جرمنی کا اسلام مخالف تحریک کیساتھ مزاکرات کرنے سے انکار

جرمنی کا اسلام مخالف تحریک کیساتھ مزاکرات کرنے سے انکار

  

 بر لن(آن لائن) جر منی کی حکو مت نے اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مستردکر تے ہو ئے کہا کہ یہ تحریک بین الاقوامی سطح پر جرمنی کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے اپنے ایک انٹرویو دیتے ہوئے اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کے بارے میں کہا ہے، ’’ہم اسے تسلیم کریں یا نہ کریں، دنیا ہماری طرف بڑی توجہ کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔‘‘جرمنی میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار ’’بِلڈ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں باآواز بلند اور سختی سے کہنا چاہیے کہ پیگیڈا کا جرمنی کے موقف سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔جرمنی میں منظر عام پر آنے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’’پیگیڈا‘‘ کے لفظ کا مطلب ہے ’’مغرب کی اسلامائزیشن کے مخالف محب وطن‘‘۔ اسلام مخالف جماعت پیگیڈا نے اپنی پہلی ریلی رواں برس اکتوبر کے اواخر میں جرمنی شہر ڈریسڈن میں نکالی تھی۔ اس جماعت کے دو سو کارکن اْس ریلی میں شریک تھے۔ دریں اثناء اس جماعت کے کارکنوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ پیگیڈا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذمے دار شہریوں سے تو بات چیت کر سکتے ہیں لیکن ’’خود ساختہ حکام‘‘ سے نہیں۔ ’’خود ساختہ حکام‘‘ کا لفظ انہوں نے پیگیڈا تحریک کے منتظمین کے لیے استعمال کیا۔ وزیر خارجہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس تنظیم کی طرف سے غیر ملکیوں کے خلاف نفرت انگیز اور نسل پرستانہ نعرے بیرون ملک جرمنی کی ساکھ کو داغ دار کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پیگیڈا نے ایک آسان ہدف تلاش کر رکھا ہے، ’’پیگیڈا کی طرف سے جرمنی کے ناکافی بنیادی ڈھانچے یا کم آبادی جیسے پیچیدہ موضوعات پر بات کرنے کی بجائے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔‘‘دریں اثناء اسلام مخالف پیگیڈا کل ڈریسڈن شہر میں تیرہواں بڑا مظاہرہ کرنے جا رہی ہے۔ یہ تنظیم جرمنی کے بڑے شہروں میں ہر ہفتے مظاہرے منعقد کرتی ہے۔ تاہم گذشتہ پیر کے روز پیگیڈا کو ڈریسڈن میں اپنا مظاہرہ دہشت گردی کے خطرے کے باعث منسوخ کرنا پڑا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -