اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، سجاد اکبر

اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، سجاد اکبر

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی نے کہا ہے کہ اساتذہ کی حق تلفی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی رزلٹ ، غیر حاضری طلباء اور ڈراپ آؤٹ کی آڑ میں سزائیں دینے کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اس سے اساتذہ کا معاشرتی و معاشی استحصال ہو رہا ہے پرائمری ٹیچرز سے لیکر ایس ایس ٹی اور ہیڈماسٹرز تک کی پرموشنز میں بلاوجہ رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں جان بوجھ کر اساتذہ کے پرموشن کیسز کا اُلجھایا جا رہا ہے جس کی کوئی منطق سمجھ نہیں آتی گزشتہ کئی سالوں سے بعض اضلاع میں SST, EST, PST اور SS اساتذہ کی پرموشن اور ٹیچرز پیکیج نہیں ملا جبکہ اساتذہ کو سزائیں دینے کا عمل برق رفتاری سے مکمل کیا جارہا ہے SMCگرانٹ ہر سال تاخیر سے جاری کی جاتی ہے اور ملبہ اساتذہ پر ڈال دیا جاتا ہے ضلعی تعلیمی افسران کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے بعض مال کمانے میں لگے ہوئے ہیں انہیں اساتذہ کو درپیش مسائل کی کوئی فکر نہیں سیکیورٹی انتظامات کی آڑ میں سربراہ ادارہ اور اساتذہ کو ٹرانسفر کرنا غیر مناسب ہے ۔    پنجاب میں سینکڑوں سکولز ہیڈماسٹرز سے محروم ہیں اور ہائر سیکنڈری سکولز میں SS کی بے شمار آسامیاں خالی ہیں جسکی وجہ سے میٹرک اور ایف انٹر کا رزلٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔راہنماؤں نے مزید کہا کہ پنجاب ٹیچرز یونین انتقامی کاروائیوں کے باوجود اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ۔ جبری ریٹائرمنٹ یا انتقامی تبادلے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ وزیر اعلی پنجاب ، وزیر تعلیم پنجاب اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے مطالبہ ہے کہ 28فروری تک اساتذہ کے مسائل کو حل کیا جائے ورنہ مارچ میں ہونیوالے پنجاب ٹیچرز یونین کی مرکزی مجلسِ انتظامیہ کے اجلاس کی منظوری سے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کردیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...