صدر اوبامہ کا دورہ بھارت

صدر اوبامہ کا دورہ بھارت

  

امریکی صدر باراک اوبامہ تین روزہ دورے پراس وقت بھارت میں ہیں،انہوں نے گزشتہ روز نئی دہلی میں بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔واضح رہے کہ 26 جنوری 1950ء کو آزادبھارت کے آئین کا نفاذ عمل میں آیا تھا،بھارت میں اس دن کو یوم جمہوریہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔امریکی صدر کی اس تقریب میں شرکت انتہائی اہمیت کی حامل اور امریکہ بھارت خوشگوار تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

امریکی صدر باراک اوبامہ کے نئی دہلی پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پروٹوکول بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر اوبامہ کو نہ صرف ائیر پورٹ پر خوش آمدیدکہنے گئے بلکہ جذبات کی رو میں بہہ کران کے گلے ہی لگ گئے۔صدراوبامہ حیران تو ضرور ہوئے ہوں گے لیکن انہوں نے نریندر مودی کو مایوس بالکل نہیں کیا، انہوں نے بھارت پہنچنے کے چند گھنٹے بعد ہی امریکہ بھارت جوہری معاہدے کی راہ میں گزشتہ چھ سال سے موجود ڈیڈ لاک ختم کر دیا۔امریکہ اوربھارت کے درمیان 2008 ء میں سول جوہری ٹیکنالوجی کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا لیکن اس پراب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا کیونکہ بھارتی قانون کے تحت جوہری حادثات کی صورت میں آپریٹر کے ساتھ ساتھ جوہری بجلی گھر فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی معاوضے کی ادائیگی کی ذمہ دار قرار پاتی ہیں۔اس معاملے کو حل کرنے کے لئے دونوں ممالک نے ملین ڈالر انشورنش پول بنانے پر اتفاق کر لیا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ذرائع کے مطابق امریکہ جوہری مواد کی نگرانی سے بھی دستبردار ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کا مطالبہ تھا کہ وہ ہندوستان کو حاصل ہونے والے جوہری موادپر نگاہ رکھنے کا حق رکھتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اب اس معاہدے کی بنیاد پر کمرشل تعاون کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ صدر اوبامہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کا اعلان بھی دہر ادیا۔

صدراوبامہ بھارت جا کر بھارتی رنگ میں رنگنے سے خود کو نہ روک پائے ، انہوں نے ہندی میں نمسکار کہہ کر مشترکہ پریس کا نفرنس سے خطاب کا آغاز کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں 60 فیصد اضافہ ہوا، بھارت کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور امریکہ شمسی توانائی کے منصوبوں میں بھی بھارت کی مدد کرے گا۔ صدر اوبامہ کا کہنا تھا کہ بھارت سے بہتر تعلقات امریکی خارجہ پالیسی میں سرفہرست ہیں، افغانستان میں امریکی جنگی مشن ختم ہوچکا ہے اور افغانستان میں بھارت قابل اعتماد پارٹنر ہے۔ سول نیوکلیئر پارٹنر شپ دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کی مظہر ہے ۔امریکہ اور بھارت میں دفاع ، تجارت ، ماحولیات اور دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا جبکہ ڈرون ائیر کرافٹ کی مشترکہ پیداوار کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کے آلات اوران کی تیاری کے معاہدے بھی ہوئے۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان سو ل جوہری معاہدے کی بنیاد 2005ء میں رکھی گئی تھی جب اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے بھارت کو ایٹمی تعاون کی یقین دہانی اس شرط پر کرائی تھی کہ بھارت اپنی سول اور ملٹری جوہری تنصیبات کو ایک دوسرے سے الگ رکھے گااورساتھ ہی اپنی جوہری تنصیبات کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے)سے نگرانی بھی کرائے گا ۔ اس معاہدے کو مختلف وجوہ کی بناء پر حتمی شکل دینے میں تین سال لگ گئے اور2008ء میںیہ معاہدہ ہونے کے بعد امریکہ نے 48 ممالک پر مشتمل نیشنل سپلائر گروپ (این ایس جی) کو راضی کیا کہ بھارت کوان ممالک سے سول جوہری ٹیکنالوجی کے لیے مواد اور ایندھن خریدنے کا اختیار حاصل ہو گا۔اس طرح بھارت وہ واحد ملک بن گیا جو نان پرالیفریشن ٹریٹی کا ممبرتو نہیں تھا لیکن اسے دنیا کے دوسرے ممالک سے جوہری تعاون حاصل ہو گیا۔ستمبر 2008 ء میں امریکی ایوان نمائندگان اوراکتوبر میں سینیٹ نے ایک ایکٹ کی بھی منظوری دے دی جس کے تحت بھارت امریکہ سے جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی خرید سکتا تھا۔ اس ایکٹ کو’’یو ایس،انڈیا نیوکلیئرکوآپریشن اینڈ نان پرالیفریشن انہانسمنٹ ‘‘ کا نام دیا گیااس کے بعد بھارت نے آئی اے ای اے کواپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دے دی تھی ۔ 2010 ء میں جب صدراوبامہ نے من موہن سنگھ کے دور حکومت میں بھارت کا دورہ کیاتھا تب دونوں ممالک کے درمیان 14.9 بلین ڈالر کی تجارت کے معاہدے تو ہوئے لیکن سول جوہری معاہدے پرڈیڈ لاک برقرار رہا تھا۔

