شمسی توانائی کا استعمال، سرکاری شعبوں میں ضیاع!

شمسی توانائی کا استعمال، سرکاری شعبوں میں ضیاع!

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سکولوں میں توانائی کی فراہمی کے لئے شمسی توانائی کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس کے لئے تمام ضروری کارروائی مکمل کی جائے اور سکولوں کو بتدریج شمسی توانائی پر منتقل کر دیا جائے تاکہ ان تعلیمی اداروں میں مسلسل بجلی مہیا ہو۔وزیراعلیٰ بڑی تن دہی سے توانائی کا بحران ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں چین اور ترکی سے بھی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے، سولرپارک کی تعمیرکا سلسلہ جاری ہے جہاں سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ملک میں توانائی کے بحران ہی کی وجہ سے شمسی توانائی کی طرف توجہ مبذول کی گئی ہے جو اللہ کی نعمت سے مستفید ہونے کی کوشش ہے اور یہ ذریعہ مفید اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہے۔ نجی شعبہ میں بھی شمسی توانائی کا استعمال ہونے لگا ہے۔ حال ہی میں وفاقی حکومت نے شمسی توانائی کے آلات کی درآمد کو ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، اگرچہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس پر عمل درآمد بھی شروع ہوا یا نہیںیا یہ حکم تاحال کاغذی کارروائی میں پھنسا ہوا ہے، وفاقی حکومت کونوٹس لینا چاہیے۔نجی شعبہ کے لئے تاحال شمسی توانائی کے آلات مہنگے ہیں، تاہم کئی ٹیوب ویل شمسی توانائی سے چل رہے ہیں اور نجی شعبہ میں شمسی توانائی سے بہتر کام لیا جا رہا ہے کہ اس کی دیکھ بھال ذمہ داری سے ہوتی ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سرکاری سطح پر اب تک شمسی توانائی کا سلسلہ جہاں بھی نصب کیا گیا ناکام ہوا ہے، اس کی مثال لاہور کا علامہ اقبال ٹاؤن اور مخصوص ٹریفک سگنلز ہیں جبکہ جی ٹی روڈ پر مریدکے اور کامونکی میں لگائی گئی سٹریٹ لائٹ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ناکارہ اور روشنی دینے سے محروم ہو چکی ہیں، ان کی بحالی اور نقص دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، وزیراعلیٰ سکولوں کے لئے یہ نیک کام کرنے سے پہلے ان تمام لائٹوں کا خود معائنہ کریں جو لگائی گئیں اور کام نہیں کر رہیں، خادم اعلیٰ ذرا خود علامہ اقبال ٹاؤن، مریدکے اور کامونکی کی روشنیاں دیکھ لیں تو ان کو سب پتہ چل جائے گا پھر ایک منصوبہ ٹریفک سگنلز کو سولر پاور سے منسلک کرنے کا تھا اس کا بھی کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ لاہور کینٹ میں ایک دو جگہ پینل تو نظر آتے ہیں لیکن کام کرتے ہیںیا نہیں کسی کو علم نہیں ہے؟

وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور محنت اپنی جگہ لیکن اجلاسوں میں اچھی رپورٹیں پڑھ لینے اور خوش کن اعلان کرنے سے تو مسائل حل نہیں ہوتے۔ فالو اپ کا انتظام ہونا چاہیے۔

مزید : اداریہ


loading...