناول اس وقت کی یورپی حقیقت نگاری کے نمونہ تھے اور برطانوی حکمرانوں کے مخصوص مفادات کو بھی پورا کرتے تھے۔مثلاً ان کے پیچھے دو مقاصد نظر آتے ہیں: ایک تو کہانی کے اندر ہی سے عہد انگلشیہ کی برکات نمایاں ہوں دوسرے قارئین کے دِلوں میں انگریز سرکار کے لئے خیر خواہی کے جذبات ابھریں۔

ناول کا مرکزی کردار نصوح خواب میں میدان حشر برپا دیکھتا ہے تو بیدار ہو کر اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح اخلاق کی فکر کرتا ہے۔ اپنے بچوں سے ان کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرتا ہے۔ اس کی اپنے سب سے چھوٹے بیٹے علیم سے جو گفتگو ہوتی ہے وہ اس حقیقت کی کھلی کھلی گواہی دیتی ہے کہ مولوی صاحب نے انگریز حکمرانوں، ان کے مذہب اور ان کے رویوں کے بارے میں مثبت تصور پیدا کرنے کی دانستہ سعی کی ہے۔ (انگریز افسروں نے ناولوں میں جو ترمیمات کروائی تھیں، وہ شاید اسی نوعیت کی تھیں)

لیکن اس سے پہلے کہ ہم نصوح اور اس کے بیٹے کے درمیان ہونے والا مکالمہ پیش کریں، اس وقت کے ہندوستانی معاشرے کی مذہبی صورت حال پر ایک نگاہ ڈال لیں۔

بنگال پر قبضہ کرنے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے عیسائی مشنریوں کو مقامی ماحول میں تبلیغی سرگرمیاں جاری کرنے کی اجازت دے دی، چنانچہ مشنریز نے ایک تو پرانے اور نئے عہد نامے کے بعض حصوں کے مقامی زبانوں میں ترجمے کروائے۔ دوسرے مختلف مقامات پر ایسے سکول، کالج اور ہسپتال کھلوائے جہاں تعلیم اور علاج کے ساتھ ساتھ مسیحیت کی تبلیغ بھی کی جاتی تھی۔ پادریوں کو سکھایا جاتا کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ اور مقامی مذاہب پر تنقید کریں تو شائستگی اور خوش خلقی سے کام لیں۔ ان پادریوں نے مقامی مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مناظروں کا بازار گرم کر دیا۔ اس کا ایک فائدہ سرکار کو یہ ملا کہ عوام کی توجہ سیاسی مسائل سے ہٹ گئی۔ دوسرے، ان مشنریز کی کوششوں ہی سے بے شمار مقامی مذاہب کے لوگ عیسائیت قبول کرنے پر تیار ہو گئے۔ بعض کے دِلوں میں اپنے مذاہب کے معاملے میں تشکیک پیدا ہو گئی اور وہ عیسائیت قبول کرنے کی طرف مائل ہو گئے۔اس کی ایک مثال مولوی نذیر احمد دہلوی تھے۔ دہلی کالج میں حصول تعلیم کے دوران انہیں ماسٹر رام چندر سے شَرفِ تلمذ حاصل ہوا۔ ماسٹر صاحب نے ہندو مت چھوڑ کر مسیحیت اختیار کر لی تھی۔وہ اپنی ذات میں نہایت شائستہ اخلاق اور صاحبِ علم آدمی تھے۔مولوی صاحب اپنے استاد سے اتنے متاثر تھے کہ ’’مذہب تبدیل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہو گئے‘‘۔ ڈاکٹر نیئر کے اس جملے نے مجھے چونکا دیا۔ مَیں نے ان سے پوچھا: آپ کے پاس اس دعوے کا کیا ثبوت ہے؟ کہنے لگے، آپ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی کا مولوی نذیر احمد دہلوی پر لکھا ہوا پی ایچ ڈی کا مقالہ دیکھ لیں۔ اتفاق سے مجھے یہ کتاب مجلس ترق�ئ ادب سے مل گئی۔ ڈاکٹر صدیقی مولوی نذیر احمد دہلوی کے ایک لیکچر کا اقتباس پیش کرتے ہیں، جس میں مولوی صاحب کہتے ہیں: ’’مجھ کو ماسٹر صاحب کے ساتھ ایک خصوصیت بھی تھی اور اکثر ان کے مکان پر بھی جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔ ماسٹر صاحب نے تو مجھ کو گمراہ کر دیا ہوتا۔۔۔۔ مگر مجھ کو ادب عربی کا شوق بہت تھا، مَیں قرآن کی عبارت پر لٹو تھا۔ اس تریاق نے مجھ کو اس زہر سے بچایا۔ یہاں تک کہ کالج سے مَیں اپنا ایمان سلامت لے کر نکل گیا، مگر کیسا ایمان، متزلزل،متشکک۔ صغیف، مضمحل!(ص98:)

ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں، انہوں نے مذہبی تشکیک اور عقائد کے متزلزل ہونے کا تو ذکر کیا ہے، لیکن اصل بات گول کر گئے ہیں، یعنی عیسائیت کی طرف اپنے میلان کا اعتراف نہیں کیا۔ البتہ بعد میں انہوں نے اپنے ایک ناو ل’’صادق کا مذہبی خواب‘‘ میں قصے کے ہیرو صادق کی زبان سے اپنی اصل کہانی بیان کر دی۔ صادق کہتا ہے:

’’میرا بھی قریب قریب تمہارا ہی حال تھا، بل کہ شاید اس سے بھی بدتر۔۔۔ مَیں ایک دیندار کے گھر میں پیدا ہوا۔۔۔ شامت جو آئی تو مجھ کو سرکاری کالج میں داخل کرا دیا گیا۔ باوجود کہ کالج پادریوں کا نہیں، بل کہ سرکاری تھا اور اس میں دین و مذہب سے کچھ بحث نہ تھی اور مَیں انگریزی بھی نہیں، بل کہ عربی پڑھتا تھا۔ تاہم چونکہ ہر قسم کے آدمیوں سے ملنا جلنا ہوتا تھا، مخالف آوازیں کان میں پڑنے لگیں۔ بہت دن نہیں گزرے تھے کہ میرے مذہبی خیالات میں تزلزل پیدا ہونا شروع ہوا۔نماز پہلے گنڈے دار ہوئی، پھر ندارد، اور ’’خدا کی جب نہیں چوری تو پھر بندے کی کیا چوری‘‘ دو چار بار بڑوں کے لحاظ سے پڑھنی پڑی تو بے وضو ہی ٹرخا دی، پھر عیسائیت کی طرف رجحان ہوا تو یہاں تک نوبت پہنچی کہ ریائی نمازوں کی التحیات ’’اشھدان محمداً عبدہ و رسولہ‘‘ کی جگہ ’’اشھد ان عیسیٰ ابن اللہ‘‘ کہنے لگا، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خدا اور خدا کا بیٹا ہونا دل میں کچھ اچھی طرح جمتا نہ تھا۔ غرض مَیں کسی وقت عیسائی تھا، کسی وقت مسلمان، کسی وقت کچھ بھی نہیں۔۔۔ اسی حیص بیص میں کئی سال گزر گئے‘‘۔ (ص99:) (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...