اب امریکی صدر نے نریندرمودی کو سول جوہری معاہدے میں موجود رکاوٹیں دور کر کے ان کا من چاہا ’’تحفہ‘‘ ان کو دے دیا، اس طرح امریکہ بھارت تعلقات مضبوط کرنے کی کوششیں آخر کار رنگ لے ہی آئیں۔

صدر اوبامہ کا دورہ بھارت تاریخی اہمیت کا حامل ہے، جہاں وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ میں شرکت کی، وہاں وہ دو دفعہ بھارت کا دورہ کرنے والے بھی پہلے امریکی صدر ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ پہلے ہی امریکی صدر ہیں جو بھارت تک تو آئے ہوں لیکن انہوں نے پاکستان کا رخ نہ کیا ہو۔اس بات کو لے کر پاکستان میں بہت سے حلقے مایوس بھی ہیں اور ناراض بھی نظر آتے ہیں، اسی لئے شائد وہ جنرل راحیل شریف کے دورہ چین کو امریکی صدر کے دورہ بھارت سے جوڑ رہے ہیں، امریکی صدر کے نہ آنے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔حالانکہ غم و غصہ کا اظہار کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ہمیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ دنیا اب بدل چکی ہے، ہر ملک دوسرے ملک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے،یہ سرد جنگ کا زمانہ نہیں ہے،باہمی تعلقات کی اہمیت کو سمجھنے کا وقت ہے۔چین پاکستان کا دوست ہے، اپنی دوستی نبھا بھی رہا ہے لیکن وہ بھارت کے ساتھ تجارت بھی کر رہا ہے ، امریکہ نے بھی پاکستان اور روس کے درمیان معاہدے پر کسی صدمے کا اظہار نہیں کیا تو پاکستان کو بھی امریکہ بھارت معاہدوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ہمیں اس بات کا ادراک کر لینا چاہئے کہ پاکستان اور بھارت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ایک ہی دھاگے کے ساتھ نہیں باندھا جا سکتا۔پاکستان کو اپنے داخلی معاملات کی طرف توجہ دینی چاہئے،ہمیں امریکہ بھارت تعلقات سے دل چھوٹا کرنے کی بجائے اپنی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے اقدامات کرنا چاہئیں۔ایک اخباری خبر کے مطابق اوبامہ اور مودی کے درمیان ایشیاء پیسیفک اور بحر ہند کے حوالے سے مشترکہ سٹریٹجک ویژن پر اتفاق رائے بھی ہوا ہے ، جس پر اگر غور کیا جائے تو پاکستان سنٹرل ایشیا میں ممکنہ تعاون کے لئے ایک پل کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اس خطے میں پاکستان کی ایک اپنی حیثیت ہے جسے نظر انداز کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے۔

مزید :

اداریہ -