ورلڈکپ سے قبل ہی پی سی بی اورکھلاڑیوں کے مابین تنازع

ورلڈکپ سے قبل ہی پی سی بی اورکھلاڑیوں کے مابین تنازع

  

 لاہور ( سپورٹس رپورٹر )ورلڈ کپ کرکٹ2015 سے قبل ہی ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے،پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں سے تین ماہ کا معاہدہ کیالیکن کھلاڑیوں نے اس معاہدے کومسترد کردیا ہے جبکہ پی سی بی کے چیئر میں شہریار خان نے اس حوالے سے کپتان مصباح الحق سے بات کر نے کی کوشش کی تاہم کپتان اور دیگر کھلاڑی اس معاملے پر ڈٹ گئے ہیں اور کھلاڑی بغیر معاہدوں کے بیرون ملک سفر کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پی سی بی میں ایک طرف کئی عہدیدار برسوں سے کوئی کام کیے بغیر بھاری معاوضے وصول کررہے ہیں،گورننگ بورڈ میں شامل ارکان کے سیرسپاٹوں کیلیے بھی بھاری رقم مختص ہے، دوسری جانب دسمبر میں ختم ہونے والے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس میں 3ماہ کی تجدید کرکے ٹیم کو ورلڈکپ کی مشکل مہم پر روانہ کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق بورڈ کے چند عہدیداروں کا خیال تھا کہ میگا ایونٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے کھلاڑیوں سمیت چند کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی، اس صورتحال میں پورے سال کیلیے رقم کی ادائیگی گھاٹے کا سودا ہوگی، خلاف توقع سلوک پر دلبرداشتہ سینئرز نے معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کرکے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ، ذرائع کے مطابق دلبرداشتہ کرکٹرز میں بددلی پھیلنے لگی ہے جس سے ٹیم کا مورال گرنے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ کھلاڑی ورلڈکپ سے قبل سینٹرل کنٹریکٹ سائن کردیں تو بہتر ہوگا، ایک سال یا کتنی مدت ہو اس کا معاملہ بعد میں بھی دیکھا جاسکتا ہے، ایک نجی ٹی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چند شقوں میں تبدیلی کی گئی تھی، تاہم ان پر بات چیت کرکے بعد میں تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں، امید ہے کہ کھلاڑی نیوزی لینڈ میں ہی معاہدوں پر دستخط کرینگے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -