آئرلینڈ‘ پاکستانیوں سمیت ہزاروں غیر ملکی طالب علم فیس سے ہاتھ دھو بیٹھے

آئرلینڈ‘ پاکستانیوں سمیت ہزاروں غیر ملکی طالب علم فیس سے ہاتھ دھو بیٹھے

  

 لند ن(آن لائن)برطانوی اخبار’’انڈی پینڈینٹ‘‘ کے مطابق آئر لینڈ کے تعلیم اداروں میں پاکستانی طلباء سمیت ہزاروں غیر ملکی طالب علم اپنی ہزاروں یورو کی فیس سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گزشتہ برس ایسے دس نجی تعلیم ادارے بند ہوچکے جنہوں نے غیر ملکی طالب علموں کو مختلف کورسز میں داخلے دے کر ہزاروں یوروفیس بٹور لی۔ ان طلباء کے ویزوں کی درخواستیں اس لئے مسترد کردی گئی کہیہکالج کوئی وجود ہی نہیں رکھتے۔متاثرہ طلباء فیس کی واپسی کے لئے دھکے کھا رہے ہیں مگر ان کی داد رسی کے لئے کوئی پلیٹ فارم نہیں۔متاثرہ طلباء اپنی مایوسیاں اور کربناک کہانیاں سوشل میڈیا کے ذریعے آئرلینڈ حکومت تک پہنچا رہے ہیں۔ طلباء ویزہ تنازع سے آئرلینڈ حکومت کافی پریشان ہے ،اس صورت حال نے آئرلینڈ کی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔اب وہ متاثرہ طلباء کی مدد کیلئے ٹاسک فورس اور ویب سائٹ قائم کر رہی۔محکمہ انصاف کے مطابق آئر لینڈ پولیس کو حالیہ بڑے پیمانے پر رپورٹ مقدمات کی تفصیلات کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق آئرلینڈ کے دس کالجوں کی بندش کے بعدان پر طلباء کے لاکھوں یورو واجب الاد ہے۔ان نجی کالجوں کے بند ہونے سے کم از کم 2500غیر ملکی طلباء متاثرہ ہیں جن کی فی کس رقم چھ سو پونڈ سے چھ ہزار پونڈ تک ہے۔ برطانوی اخبارکی طرف سے آزادانہ تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا طلباء ویزہ تنازع سے بیرونی دنیا میںآئر لینڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔طلبائکی کربناک انفرادی کہانیاں سامنے آئی ہیں جو ان نجی اداروں کے ہاتھ اپنی رقوم کھو چکے ہیں۔ بہت سے طلبا ء جنہوں نے ان کالجوں میں فیسیں اداکیں وہ ایک دن بھی کلاس نہیں لے پائے اور کئی توآئر لینڈ بھی نہ پہنچ پائے۔ پاکستان سے ایک طالب علم نے ڈبلن میں آئرش بزنس اسکول میں داخل لیا اور ایک سال کی پانچ ہزاریورو فیس جمع کرا دی جب کہ وہ کالج مئی میں بند ہو چکا تھا۔ کالج بند ہونے کی وجہ سے اسے ویزہ نہیں ملا۔متاثرہ طالب علم نے رقم کی واپسی کے لئے پاکستان میں کئی ذرائع سے ہاتھ پاؤ ں مارے۔اس نے جواب کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا تاہم اسے فیس کی واپسی کے امکانات نظر نہیں آئے۔

رواں ہفتے ایک اور پاکستانی طالب علم شل بورن کالج کے بند ہونے سے اپنی بھاری رقم گنوا بیٹھا۔ اس نے اپنی مایوسی کا اظہار فیس بک پر کیا۔ پاکستان میں آئرلینڈ کے کنسلٹنٹ نے اس کا پاسپورٹwithdrawn کی اسٹیمپ سے واپس کردیا۔متاثرہ پاکستانی طالب علم کا کہناتھا کہ آئر لینڈ کے تعلیمی سسٹم نے اس کی پڑھائی کے چھ ماہ اور اس کے غریب والدین کے ہزاروں یورو ضائع کردیے۔اسے کسی بھی ری فنڈ کی امید نہیں اور وہ کسی طالبعلم کو آئر لینڈ اسٹڈی کے لئے جانے کامشورہ نہیں دیں گے۔برازیل کی ایک طالبہ نے آئرلینڈ میں دو بار فیس ادا کی مگر وہ دونوں کالج بند ہوچکے ہیں۔آئرلینڈ کے محکمہ انصاف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طلبا کالج میں داخلے سے پہلے اس بات کی تصدیق کرلیں کہ جو کالج ان سے فیس لے رہا ہے اور ان کے ویزے کی درخواست التوا کا شکار ہے تو کیا وہ کالج فنڈز کا استحقاق رکھتاہے اور آئرلینڈ کسی کو اس بنیاد پر اسٹوڈنٹ ویزا دے سکتا ہے۔محکمہ تعلیم کے ترجمان کا کہناہے کہ اگر کسی طالب علم کے ویزے کی درخواست مستردہو جاتی ہے تو کالج کو اس کی فیس واپس کرنی چاہیے۔ حکومت کی طرف سے متاثرہ طلباء کی داد رسی اور ان کی تلافی کے لئے جاری منصوبے کے باوجودآئر لینڈ سمیت دنیا بھر سے وہ طلباء اپنی رقوم کی واپس کے لئے پریشان ہے۔ آئر لینڈ میں زیر تعلیم تمام بین الاقوامی طلباء کے حقوق کی ایک آزاد تنظیم کے نئے اعداد و شمار کے مطابق جن طلبا کو فیس واپس کی جانی ہے وہ رقم فی کس چھ سو سے چھ ہزار یورو تک ہے۔محکمہ انصاف نے کالجوں کی بند ش سے متاثر طلباء کی مدد کیلئے ٹاسک فورس اور ویب سائٹ قائم کی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -