بہترین تعلیمی نظام متعارف اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہو گی، نظام الدین

بہترین تعلیمی نظام متعارف اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہو گی، ...

  

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)چئیرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین نے کہا ہے کہ سرکاری کالجز میں بہترین تعلیمی نظام متعارف کرانا اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہو گی۔ صوبے میں ہائرایجوکیشن کمیشن کے فروغ کے لئے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران سے استفادہ کریں گے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی میں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کردار پر منعقدہ سیمینار سے شرکاء کو آگاہ کر رہے تھے۔ تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران ، ڈین فیکلٹی آف بیہوریل اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر، فیکلٹی ممبران اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ کالجوں کو ری سٹرکچر کرنا اور ری آرگنائز کرنا بہت مشکل چیلنج ہے جس میں مختلف سٹیک ہولڈرز کی جانب سے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کہ 516 سرکاری کالجوں کی کارکردگی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری کالجوں کا بی اے کا رزلٹ 30 فیصد جبکہ 1500 نجی کالجز کا 85فیصد ہے اسی لئے سرکاری کالجوں کی بجائے نجی کالجوں کو داخلوں میں ترجیح دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کالجوں میں جاری چار سالہ پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ دو سالہ بی اے اور بی کام کی ڈگریوں سے روزگار بھی مل رہا ہے یا نہیں کیونکہ نصاب پرانا ہو چکا ہے جو کہ مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق نہیں نصاب میں بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ہائرایجوکیشن کمیشن کے تحت مختلف اقدامات اٹھائے جائیں گے جن میں اساتذہ اور سٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت کے لئے اکیڈیمی قائم کی جائے گی۔ کالجوں میں اعلیٰ معیار تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے نظام وضع کیا جائے گا۔ مختلف شہروں میں ہوم اکنامکس کی طرز پر پائلٹ کالجز کھولے جائیں گے اور میٹر ک کے بعد 4 سالہ ڈگری پروگرام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کالجز سسٹم کو فروغ دینا چاہتے ہیں جس سے لوگوں کو روزگار اور سستی تعلیم ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوٹا اداروں کی جانب سے تین سالہ ڈگری کو چار سالہ باقاعدہ ڈگری کرنا چاہتے ہیں اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کر کے کالجوں کو اس سے الحاق کر دیا جائے گا اور معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک کی صرف 8 فیصد آبادی ہائر ایجوکیشن میں داخل ہوتی ہے جبکہ یہ شرح بنگلہ دیش میں 12 ، بھارت میں 18 اور ترکی میں 29 فیصد ہے انہوں نے کہا کہ ہائرایجوکیشن تک ذیادہ سے ذیادہ رسائی اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکالجوں میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں گے اور آئی ٹی لیبارٹریاں اور بہترین لائبریریاں قائم کریں گے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ ڈاکٹر نظام الدین قائدانہ صلاحیتوں کی حامل شخصیت ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے اقدامات سے پنجاب میں ہائر ایجوکیشن کو فروغ ملے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر نے کہا کہ ڈاکٹر نظام الدین اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فنڈنگ کے ساتھ ساتھ سائنس اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں گے اور یونیورسٹیوں کے مسائل حل کریں گے۔؂

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -