مفتی 6سال کیلئے وزیراعلی ہونگے‘ بی جے پی اور پی ڈی پی کے مابین اتفاق ہوگیا

مفتی 6سال کیلئے وزیراعلی ہونگے‘ بی جے پی اور پی ڈی پی کے مابین اتفاق ہوگیا

  

 جموں(کے پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں حکومت کی تشکیل پر بی جے پی اور پی ڈی پی میں معاملات طے پا گئے ہیں ریاستی اخبار کے مطابق باری باری وزارت اعلی عہدے پر جاری تنازعہ حل ہونے کے ضمن میں بی جے پی نے اس بات کو مان لیا ہے کہ مفتی محمد سعید 6سال کیلئے وزیراعلی ہونگے۔ جموں کشمیر میں بی جے پی پی ڈی پی حکومت کیلئے سٹیج تقریبا تیار ہے تمام بڑے معاملات حل کئے گئے ہیں اوردونوں جماعتیں کم از کم مشترکہ پروگرام پربات چیت کررہے ہیں ۔ اس بات پر بھی اتفاق کرلیا گیا ہے کہ متنازعہ معاملات کو سائڈ میں رکھا جائے اور ریاست کی ترقی پر دھیان دیا جائے،جیسا کہ دونوں جماعتوں کے منشور میں درج ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت اعلی کے عہدے پر جو تنازعہ چل رہا تھا وہ حل ہوگیا ہے اور اس بات پر اتفاق کرلیا گیا ہے کہ مفتی محمد سعید 6سال کیلئے ریاست کے وزیراعلی ہونگے کیونکہ وہ ایک سینئر ترین سیاست دان ہیں۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کا عنقریب خاتمہ ہونیکی امید ظاہر کرتے ہوئے گورنر این این ووہرا نے کہاہے کہ عوامی منڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے جلد ہی ریاستی حکومت تشکیل پائے گی۔ تعمیر و ترقی کیلئے قیام امن کو لازمی قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ حد متارکہ پر مسلسل دراندازی کی وجہ سے جموں کشمیر میں قیام امن میں رخنہ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کورپشن اور عدم جوابدہی کے رجحان کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی ادارں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ گورنر نے کہا کہ ستمبر میں آئے سیلاب کے دوران 15لاکھ کنبے متاثر ہوئے۔ گورنر ووہرا نے حالیہ اسمبلی انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف سطحوں پر دھمکیوں کے باوجود لوگوں نے انتخابات میں شرکت کی اور اس دوران ووٹنگ کی بھاری شرح نظر میں آنے لگی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ایک مرتبہ پھر جمہوریت پر اعتماد دکھایا تاہم انتخابات کے بعد مہلک اسمبلی سامنے آئی ۔ گورنر کا کہنا تھا کہ ابھی ریاستی سرکار کی تشکیل کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ہی جاری تھی کہ قائمقام وزیر اعلی مستعفی ہوئے جس کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ کیا گیا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جموں کشمیر میں عنقریب ہی گورنر راج کا خاتمہ ہوگا اور عوامی منڈیٹ کو خاطر میں لاکر نئی ریاستی سرکار تشکیل پائیگی ۔ اپنے پیغام میں گورنر نے کہا کہ سرحدوں پر منفی اثرات کی وجہ سے جموں و کشمیر میں قیام امن میں رخنہ پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں قیام امن ضروری ہے کیونکہ اس کی وجہ سے تعمیراتی و ترقیاتی سطح پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ قیام امن اور قانون نافذ کرنے کو اہم قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ترقی کے لئے یہ ضروری ہے ۔

مزید :

عالمی منظر -