پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کے زیر اہتمام مذاکرہ کا انعقاد

پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کے زیر اہتمام مذاکرہ کا انعقاد

  

لاہور(نمائندہ خصوصی )پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کے زیر اہتمام ’’ پانی زندگی ہے‘‘ کے عنوان سے مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک قرارداد کے ذریعے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ عوام کو صاف پانی فراہم کرنے کی آڑ میں جعلی کمپنیاں بنا کر خزانہ لوٹنے کی بجائے بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور گراس روٹ پر صاف پانی کی فراہمی اور صحت کے منصوبے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی نگرانی میں شروع اور مکمل کروائے جائیں۔ مذاکرہ کی صدارت مرکزی صدر یوتھ ونگ شعیب طاہر نے کی جبکہ مذاکرہ میں گفتگو کرنے والوں میں میڈیا ایڈوائزر نوراللہ صدیقی، عین الحق بغدادی، حنیف سندھیلہ، محمد عصمت شامل تھے مذاکرہ میں شریعہ کالج کے طالبعلم بھی شریک تھے شعیب طاہر نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کے حکمران ڈمی کمپنیاں بنا کر نئے انداز میں خزانہ لوٹ رہے ہیں، جعلی دوائی سے لیکر جعلی پانی کی فروخت کا کاروبار موجودہ دور میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے۔ اس ضمن میں موجودہ حکمران شرمناک حد تک غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے 15ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں یہ فنڈز جعلی کمپنیاں بنا کر خوردبرد کرنے کی منصوبہ بندی بھی ہو چکی ہے۔ ایک وفاقی وزیر اور پنجاب کی ایک اہم حکمران شخصیت صاف پانی کی فراہمی کی جعلی کمپنیاں بنا کر اربوں روپیہ لوٹنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اس ضمن میں پہلے مرحلہ میں جنوبی پنجاب کو منتخب کیا گیا ہے جہاں 5ارب روپے خرچ کیے جانے ہیں اس ضمن میں سوا ارب روپیہ جاری ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے وسائل اور اختیارات پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے بلدیاتی اداروں کے انتخابات نہیں کروائے جاتے۔حنیف سندھیلہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کو پانی سے پیدا کیا اس کی بقاء بھی پانی سے وابستہ ہے، موجودہ اور سابق کرپٹ حکومتوں نے صاف پانی مہیا کرنے کی بجائے اسے آلودہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حکمرانوں کے اس انسان دشمن کردار نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اس کاروبار کا راستہ دکھایا۔ دیکھا دیکھی قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والی بعض ناجائز منافع خور نامی گرامی شخصیات بھی حکومتی سرپرستی میں اس کاروبار میں آ گئیں جو صاف پانی کی آڑ میں موت اور بیماریاں بانٹ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں امریکہ، یورپ اور پورے خطے میں منرل واٹر سب سے زیادہ مہنگا ہے۔عین الحق بغدادی نے کہاکہ 2004 ء میں حکومتی سرپرستی میں یونین کونسل کی سطح پر صاف پانی کی فراہمی کے پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنا جسے موجودہ حکمرانوں نے اقتدار میں آتے ہی بند کر دیا کیونکہ انسانی صحت ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی جیسی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کی بجائے اسے کارپوریٹ کلچر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ناقص اور مضر صحت پانی پینے کی وجہ سے ہر دسواں پاکستانی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں امراض قلب اور امراض معدہ و پیٹ خطرناک حد تک پھیل رہے ہیں مگر موجودہ حکمرانوں کی ترجیح میں صحت مند انسانی زندگی شامل نہیں ہے۔یوتھ ونگ کے رہنما عصمت نے کہا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا نعرہ لگانے والوں نے اس ملک کے شہریوں کو صاف پانی کے ایک گلاس سے بھی محروم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی بجائے ان کی محرومیوں کو دولت اکٹھی کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ کوڑا کرکٹ اٹھانے سے لیکر پارکنگ تک کی کمپنیاں بنا کر عوام اور خزانے کو لوٹا جارہا ہے۔ شعیب طاہر نے اعلان کیا کہ پاکستان عوامی تحریک تمام سیاسی جماعتوں کے طلباء اور یوتھ سے ملکر صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور حکمرانوں کی لوٹ مار کے خلاف کیلئے ملک گیر احتجاج کرے گی اور احتجاج کے لائحہ عمل کا جلد اعلان کیا جائیگا۔ حنیف سندھیلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر کے تمام قومی و صوبائی حلقہ کے عوام، سیاسی کارکنان اپنے ایم این اے اور ایم پی اے کو ایک ہی ٹارگٹ دیں کہ اقتدار کی باقی ماندہ مدت کے اندر پورے حلقے میں صاف پانی کی فراہمی کا مستقل بنیادوں پر بندوبست کریں اور اگر وہ منتخب نمائندہ اس میں ناکام رہے تو اسے آئندہ کیلئے الیکشن میں کھڑا ہونے کی جرأت بھی نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نالیوں، سڑکوں کی مرمت کے فنڈز مانگنے کی بجائے صاف پانی مانگیں اور اس کیلئے سڑکوں پر آئیں اور احتجاج کا ہر راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام حکمران جماعت سے سوال کریں کہ اگر اس کے پاس میٹرو بس چلانے کیلئے 100ارب روپے ہیں تو صاف پانی دینے کیلئے پیسے کیوں نہیں؟

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -